باب : ہواؤں کا بیان

نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ پروا کے ذریعے میری مدد کی گئی اوربچھوا کے ذریعہ قوم عاد ہلاک کی گئی ۱∞؎(مسلم،بخاری)

عَنِ ابْن عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِكَتْ عَاد بالدبور”(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1511 ، باب : ہواؤں کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو اس طرح ہنستا نہ دیکھا کہ آپ کے جبڑے شریف دیکھ لیتی ۱∞؎آپ صرف مسکرایا کرتے تھے آپ جب بادل یا ہوا دیکھتے تو آپ کے چہرے میں اثر خوف معلوم ہوتا۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَاحِكًا حَتّٰى أَرٰى مِنْهُ لَهَوَاتِهٖ إِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ فَكَانَ إِذَا رَأٰى غَيْمًا أَوْ رِيحًا عُرِفَ فِي وَجْهِهٖ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1512 ، باب : ہواؤں کا بیان

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ جب تیز ہوا چلتی تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم عرض کرتے الٰہی میں تجھ سے ہوا کی خیر اور جو اس ہوا میں ہے اس کی خیر اور جو چیز ہوا لے کر بھیجی گئی اس کی خیر مانگتا ہوں ۱∞؎اور ہوا کے شر اور جو اس میں ہے اس کے شر سے اور جو لےکر ہوا بھیجی گئی اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور جب آسمان ابر آلود ہوتا آپ کا رنگ بدل جاتا باہر جاتے اندر آتے سامنے آتے پیچھے جاتے جب مینہ برستا تویہ کیفیت دور ہوتی حضرت عائشہ نے پہچان لیا تو اس کے بارے میں حضور سے پوچھا فرمایا اے عائشہ شاید یہ ایسا ہی ہو جیسا قوم عاد نے کہا تھا کہ جب جنگلوں کی طرف بادل آتے دیکھا تو بولے یہ ہم پر برسنے والا بادل ہے۲؎اور ایک روایت میں ہے جب بارش دیکھتے تو فرماتے خدایا رحمت ہو۔(مسلم،بخاری)

وعَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَصَفَتِ الرِّيحُ قَالَ: “اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهٖ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهٖ “ وَإِذَا تَخَيَّلَتِ السَّمَاءُ تَغَيَّرَ لَوْنَهٗ وَخَرَجَ وَدَخَلَ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ فَإِذَا مَطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ فَعَرَفَتْ ذٰلِكَ عَائِشَةُ فَسَأَلَتْهُ فَقَالَ: " لَعَلَهٗ يَا عَائِشَةُ كَمَا قَالَ قَوْمُ عَادٍ: (فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا: هٰذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا) وَفِي رِوَايَةٍ: وَيَقُولُ إِذَا رَأَى المَطَرَ “رَحْمَةً» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1513 ، باب : ہواؤں کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ غیب کی کنجیاں پانچ ہیں ۱∞؎پھر یہ آیت تلاوت کی کہ الله کے پاس ہی قیامت کا علم وہی بارش برستا ہے۔الایہ(بخاری)

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَفَاتِيحُ الْغَيْبِ خَمْسٌ ثُمَّ قَرَأَ: (إِنَّ اللهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ)الْآيَة. رَوَاهُ البُخَارِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1514 ، باب : ہواؤں کا بیان

روایت ہے ابو ہریرہ سے فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ قحط سالی یہ نہیں کہ تم پر بارش نہ ہو لیکن قحط یہ ہے کہ تم پر بارش ہو اور خوب بارش ہو مگر زمین کچھ نہ اگائے ۱∞؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “لَيْسَتِ السَّنَةُ بِأَنْ لَا تُمْطَرُوا وَلَكِنِ السَّنَةُ أَنْ تُمْطَرُوا وَتُمْطَرُوا وَلَا تُنْبِتُ الْأَرْضُ شَيْئًا” . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1515 ، باب : ہواؤں کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ہوا الله کی رحمت ہے رحمت بھی لاتی ہے عذاب بھی لہذا اسے برانہ کہو ۱∞؎الله سے اس کی خیر مانگو اور اس کی شر سے الله کی پناہ مانگو۲؎(شافعی،ابوداؤد،ابن ماجہ،بیہقی ،دعوات کبیر )

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: “الرِّيحُ مِنْ روح الله تَأْتِي بِالرَّحْمَةِ وَ بِالْعَذَابِ فَلَا تَسُبُّوهَا وَسَلُوا اللهَ مِنْ خَيْرِهَا وَعُوذُوا بِهٖ مِنْ شَرِّهَا” . رَوَاهُ الشَّافِعِي وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَ الْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1516 ، باب : ہواؤں کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ ایک شخص نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس ہوا پرلعنت کی تو فرمایا ہوا پرلعنت نہ کرو یہ تو زیر فرمان ہے اور جوکسی ایسی چیزکو لعنت کرے جو ان کے لائق نہ ہوتو لعنت خود کرنے والے پرلوٹتی ہے ۱∞؎(ترمذی)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنْ ابْن عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا لَعَنَ الرِّيحَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: “لَا تَلْعَنُوا الرِّيحَ فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ وَأَنَّهٗ مَنْ لَعَنَ شَيْئًا لَيْسَ لَهٗ بِأَهْلٍ رَجَعَتِ اللَّعْنَةُ عَلَيْهِ” . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1517 ، باب : ہواؤں کا بیان

روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ہوا کو گالی نہ دو جب تم کوئی ناپسندچیز دیکھو تو کہو الٰہی ہم تجھ سے اس ہوا کی بھلائی اور جو اس ہوا میں ہے اس کی بھلائی اورجس کا اسے حکم ہے اس کی بھلائی مانگتے ہیں اور اس ہوا کی شر سے اور جو کچھ اس میں ہے اور جس کا اسے حکم ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتے ہیں ۱∞؎(ترمذی)

وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَسُبُّوا الرِّيحَ فَإِذَا رَأَيْتُمْ مَا تَكْرَهُونَ فَقُولُوا: اَللّٰهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هٰذِهِ الرِّيحِ وَخَيْرِ مَا فِيهَا وَخَيْرِ مَا أُمِرَتْ بِهٖ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هٰذِهِ الرِّيحِ وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا أُمِرَتْ بِهٖ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1518 ، باب : ہواؤں کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سےفرماتے ہیں کہ ایسا کبھی نہ ہوا کہ ہوا چلے اور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم اپنے گھٹنوں شریف پر بیٹھ کر یہ نہ کہیں ۱∞؎کہ الٰہی اسے رحمت بنا اسے عذاب نہ بنا الٰہی اسےریاح بنا ریح نہ بناحضرت ابن عباس نے فرمایا کہ الله کی کتاب میں ہے کہ ہم نے ان پر تیز ہوا (آندھی)بھیجی اور ہم نے ان پر بانجھ ہوا بھیجی اور ہم نے حاملہ ہوائیں بھیجیں اور یہ کہ خوشخبریاں دینے والی ہوائیں بھیجیں۲؎(شافعی،بیہقی دعوات کبیر)

وَعَنْ ابْن عَبَّاسٍ قَالَ: مَا هَبَّتْ رِيحٌ قَطُّ إِلَّا جَثَا النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلیٰ رُكْبَتَيْهِ وَقَالَ: “اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهَا رَحْمَةً وَلَا تَجْعَلْهَا عَذَابًا اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهَا رِيَاحًا وَلَا تَجْعَلْهَا رِيحًا” . قَالَ ابْن عَبَّاسٍ فِي كِتَابِ اللهِ تَعَالٰى: (إِنَّا أرسلنَا عَلَيْهِم ريحًا صَرْصَرًا) و (أرسلنَا عَلَيْهِم الرّيح الْعَقِيم) (وَأَرْسَلْنَا الرِّيَاح لَوَاقِح) و (أَن يُرْسل الرِّيَاح مُبَشِّرَات) رَوَاهُ الشَّافِعِي وَالْبَيْهَقِيّ فِي الدَّعْوَاتِ الْكَبِيْرِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1519 ، باب : ہواؤں کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم جب آسمان پرکوئی شےیعنی بادل نمودار دیکھتے تو اپنے کام کاج چھوڑ دیتے اور ادھرمتوجہ ہوجاتے ۱∞؎اورکہتے الٰہی جو کچھ اس میں ہے اس کی شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں پھر اگرکھل جاتا تو الله کا شکر کرتے اور اگر بارش ہوتی تو کہتے الٰہی اسے نفع بخش بارش بنا ۲؎(ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ،شافعی)لفظ شافعی کے ہیں۔

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَبْصَرْنَا شَيْئًا مِنَ السَّمَاءِ تَعْنِي السَّحَابَ تَرَكَ عَمَلَهٗ وَاسْتَقْبَلَهٗ وَقَالَ: “اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِيهِ” فَإِنْ كَشَفَهٗ حَمِدَ الله وَإِنْ مَطَرَتْ قَالَ: “اَللّٰهُمَّ سَقْيًا نَافِعًا”. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَالشَّافِعِيّ وَاللَّفْظ لَهٗ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1520 ، باب : ہواؤں کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم جب گرج وکڑک کی آواز سنتے ۱∞؎تو کہتے کہ الٰہی ہمیں اپنے غضب سے غارت نہ کر اور اپنے عذاب سے ہمیں ہلاک نہ کر اس سے پہلے ہمیں عافیت دے۔(احمد،ترمذی)ترمذی نے کہا یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَانَ إِذَا سَمِعَ صَوْتَ الرَّعْدِ وَالصَّوَاعِقِ قَالَ: “اَللّٰهُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِكَ وَلَا تُهْلِكْنَا بِعَذَابِكَ وَعَافِنَا قَبْلَ ذٰلِكَ “ . رَوَاهُ أَحْمدُ وَالتِّرْمِذِيْ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1521 ، باب : ہواؤں کا بیان

روایت ہے حضرت عبد الله ابن زبیر سے کہ جب آپ گرج سنتے توبات چیت چھوڑ دیتے اور کہتے پاک ہے وہ کہ گرج جس کی تسبیح وحمدکرتی ہے اور فرشتے اس کے خوف سے ۱∞؎(مالک)

عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهٗ كَانَ إِذَا سَمِعَ الرَّعْدَ تَرَكَ الْحَدِيثَ وَقَالَ: سُبْحَانَ الَّذِي يُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَالْمَلَائِكَةُ مِنْ خِيْفَتِهٖ. رَوَاهُ مَالِكٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1522 ، باب : ہواؤں کا بیان