- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- پاکی کی کتاب
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
پاکی کی کتاب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1
روایت ہے حضرت طلق ابن علی سے فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا کہ جو وضو کے بعد عضو خاص کو چھوئے فرمایا وہ بھی تو جسم انسانی کا ہی حصہ ہے ۱؎ابوداؤد،ترمذی،نسائی اور ابن ماجہ نے اس کی مثل روایت کیا اور شیخ اماممحی السنۃنے فرمایا کہ یہ حکم منسوخ ہے
وَعَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَسِّ الرَّجُلِ ذَكَرَهٗ بَعْدَ مَا يَتَوَضَّأْ. قَالَ: "وَهَلْ هُوَ إِلَّا بِضْعَةٌ مِنْهُ؟ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ، وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ نَحْوَهُ وَقَالَ الشَّيْخُ الإِمَامُ مُحْيِي السُّنَّةِ: هَذَا مَنْسُوْخٌ لِأَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَسْلَمَ بَعْدَ قُدُوْمِ طَلْقٍ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 320 ، باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
کیونکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ طلق کے آنے کے بعد اسلام لائے۔ اورحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی،حضور نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنا ہاتھ عضو خاص تک پہنچائے کہ بیچ میں آڑ نہ ہو تو وضو کرے ۱؎اسے شافعی اور دار قطنی نے روایت کیا۔
وَقَدْ رَوَى أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِذَا أَفْضٰى أَحَدُكُمْ بِيَدِهٖ إِلٰی ذَكَرِهٖ لَيْسَ بَيْنَهٗ وَبَيْنَهَا شَيْءٌ فَلْيَتَوَضَّأْ". رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ وَالدَّارقُطْنِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 321 ، باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
اور نسائی نے حضرت بُسرہ سے مگر انہوں نے یہ ذکر نہ کیا کہ بیچ میں آڑ نہ ہو۔
وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ عَنْ بُسْرَةَ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ: لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا شَيْءٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 322 ، باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بعض بیویوں کا بوسہ لیتےپھر نماز پڑھ لیتے اور وضو نہ کرتے ۱؎اسے ابوداؤد،ترمذی اور نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا اور ترمذی نے فرمایا کہ ہمارے ساتھیوں کے نزدیک کسی حالت میں بھی عروہ کی حضرت عائشہ سے اسناد صحیح نہیں ۲؎نیز ابراہیم تیمی کی اسناد انہی حضرت عائشہ سے ہے۔اور ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ حدیث مرسل ہے ابراہیم تیمی نے حضرت عائشہ سے نہ سنا۳؎
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ بَعْضَ أَزْوَاجِهٖ ثُمَّ يُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: لَا يَصِحُّ عِنْدَ أَصْحَابِنَا بِحَالٍ إِسْنَادُ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ، وَأَيْضًا إِسْنَادُ إِبْرَاهِيْمَ التَّيْمِيِّ عَنْهَا. وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا مُرْسَلٌ وَإِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ لَمْ يَسْمَعْ عَنْ عَائِشَةَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 323 ، باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے فرماتے ہیں کہ رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے شانہ کھایا،پھر اپنا ہاتھ اس ٹاٹ سے پونچھا جو آپ کے نیچے تھاپھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھ لی ۱؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَكَلَ رَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَتِفًا ثُمَّ مَسَحَ يَدَهٗ بِمِسْحٍ كَانَ تَحْتَهٗ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 324 ، باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
روایت ہے حصرت ام سلمہ رضی اللہ عنھا سے فرماتی ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھنی ہوئی پسلیاں پیش کیں حضور نے اس میں سے کھایا،پھر نماز کی طرف کھڑے ہوگئے اور وضو نہ کیا ۱؎(احمد)
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ -رَضِيَ اللهُ عَنْهَا- أَنَّهَا قَالَتْ: قَرَّبْتُ إِلَى النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَنْبًا مَشْوِيًّا فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 325 ، باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
روایت ہے حضرت ابو رافع سے فرماتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بکری کا پیٹ بھونتا تھا ۱؎پھر حضور نماز پڑھتے اور وضو نہ کرتے۔(مسلم)
عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: أَشْهَدُ لَقَدْ كُنْتُ أَشْوِيْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَطْنَ الشَّاةِ ثُمَّ صَلّٰى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 326 ، باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں میرے پاس بکری ہدیۃً بھیجی گئی اسے ہانڈی میں ڈالا،پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے فرمایا ابو رافع !یہ کیا ہے؟ عرض کیا یارسولاللہیہ بکری ہے جو ہمیںھدیۃًملی پھر ہم نے ہانڈی میں پکالیا،فرمایا اے ابورافع! ہم کو ایک دستی دو ۱؎میں نے دستی پیش کی،پھر فرمایا کہ دوسرا دست بھی دو میں نے دوسری دستی بھی پیش کی۲؎پھر فرمایا اے ابو رافع! اور دست لاؤعرض کیا یارسولاللہبکری کے دو ہی دست ہوتے ہیں تب ان سے رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم خاموش رہتے تو تم ہم کو دست پر دست دیتے رہتے جب تک خاموش رہتے ۳؎پھر پانی منگایاپھر منہ کی کلی کی اور اپنے پَورے دھوئے ۴؎پھر کھڑے ہوئے تب نماز پڑھی پھر واپس تشریف لائے تو ان کے پاس ٹھنڈا گوشت پایاکھایا پھر مسجد میں تشریف لائے نماز پڑھی پانی چھوا بھی نہیں ۵؎اسے احمد نے روایت کیا۔
وَعَنْهُ قَالَ: أُهْدِيَتْ لَهٗ شَاةٌ فَجَعَلَهَا فِي الْقِدْرِ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ: "مَا هٰذَا يَا أَبَا رَافِعٍ؟ فَقَالَ: شَاةٌ أُهْدِيَتْ لَنَا يَا رَسُوْلَ اللهِ فَطَبَخْتُهَا فِي الْقِدْرِ، قَالَ: "نَاوِلْنِيْ الذِّرَاعَ يَا أَبَا رَافِعٍ"، فَنَاوَلْتُهٗ الذِّرَاعَ، ثُمَّ قَالَ: "ناوِلْنِي الذِّرَاعَ الآخَرَ"، فَنَاوَلْتُهُ الذِّرَاعَ الآخَرَ، ثُمَّ قَالَ: "نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ الآخَرَ"، فَقَالَہٗ: يَا رَسُوْلَ اللهِ! إِنَّمَا لِلشَّاةِ ذِرَاعَانِ، فَقَالَ لَهٗ رَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَمَا إِنَّكَ لَوْ سَكَتَّ لَنَاوَلْتَنِي ذِرَاعًا فَذِرَاعًا مَا سَكَتَّ"، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَتَمَضْمَضَ فَاهُ وَغَسَلَ أَطْرَافَ أَصَابِعِهٖ، ثُمَّ قَامَ فَصَلّٰى، ثُمَّ عَادَ إِلَيْهِمْ فَوَجَدَ عِنْدَهُمْ لَحْمًا بَارِدًا فَأَكَلَ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً. رَوَاهُ أَحْمَدُ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 327 ، باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
اور دارمی نے ابو عبید سے روایت کیا،مگر انہوں نے "ثُمَّ دَعَا"الخ کا ذکر نہ کیا۔
وَرَوَاهُ الدَّارِمِيُّ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ: ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ إِلٰی آخِرِهٖ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 328 ، باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
روایت ہے حضرت انس بن مالک سے فرماتے ہیں کہ میں اوراُبی اور ابوطلحہ ۱؎بیٹھے ہوئے تھے ہم نے گوشت و روٹی کھائی پھر میں نے وضو کا پانی منگایا۲؎تو ان دونوں نے فرمایا کہ کیوں وضو کرتے ہو،میں نے کہا اس کھانے کی وجہ سے جو ہم نے کھایاوہ بولے کیا تم حلال چیزوں سے وضو کرتے ہو؟۳؎اس سے تو انہوں نے بھی وضو نہ کیا جو تم سے بہتر ہیں۔(احمد)
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَأُبَيٌّ وَأَبُو طَلْحَةَ جُلُوْسًا فَأَكَلْنَا لَحْمًا وَخُبْزًا ثُمَّ دَعَوْتُ بِوَضُوْءٍ، فَقَالَا: لِمَ تَتَوَضَّأُ؟ فَقُلْتُ: لِهٰذَا الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْنَا، فَقَالَا: أَتَتَوَضَّأُ مِنَ الطَّيِّبَاتِ لَمْ يَتَوَضَّأْ مِنْهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 329 ، باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
روایت ہے حضرت ابن عمرسے فرماتے تھے کہ مرد کو اپنی بیوی کا بوسہ لینا اور اسے اپنے ہاتھ سے چھونا ملامست ہے،جو اپنی بیوی کو چومے یا اپنے ہاتھ سے چھوئے تو اس پر وضو ہے ۱؎(مالک وشافعی)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ: قُبْلَةُ الرَّجُلِ امْرَأَتَهٗ وَجَسُّهَا بِيَدِهٖ مِنَ الْمُلَامَسَةِ. وَمَنْ قَبَّلَ امْرَأَتَهٗ أَوْ جَسَّهَا بِيَدِهٖ فَعَلَيهِ الْوُضُوْءُ. رَوَاهُ مَالِكٌ وَالشَّافِعِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 330 ، باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے وہ فرماتے تھے کہ مردکو اپنی بیوی کا بوسہ لینے سے وضو ہے ۱؎(مالک)
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ كَانَ يَقُولُ: مِنْ قُبْلَةِ الرَّجُلِ امْرَأَتَهٗ الْوُضُوْءُ. رَوَاهُ مَالِكٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 331 ، باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بوسہلمسسے ہے لہذا اس سے وضو کرو ۱؎
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ الْقُبْلَةَ مِنَ اللَّمْسِ فَتَوَضَّؤُوْا مِنْهَا.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 332 ، باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
روایت ہے حضرت عمر بن عبدالعزیز سے وہ تمیم داری سے ۱؎راوی فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر بہتے خون سے وضو ہے ۲؎ان دونوں حدیثوں کو دارقطنی نے روایت کیااور فرمایا کہ عمربن عبدالعزیز نے تمیم داری سے نہ سنا نہ انہیں دیکھااور یزیدابن خالداور یزیدابن محمدمجہول لوگ ہیں ۳؎
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ تَمِيْمِ الدَّارِيّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "الْوُضُوءُ مِنْ كُلِّ دَمٍ سَائِلٍ". رَوَاهُمَا الدَّارَقُطْنِيُّ، وَقَالَ: عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ وَلَا رَآهُ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ وَيزِيدُ ابْنُ مُحَمَّدٍ مَجْهُولَانِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 333 ، باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- 1
- 2