- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- پاکی کی کتاب
- باب : پاکی کا بیان
باب : پاکی کا بیان
پاکی کی کتاب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1
روایت ہے حضرت ابو مالک اشعری سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ پاکی نصف ایمان ہے ۲؎اورالحمدﷲترازو بھردے گی۳؎اورسبحان اللّٰهاورالحمدﷲآسمان و زمین کے درمیان کو بھردیتے ہیں ۴؎اور نماز روشنی ہے ۵؎خیرا ت دلیل ہے ۶؎صبر چمک ہے ۷؎قرآن تیری یا تجھ پر حجۃ ہے ۸؎ہر شخص صبح پاتا ہے تو اپنا نفس بیچتا ہے تو یا نفس کو آزاد کرتا ہے یا ہلاک ۹؎مسلم نے روایت کی اور ایک روایت میں یوں ہے کہلا الہ الا اللّٰهاوراللّٰه اکبرآسمان و زمین کے درمیان کو بھردیتے ہیں میں نے یہ روایت نہ مسلم و بخاری میں پائی نہ کتاب حمیدی میں نہ جامع میں لیکن اسے دارمی نے ذکر کیا اورسبحان اللّٰهکی بجائےالحمدﷲذکر کیا ۱۰؎
عَن أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ وَسُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ تَمْلَآنِ - أَوْ تَمْلَأُ - مَا بَيْنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالصَّلَاةُ نُورٌ وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَائِعٌ نَفْسَهٗ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوْبِقُهَا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي رِوَايَةٍ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ تَمْلَآنِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ» . لَمْ أَجِدْ هٰذِهِ الرِّوَايَةَ فِي الصَّحِيْحَيْنِ وَلَا فِي كِتَابِ الْحُمَيْدِيِّ وَلَا فِي «الْجَامِعِ»وَلٰكِنْ ذَكَرَهَا الدَّارِمِيُّ بَدْلَ «سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ للهِ»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 281 ، باب : پاکی کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جس سےاللہخطائیں مٹا دے درجے بلند کردے ۱؎لوگوں نے عرض کیا ہاں یا رسولاللہ۲؎فرمایا وضوءپورا کرنا مشقتوں میں ۳؎مسجد کی طرف زیادہ قدم رکھنا ۴؎نماز کے بعد نماز کا انتظار کرنا۵؎یہ ہے سرحد کی حفاظت ۶؎
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلٰى مَا يَمْحُو اللّٰهُ بِهِ الْخَطَايَا يَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ؟ " قَالُوا: بَلٰى يَا رَسُولَ اللهِ! قَالَ "إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطٰى إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَذالِكُمُ الرِّبَاطُ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 282 ، باب : پاکی کا بیان
اور مالک ابن انس کی حدیث میں ہے کہ یہ سرحد کی حفاظت،یہ ہے سرحدکی حفاظت دوباراسےمسلم نے روایت کیا ترمذی کی روایت میں تین بارہے۔
و َفِي حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ: "فَذٰلِكُمُ الرِّبَاطُ فَذٰلِكُمُ الرِّبَاطُ". مَرَّتَيْنِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةِ التِّرْمِذِيِّ: ثَلَاثًا.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 283 ، باب : پاکی کا بیان
روایت ہے حضرت عثمان سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو وضو کرے تو اچھا وضوکرے اس کی خطائیں اس کےجسم سے نکل جاتی ہیں،تاآنکہ اس کے ناخنوں کے نیچے سے نکل جاتی ہیں ۱؎(مسلم،بخاری)
وعَنْ عُثْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :"مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ جَسَدِهٖ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِهٖ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 284 ، باب : پاکی کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب مسلمان بندہ یا مؤمن وضو کرنے لگتا ہے اپنا چہرہ دھوتا ہے توا س کے چہرے سے ہر وہ خطا نکل جاتی ہے جدھر آنکھوں سے دیکھا ہوپانی یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ ۱؎پھر جب اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو ہاتھوں سے وہ ہر خطا نکل جاتی ہے جسے اس کے ہاتھ نے پکڑا تھا پانی یا پانی کی آخری بوند کے ساتھ۲؎پھر جب اپنے پاؤں دھوتاہے تو ہروہ خطا نکل جاتی ہے جدھر اس کے پاؤں چلے پانی یاپانی کے آخری قطرہ کے ساتھ حتی کہ گناہوں سے پاک و صاف نکل جاتاہے۳؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ -أَوِ الْمُؤْمِنُ- فَغَسَلَ وَجْهَهٗ خَرَجَ مِنْ وَجْهِهٖ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنَيْهِ مَعَ الْمَاءِ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ،فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَ مِنْ يَدَيْهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ كانَ بَطَشَتْهَا يَدَاهُ مَعَ الْمَاءِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ-، فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَ كُلُّ خَطِيئَةٍ مَشَتْهَا رِجْلَاهُ مَعَ الْمَاءِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ حَتّٰى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنَ الذُّنُوْبِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 285 ، باب : پاکی کا بیان
روایت ہے حضرت عثمان سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ایسا کوئی مسلمان نہیں کہ جس پر فرض نماز آئے ۱؎تو اس کا وضو وخشوع ورکوع اچھی طرح کرے۲؎مگر یہ اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے،جب تک کہ گناہ کبیرہ نہ کیا ہو۳؎یہ ہمیشہ ہی ہوتا ہے ۴؎(مسلم)
وَعَنْ عُثْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَا مِنِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ تَحْضُرُهُ صَلَاةٌ مَكْتُوبَةٌ. فَيُحْسِنُ وُضُوءَهَا وَخُشُوعَهَا وَرُكُوعَهَا إِلَّا كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهَا مِنَ الذُّنُوبِ مَا لَمْ يُؤْتِ كَبِيرَةً،وَذٰلِكَ الدَّهْرَ كُلَّهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 286 ، باب : پاکی کا بیان
روایت ہے انہی سے کہ آنجناب نے وضو کیا تو ہاتھوں پر تین بار پانی بہایا پھر کلی کی ناک میں پانی لیا ۱؎پھرتین بارچہرہ دھویا پھرکہنی تک داہنا ہاتھ تین بار پھربایاں ہاتھ تین بار دھویاکہنی تک پھر سر کا مسح کیا ۲؎پھرداہنا پھر بایاں پاؤں تین تین بار دھوئے پھر فرمایا کہ میں نے رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے میرے وضو کی طرح وضو کیا۳؎پھر فرمایا جو میری طرح وضوءکرے پھر دو نفل پڑھ لے جن میں اپنے دل سے کچھ باتیں نہ کرے تو اس کے پچھلے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے۴؎(مسلم،بخاری)اور لفظ بخاری کے ہیں۔
وَعَنْهُ أَنَّهُ تَوَضَّأَ فَأَفْرَغَ عَلٰى يَدَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهٗ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنٰى إِلَى الْمَرْفِقِ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرٰى إِلَى الْمَرافِقِ ثَلَاثًا، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهٖ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنٰى ثَلَاثًا، ثُمَّ الْيُسْرٰى ثَلَاثًا،ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِيْ هٰذَا، ثُمَّ قَالَ: "مَنْ تَوَضَّأَ وُضُوئِي هٰذَا ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ نَفْسَهٗ فِيهِمَا بِشَيْءٍ، غُفِرَ لَهٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهٖ". مُتَّفقٌ عَلَيْهِ. وَلَفْظُهٗ للْبُخَارِيِّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 287 ، باب : پاکی کا بیان
روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کوئی مسلمان نہیں جو وضو کرے تو اچھا کرے پھر کھڑے ہوکردونفل دل اور منہ سے متوجہ ہوکر پڑھے۲؎مگر اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے ۳؎(مسلم)
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهٗ ثُمَّ يَقُوْمُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ مُقْبِلاً عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهٖ وَوَجْهِهٖ إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 288 ، باب : پاکی کا بیان
روایت ہے حضرت عمرابن خطاب سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں ایسا کوئی نہیں جو وضوکرے تو مبالغہ کرے یا پورا وضو کرے ۱؎پھر کہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہاللہکے سوا کوئی معبود نہیں اور یقینًا محمد اس کے بندے اور رسول ہیں اور ایک روایت میں یوں ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہاللہکے سوا کوئی معبودنہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی ساجھی نہیں اور محمداس کے بندے اور رسول ہیں ۲؎مگر اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھولے جائیں گے کہ جس سے چاہے گھسے۳؎ایسے ہی مسلم نے اپنی صحیح میں اور حمیدی نے افراد مسلم میں روایت کی یوں ہی ابن اثیر نے جامع الاصول اور شیخ محی الدین نووی نے ۴؎حدیث مسلم کے آخر میں ہماری روایت کے مطابق اور ترمذی نے یہ اور زیادہ فرمایا کہ خدایا مجھے توبہ والوں سے بنا اور مجھے خوب ستھروں سے کر ۵؎اور جو حدیثمحی السنہنے صحاح میں روایت کی کہ جس نے وضوء کیا تو اچھا کیا الخ اسے ترمذی نے اپنی جامع میں اسی طرح روایت کیا سوا کلمہاَشْہَدُکےاَنَّ مَُحَّمدًاسے پہلے۶؎
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُبْلِغُ أَوْ فَيُسْبِغُ الْوُضُوءَ ثُمَّ يَقُوْلُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُولُهٗ وَفِي رِوَايَةٍ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيْكَ لَهٗ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُولُهٗ إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةُ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ ". هٰكَذَا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي صَحِيْحِهٖ وَالْحُمَيْدِيُّ فِي أَفْرَادِ مُسْلِمٍ وَكَذَا ابْنُ الْأَثِيْرِ فِيْ جَامِعِ الْأُصُوْلِ وَذَكَرَ الشَّيْخُ مُحْيِ الدِّيْنِ النَّوَوِيُّ فِي آخِرِ حَدِيْثِ مُسْلِمٍ عَلٰى مَا رَوَيْنَاهُ وَزَادَ التِّرْمِذِيُّ:«اَلّٰلهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِيْنَ وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِيْنَ» وَالْحَدِيْثُ الَّذِيْ رَوَاهُ مُحْيِيْ السُّنَّةِ فِي الصِّحَاحِ: «مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوْءَ» إِلٰى آخِرِهِ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ فِي جَامِعِهٖ بِعَيْنِهٖ إِلَّا كَلِمَةَ «أَشْهَدُ» قَبْلَ «أَنَّ مُحَمَّدًا»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 289 ، باب : پاکی کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میری امت قیامت کے دن پنج کِلیان بلائی جائے گی آثار وضو سے ۱؎تو جو اپنی چمک دمک دراز کرسکے تو کرے ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ أُمَّتِي يُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يُطِيلَ غُرَّتَه فَلْيفْعَلْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 290 ، باب : پاکی کا بیان
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے کہ مؤمن کا زیوروہاں تک ہی پہنچے گا جہاں تک وضو کا پانی پہنچے ۱؎(مسلم)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "تَبْلُغُ الْحِلْيَةُ مِنَ الْمُؤْمِنِ حَيْثُ يَبْلُغُ الْوَضُوءُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 291 ، باب : پاکی کا بیان
روایت ہے حضرت ثوبان سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ سیدھے رہو مگر تم یہ کر نہ سکو گے۲؎اور جان رکھو کہ تمہارا بہترین عمل نماز ہے ۳؎اور وضوءکی حفاظت مؤمن ہی کرتا ہے ۴؎اسے مالک،احمد،ابن ماجہ،اور دارمی نے روایت کیا۔
عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اِسْتَقِيْمُوْا وَلَنْ تُحْصُوْا، وَاعْلَمُوْا أَنَّ خَيْرَ أَعْمَالِكُمُ الصَّلَاةُ، وَلَا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ". رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 292 ، باب : پاکی کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عمرسے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو پاکی پر وضو کرے اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں ۱؎(ترمذی)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ تَوَضَّأَ عَلٰى طُهْرٍ كُتِبَ لَهٗ عَشْرُ حَسَنَاتٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 293 ، باب : پاکی کا بیان
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جنت کی چابی نماز ہے اور نماز کی چابی پاکی ۱؎(احمد)
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مِفْتَاحُ الْجَنَّةِ الصَّلَاةُ، وَمِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 294 ، باب : پاکی کا بیان
روایت ہے شبیب ابن ابی روح سے ۱؎وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی سے راوی ۲؎کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر پڑھی سورۂ روم کی قرأت کی تو آپ کو متشابہ لگ گیا جب نماز پڑھ چکے تو فرمایا لوگوں کا کیا حال ہے کہ ہمارے ساتھ نمازیں پڑھتے ہیں۔طہارت اچھی طرح نہیں کرتے ۳؎ہم پر یہ ہی لوگ قرآن مشتبہ کردیتے ہیں ۴؎(نسائی)
وَعَنْ شَبِيْبِ بْنِ أَبِي رَوْحٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلّٰی صَلَاةَ الصُّبْحِ فَقَرَأَ الرُّومَ فَالْتبَسَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا صَلّٰی قَالَ: "مَا بَالُ أَقْوَامٍ يُصَلُّونَ مَعَنَا لَا يُحْسِنُونَ الطَّهُورَ؟ وَإِنَّمَا يُلَبِّسُ عَلَيْنَا الْقُرْآنَ أُولٰئِكَ". رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 295 ، باب : پاکی کا بیان
روایت ہے بنی سُلَیم کے ایک صاحب سے ۱؎فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے یا اپنے ہاتھ یہ چیزیں گنائیں فرمایا تسبیح آدھی ترازو ہے اورالحمدﷲاسے بھردے گی ۲؎اور تکبیر آسمان و زمین کے درمیان کو بھر دیتی ہے اور روزہ آدھا صبرہے ۳؎اور پاکی آدھا ایمان ہے اسے ترمذی نے روایت کیااورفرمایا یہ حدیث حسن ہے۔
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ قَالَ: عَدَّهُنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِيْ أَوْ فِي يَدِهٖ قَالَ: "التَّسْبِيْحُ نِصْفُ الْمِيزَانِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ يَمْلَؤُهٗ، وَالتَّكْبِيرُ يَمْلأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ،وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبْرِ، وَالطُّهُورُ نِصْفُ الإِيْمَانِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 296 ، باب : پاکی کا بیان
روایت ہے عبداللہصنابحی سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بندۂ مؤمن جب وضو کرنے لگے کلی کرے تو خطائیں اس کے منہ سے نکل جاتی ہیں ۲؎اور جب ناک میں پانی لے تو خطائیں اس کے ناک سے نکل جاتی ہیں اور جب اپنا منہ دھوئے تو خطائیں اس کے چہرے سے نکل جاتی ہیں ۳؎حتی کہ اس کی آنکھوں کی پلکوں کے نیچے سے نکلتی ہیں،اور جب اپنے ہاتھ دھوئے تو خطائیں ہاتھوں سے نکل جاتی ہیں حتی کہ ہاتھوں کے ناخنوں کے نیچے سے نکل جاتی ہیں اور جب اپنے سر کا مسح کرے تو خطائیں اس کے سر سے نکل جاتی ہیں حتی کہ اس کے کانوں سے نکل جاتی ہیں ۴؎پھر جب پاؤں دھوئے تو خطائیں اس کے پاؤں سے نکل جاتی ہیں حتی کہ پاؤں کے ناخنوں کے نیچے سے نکل جاتی ہیں ۵؎پھر اس کا مسجد کی طرف جانا اور نماز پڑھنا زیادتی ہوتی ہے ۶؎(مالک ونسائی)
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ الصُّنَابَحِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ فَمَضْمَضَ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ فَمِہٖ، وَإِذَا اسْتَنْثَرَ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ أَنْفِهٖ، وِإذَا غَسَلَ وَجْهَهٗ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ وَجْهِهٖ حَتّٰى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَشْفَارِ عَيْنَيْهِ، فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ يَدَيْهِ حَتّٰى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ يَدَيْهِ، فَإِذَا مَسَحَ بِرَأْسِهٖ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ رَأْسِهٖ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ أُذُنَيْهِ، فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ رِجْلَيْهِ حَتّٰى تَخْرُجَ مِنْ أَظْفَارِ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ كَانَ مَشْيُهٗ إِلَى الْمَسْجِدِ وَصَلَاتُهٗ نَافِلَةً لَهُ". رَوَاهُ مَالِكٌ وَالنَّسَائِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 297 ، باب : پاکی کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم قبرستان تشریف لے گئے تو فرمایا اے مؤمن قوم کی جماعت تم پر سلام ہو ۱؎ان شاءاللّٰهہم بھی تم سے ملنے والے ہیں ۲؎مجھے یہ تمنا ہے کہ اپنے بھائیوں کو دیکھتا ۳؎صحابہ نے عرض کیایارسولاللہکیا ہم آپ کے بھائی نہیں فرمایا تم میرے ساتھی دوست ہو،ہمارے بھائی وہ ہیں جو اب تک آئے نہیں ۴؎لوگوں نے عرض کیا،کیا آپ کے جو امتی اب تک نہیں آئے انہیں حضور کیسے پہچانیں گے؟۵؎فرمایا بتاؤ تو اگر کسی شخص کے گھوڑے پنج کلیان ہوں اور وہ نہایت سیاہ گھوڑوں میں مخلوط ہوگئے ہوں کیا یہ اپنے گھوڑے نہ پہچان لے گا ؟۶؎بولے ہاں یارسولاللہ!فرمایا وہ آثار وضو سے پنج کلیان آئیں گے اور میں حوض پر ان کا پیش رَوہوں گا ۷؎
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَى الْمَقْبَرَةَ فَقَالَ: "السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللّٰهُ بِكُمْ لَاحِقُوْنَ، وَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا"، قَالُوْا: أَوَلَسْنَا إِخْوَانَكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: "أَنْتُمْ أَصْحَابِي، وَإخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ"، فَقَالُوا: كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ يَأْتِ بَعْدُ مِنْ أُمَّتِكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ: "أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا لَهُ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ بَيْنَ ظَهْرَيْ خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ أَلَا يَعْرِفُ خَيْلَهُ؟ "، قَالُوا: بَلٰی يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: "فَإِنَّهُمْ يَأْتُوْنَ غُرًّا مُحَجَّلِيْنَ مِنَ الْوُضُوءِ، وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 298 ، باب : پاکی کا بیان
روایت ہے حضرت ابودراءسے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں پہلا وہ ہوں جسے قیامت کے دن سجدے کی اجازت ملے گی اور میں ہی پہلا وہ ہوں جسے سر اٹھانے کی اجازت ملے گی ۱؎تو اپنے سامنے بھیڑ دیکھوں گا تو تمام امتوں میں سے اپنی امت کو پہچان لوں گا اور میرے پیچھے بھی اسی طرح اور میرے داہنے بھی اسی طرح اور میرے بائیں بھی اسی طرح ہوں گے۲؎تب ایک صاحب نے عرض کیا کہ یارسولاللہ!آپ نوح علیہ السلام سے اپنی امت تک کی اتنی امتوں میں اپنی امت کو کیسے پہچانیں گے؟۳؎فرمایا وہ آثار وضو سے پنج کلیاں ہوں گے ان کے سوا اورکوئی ایسا نہ ہوگا۴؎اور انہیں یوں پہچانوں گا کہ ان کی کتابیں ان کے داہنے ہاتھ میں ہوں گی ۵؎اور ایسے پہچانوں گا کہ انکے بچے ان کے آگے دوڑتے ہوں گے۶؎(احمد)
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَنَا أَوَّلُ مَنْ يُؤْذَنُ لَهٗ بِالسُّجُودِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يُؤْذَنُ لَهٗ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهٗ، فَأنْظُرُ إِلٰى مَا بَيْنَ يَدَيَّ، فَأَعْرِفُ أُمَّتِي مِنْ بَيْنِ الأُمَمِ، وَمِنْ خَلْفِي مِثْلُ ذٰلِكَ، وَعَنْ يَمِيْنِيْ مِثْلُ ذٰلِكَ، وَعَنْ شِمَالِيْ مِثْلُ ذٰلِكَ"، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُوْلَ اللهِ! كَيْفَ تَعْرِفُ أُمَّتَكَ مِنْ بَيْنِ الأُمَمِ فِيمَا بَيْنَ نُوحٍ إِلٰى أُمَّتِكَ؟ قَالَ: "هُمْ غُرٌّ مُحَجَّلُوْنَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ لَيْسَ أَحَدٌ كَذٰلِكَ غَيْرُهُمْ، وَأَعْرِفُهُمْ أَنَّهُمْ يُؤْتُوْنَ كُتَبَهُمْ بِأَيْمَانِهِمْ، وَأَعْرِفُهُمْ تَسْعٰى بَين أَيْدِيهِمْ ذُرَّيَّتُهُمْ". رَوَاهُ أَحْمَدُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 299 ، باب : پاکی کا بیان