باب : عمل میں میانہ روی

نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم مہینے میں اتنا افطار فرماتے کہ گمان ہوتا آپ اس میں کوئی روزہ نہ رکھیں گے اور روزے رکھتے حتی کہ گمان ہوتا کہ آپ اس میں بالکل افطار نہ کریں گے ۱؎تم رات میں آپ کو نماز پڑھتا دیکھنا نہ چاہتے مگر دیکھ لیتے اور سوتا دیکھنا نہ چاہتے مگر دیکھ لیتے ۲؎(بخاری)

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ مِنَ الشَّهْرِ حَتّٰى يُظَنَّ أَنْ لَا يَصُومَ مِنْهُ وَيَصُومُ حَتّٰى يُظَنَّ أَنْ لَا يُفْطِرَ مِنْهُ شَيْئًا وَكَانَ لَا تَشَاءُ أَنْ تَرَاهُ مِنَ اللَّيْلِ مُصَلِّيًا إِلَّا رَأَيْتَهٗ وَلَا نَائِمًا إِلَّا رَأَيْتَهُ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1241 ، باب : عمل میں میانہ روی

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے الله کو پیارا عمل دائمی ہے اگرچہ تھوڑا ہو ۱؎(مسلم، بخاری)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1242 ، باب : عمل میں میانہ روی

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے بقدر طاقت اعمال اختیار کرو ۱؎کیونکہ الله ملال نہیں ڈالتا حتی کہ تم خود ملال میں پڑو۲؎(مسلم بخاری )

وَ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «خُذُوا مِنَ الْأَعْمَالِ تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللهَ لَا يُمِلُّ حَتّٰى تملُّوْا»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1243 ، باب : عمل میں میانہ روی

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم میں سے ہر شخص بقدر ذوق نماز پڑھے جب تھک جائے تو بیٹھ جائے ۱؎(مسلم بخاری)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهٗ وَإِذَا فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ) (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1244 ، باب : عمل میں میانہ روی

ٍ∞روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھتے ہوئے اونگھے تو سولے ۱؎حتی کہ نیند جاتی رہے کیونکہ جب کوئی اونگھتے نماز پڑھے گا تو نہیں جانے گا کہ شاید دعائے مغفرت کرے تو اپنے کو بددعا دے لے ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي فَلْيَرْقُدْ حَتّٰى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلّٰى وَهُوَ نَاعِسٌ لَا يدْرِي لَعَلَّه يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبَّ نَفْسَهٗ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1245 ، باب : عمل میں میانہ روی

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ دین آسان ہے ۱؎اور کوئی دین کو سخت نہ بنائے گا مگر دین اس پر غالب آجائے گا۲؎لہذا ٹھیک رہو خوش خبریاں دو۳؎اور صبح شام اندھیری رات کی نمازوں سے مددلو ۴؎(بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِنَّ الدِّينَ يُسْرٌ وَلَنْ يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَهٗ فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا وَاسْتَعِينُوا بِالْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ وَشَيْءٍ مِنَ الدُّلْجَةِ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1246 ، باب : عمل میں میانہ روی

روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو اپنے وظیفے یا اس کے کچھ حصے سے سو جائے پھر فجر و ظہر کے درمیان پڑھ لے تو ایسا ہی لکھا جائے گا گویا اس نے رات میں پڑھا ۱؎(مسلم)

وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهٖ أَوْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ فَقَرَأَهٗ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الظُّهْرِ كُتِبَ لَهٗ كَأَنَّمَا قَرَأَهٗ مِنَ اللَّيْلِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1247 ، باب : عمل میں میانہ روی

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ نماز کھڑے ہو کر پڑھو اگر طاقت نہ رکھو تو بیٹھ کر اگر طاقت نہ رکھو تو کروٹ پر ۱؎(بخاری)

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « صَلِّ قَائِمًا فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلیٰ جَنَبٍ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1248 ، باب : عمل میں میانہ روی

روایت ہے انہی سے کہ انہوں نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا اگر کھڑے ہو کر نماز پڑھو تو افضل ہے اور جو بیٹھ کر نماز پڑھے تو اسے کھڑے ہونے والے سے آدھا ثواب ہے ۱؎اور جو لیٹ کر نماز پڑھے تو اسے بیٹھنے سے آدھا ثواب ۲؎(بخاری)

وَعَنْہٗ : أَنَّهٗ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الرَّجُلِ قَاعِدًا. قَالَ: «إِنْ صَلّٰى قَائِمًا فَهُوَ أَفْضَلُ وَمَنْ صَلّٰى قَاعِدًا فَلَهٗ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ وَمَنْ صَلّٰى نَائِمًا فَلَهٗ نِصْفُ أَجْرِ الْقَاعِدِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1249 ، باب : عمل میں میانہ روی

روایت ہے حضرت ابی امامہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو اپنے بستر پر پاک ہو کر لیٹے ۱؎اور الله کا ذکر کرتا رہے حتی کہ اسے نیند آجائے ۲؎تو رات کی کسی گھڑی میں کروٹ نہ لیگا جس میں الله سے دنیا اور آخرت کی خیر مانگے مگر رب اسے یہ دے گا۔۳؎اسے نووی نےکتاب الاذکارمیں ابن سنی کی روایت سے ذکر کیا ۴؎

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَوٰىٰ إِلٰى فِرَاشِهٖ طَاهِرًا وَذَكَرَ اللهَ حَتّٰى يُدْرِكَهُ النُّعَاسُ لَمْ يَتَقَلَّبْ سَاعَةً مِنَ اللَّيْلِ يَسْأَلُ اللهَ فِيهَا خَيْرًا مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ» . ذَكَرَهُ النَّوَوِيُّ فِي كِتَابِ الْأَذْكَارِ بِرِوَايَةِ ابْنِ السِّنِّيْ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1250 ، باب : عمل میں میانہ روی

روایت ہے حضرت عبد الله ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ ہمارا رب دو شخصوں سے بہت راضی ہوتا ہے ایک وہ شخص جو اپنے بستر اپنے لحاف اپنے پیاروں اپنے گھروں کے درمیان سے کود کر ۱؎نماز کے لیئے کھڑا ہو رب اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے کہ میرے اس بندے کو دیکھو کہ اپنے بستر اور لحاف سے اپنے پیاروں اور گھر والوں کے درمیان سے نماز کے لیئے اٹھ کھڑا ہوا میری رحمت کی رغبت اور میرے عذاب کے خوف سے ۲؎اور ایک وہ شخص جو الله کی راہ میں جہاد کرے تو اپنے ساتھیوں کے ساتھ بھاگ جائے پھر غور کرے کہ اس پر بھاگنے میں کیا عذاب ہے اور لوٹنے میں کیا ثواب ہے تو لوٹ پڑے حتی کہ اس کا خون بہادیا جائے ۳؎تو رب تعالٰی فرشتوں سے فرماتا ہے کہ میرے بندے کو دیکھو میرے ثواب میں رغبت میرے عذاب سے خوف کرتے ہوا لوٹ پڑا حتی کہ اس کا خون بہاد یا گیا ۴؎(شرح سنہ)

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَجِبَ رَبُّنَا مِنْ رَجُلَيْنِ رَجُلٌ ثَارَ عَنْ وِطَائِهٖ وَلِحَافِهٖ مِنْ بَيْنِ حِبِّهٖ وَأَهْلِهِ الٰى صَلَاتِهٖ فَيَقُولُ اللهُ لِمَلَائِكَتِهٖ: انْظُرُوا إِلٰى عَبْدِي ثَارَ عَنْ فِرَاشِهٖ وَوِطَائِهٖ مِنْ بَيْنِ حِبِّهٖ وَأَهْلِهِ الٰى صَلَاتِهٖ رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي وَشَفَقًا مِمَّا عِنْدِي وَرَجُلٌ غَزَا فِي سَبِيلِ اللهِ فَانْهَزَمَ مَعَ أَصْحَابِهٖ فَعَلِمَ مَا عَلَيْهِ فِي الِانْهِزَامِ وَمَا لَهٗ فِي الرُّجُوعِ فَرَجَعَ حَتّٰى هُرِيقَ دَمُهٗ فَيَقُولُ اللهُ لِمَلَائِكَتِهٖ: انْظُرُوا إِلٰى عَبْدِي رَجَعَ رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي وَشَفَقًا مِمَّا عِنْدِي حَتّٰى هُرِيقَ دَمُهٗ ". رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1251 ، باب : عمل میں میانہ روی

روایت ہے حضرت عبد الله ابن عمرو سے فرماتے ہیں مجھے خبر ملی کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا مرد کی نماز بیٹھ کر آدھی نماز ہے فرماتے ہیں کہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کو بیٹھ کر نماز پڑھتے پایا تو میں نے اپنا ہاتھ آپ کے سر پر رکھا فرمایا اے عبدالله ابن عمر کیا ہے میں نے عرض کیا یارسول الله مجھے خبر ملی ہے کہ آپ نے فرمایا مرد کی نماز بیٹھ کر آدھی نماز ہے ۱؎اور آ پ خود بیٹھ کر پڑھ رہے ہیں فرمایا ہاں لیکن میں تم میں سےکسی کی طرح نہیں ہوں ۲؎(مسلم)

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: حُدِّثْتُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «صَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا نِصْفُ الصَّلَاةِ» قَالَ: فَأَتَيْتُهٗ فَوَجَدْتُهٗ يُصَلِّي جَالِسًا فَوَضَعْتُ يَدِيْ عَلیٰ رَأسهٖ فَقَالَ: «مَالك يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو؟» قُلْتُ: حُدِّثْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أَنَّكَ قُلْتَ: «صَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا عَلیٰ نِصْفِ الصَّلَاةِ» وَأَنْتَ تُصَلِّي قَاعِدًا قَالَ: «أَجَلْ وَلَكِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1252 ، باب : عمل میں میانہ روی

روایت ہے حصرت سالم ابن ابی الجعد سے فرماتے ہیں کہ خزاعہ کے ایک آدمی نے کہا کاش میں نماز پڑھ لیتا تو راحت پا جاتا، شاید لوگوں نے اس بات کو معیوب سمجھا ۱؎تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اے بلال نماز کی تکبیر کہو ہمیں اس سے راحت پہنچاؤ۲؎(ابوداؤد)

وَعَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِيْ الْجَعْدِ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ: لَيْتَنِي صَلَّيْتُ فَاسْتَرَحْتُ فَكَ أَنَّهُمْ عَابُوا ذٰلِكَ عَلَيْهِ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَقِمِ الصَّلَاةَ يَا بِلَالُ أَرِحْنَا بِهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1253 ، باب : عمل میں میانہ روی