- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- پاکی کی کتاب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
باب : پاخانے کے آداب کا باب
پاکی کی کتاب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1
روایت ہے ابو ایوب انصاری سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم پاخانہ جاؤ تو قبلہ کی طرف منہ نہ کرو اور نہ پیٹھ لیکن یا تو پورب کی طرف ہوجاؤ یا پچھم کی طرف ۲؎(مسلم،بخاری) فرمایا شیخ اماممحی السنۃرحمۃاللہعلیہ نے کہ یہ حدیث جنگل کے متعلق ہے،لیکن آبادی میں کوئی حرج نہیں،
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا أَتَيْتُمُ الْغَائِطَ فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوْهَا وَلٰكِنْ شَرِّقُوْا أَوْ غَرِّبُوْا مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. قَالَ الشَّيْخُ الإِمَامُ مُحْيِي السُّنَّةِ رَحِمَهُ اللهُ:هٰذَا الْحَدِيثُ فِي الصَّحْرَاءِ، وَأَمَّا فِي الْبُنْيَانِ فَلَا بَأْسَ لِمَا رُوِيَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 334 ، باب : پاخانے کے آداب کا باب
اس لیئے کہ حضرت عبداللہابن عمر سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں حضرت حفصہ کے گھر کی چھت پر کسی کام کے لیئے چڑھا تو میں نے رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ قبلہ کو پیٹھ شام کی طرف منہ کئے قضائے حاجت فرما رہے ہیں ۱؎(مسلم،بخاری)
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: اِرْتَقَيْتُ فَوْقَ بَيْتِ حَفْصَةَ لِبَعْضِ حَاجَتِيْ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِيْ حَاجَتَهٗ مُسْتَدْبِرَ الْقبْلَةِ مُسْتَقْبِلَ الشَّامِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 335 ، باب : پاخانے کے آداب کا باب
روایت ہے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ہم کورسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ ہم پیشاب پاخانہ کے وقت قبلہ کو منہ نہ کریں یا داہنے ہاتھ سے استنجاءکریں یا تین پتھروں سے کم سے استنجاء کریں ۲؎یا گوبر یا ہڈی سے استنجاء کریں ۳؎(مسلم)
وَعَنْ سَلْمَانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: نَهَانَا -يَعْنِي رَسُوْلُ الله -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ لِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ، أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِالْيَمِيْنِ أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِرَجِيْعٍ أَوْ بِعَظْمٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 336 ، باب : پاخانے کے آداب کا باب
روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانہ میں داخل ہوتے تو فرماتے کہ اےاللہمیں خبیث جنات اور خبیثہ جناتنیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ يَقُولُ: "اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 337 ، باب : پاخانے کے آداب کا باب
روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے فرماتے ہیں کہ نبی صلیاللہعلیہ وسلم دو قبروں پر گزرے تو فرمایا کہ یہ دونوں عذاب دیئے جارہے ہیں اورکسی بڑی چیز میں عذاب نہیں دیئے جارہے ان میں سے ایک تو پیشاب سے احتیاط نہیں کرتا تھا اور مسلم کی روایت میں ہے کہ پیشاب سے پرہیز نہ کرتا تھا اور دوسرا چغل خوری کرتا پھرتا تھا پھر آپ نے ایک ہری تر شاخ لی اور اسے چیرکر دو۲ حصے فرمائے پھر ہرقبر میں ایک گاڑ دی لوگوں نے عرض کیا یارسولاللہآپ نے یہ کیوں کیا،تو فرمایا کہ شاید جب تک یہ نہ سوکھیں تب تک ان کا عذاب ہلکا ہو ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقَبْرَيْنِ، فَقَالَ: "إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: لَا يَسْتَنْزِهُ مِنَ الْبَوْلِ وَأَمَّا الآخَرُ فَكَانَ يَمْشِيْ بِالنَّمِيْمَةِ"، ثُمَّ أَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً فَشَقَّهَا بِنِصْفَيْنِ، ثُمَّ غَرَزَ فِي كُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً، قَالُوا: يَا رَسُوْلَ اللهِ لِمَ صَنَعْتَ هٰذَا؟ فَقَالَ: "لَعَلَّهٗ أَن يُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 338 ، باب : پاخانے کے آداب کا باب
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے دو۲ لعنتی کاموں سے بچو ۱؎صحابہ رضی اللہ عنھم نے عرض کیا یارسولاللہلعنتی کام کون سے ہیں، فرمایا وہ جو لوگوں کی راہ یا سایہ کی جگہ پر پاخانہ کرے ۲؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "اتَّقُوا اللَّاعِنَيْنِ" قَالُوْا: وَمَا اللَّاعِنَانِ يَا رَسُولَ اللهِ؟ . قَالَ: "الَّذِي يَتَخَلّٰى فِي طَرِيقِ النَّاسِ أَو فِي ظِلِّهِمْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 339 ، باب : پاخانے کے آداب کا باب
روایت ہے حضرت ابو قتادہ سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی پیے تو برتن میں سانس نہ لے۲؎اور جب پاخانے جائے تو پیشاب گاہ داہنے ہاتھ سے نہ چھوئے اور نہ داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے۳؎(مسلم، بخاری)
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذا شَرِبَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَنَفَّسْ فِي الإْنَاءِ، وَإِذَا أَتَى الْخَلَاءَ فَلَا يَمَسَّ ذَكَرَهٗ بِيَمِينِهٖ وَلَا يَتَمَسَّحْ بِيَمِينِهٖ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 340 ، باب : پاخانے کے آداب کا باب
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں،فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو وضوکرے وہ ناک میں پانی لے اور جو استنجاءکرے وہ طاق کرے ۱؎(بخاری ومسلم)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ، وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 341 ، باب : پاخانے کے آداب کا باب
روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانہ جاتے تو میں اور ایک لڑکا پانی کا برتن اور برچھا لیتا آپ پانی سے استنجاءکرتے ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْخُلُ الْخَلَاءَ فَأَحْمِلُ أَنَا وَغُلَامٌ إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ وَعَنَزَةً يَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 342 ، باب : پاخانے کے آداب کا باب
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانے جاتے تو اپنی انگوٹھی اتار دیتے ۱؎اسے ابوداؤد، نسائی اور ترمذی نے روایت کیا۔اور ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔اور ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ حدیث منکر ہے ۲؎اور ان کی روایت میں اتارنے کی بجائے رکھنا ہے۔
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ نَزَعَ خَاتَمَهٗ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا الحَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ. وَفِيَ رِوَايَتِهٖ: وَضَعَ بَدَلَ نَزَعَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 343 ، باب : پاخانے کے آداب کا باب
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانے جانے کا ارادہ کرتے تو وہاں جاتے جہاں آپ کو کوئی نہ دیکھتا ۱؎(ابوداؤد)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَرَادَ الْبَرَازَ انْطَلَقَ حَتّٰى لَا يَرَاهُ أَحَدٌ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 344 ، باب : پاخانے کے آداب کا باب
روایت حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں کہ ایک دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھاحضور نے پیشاب کا ارادہ کیا تو دیوا رکی جڑ میں نرم زمین پر گئے،پھر پیشاب کیا پھر فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی بھی پیشاب کرنا چاہے تو پیشاب کے لئے نرم جگہ ڈھونڈے ۱؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِي مُوسٰى قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَأَرَادَ أَنْ يَبُوْلَ فَأَتٰی دَمِثًا فِي أَصْلِ جِدَارٍ فَبَالَ ثُمَّ قَالَ: "إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَبُولَ فَلْيَرْتَدِ لِبَوْلِهٖ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 345 ، باب : پاخانے کے آداب کا باب
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب پیشاب پاخانہ کا ارادہ فرماتے تو جب تک زمین کے قریب نہ ہوتے اپنا کپڑا نہ اٹھاتے ۱؎(ترمذی،ابوداؤد،دارمی)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إذَا أَرَادَ الْحَاجَةَ لَمْ يَرْفَعْ ثَوْبَهٗ حَتَّى يَدْنُوَ مِنَ الأَرْضِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ والدَّارِمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 346 ، باب : پاخانے کے آداب کا باب
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں تمہارے لیئے ایسا ہوں جیسے بیٹے کے لئے باپ ۱؎تمہیں سکھاتا ہوں جب تم پاخانے جاؤ تو قبلہ کو منہ نہ کرو،اور نہ پیٹھ۲؎اور تین پتھروں کا حکم دیا اورلِیدوہڈی سے منع فرمایا اور منع فرمایا کہ کوئی شخص داہنے ہاتھ سے استنجاء نہ کرے۳؎(ابن ماجہ،دارمی)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ لِوَلَدِهٖ، أُعَلِّمُكُمْ: إِذَا أَتَيْتُمُ الْغَائِطَ فَلَا تَسْتَقْبِلُوْا الْقِبْلَةَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوْهَا"، وَأَمَرَ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، وَنَهٰى عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ، وَنَهٰى أَنْ يَسْتَطِيْبَ الرَّجُلُ بِيَمِينِهٖ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 347 ، باب : پاخانے کے آداب کا باب
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا داہنا ہاتھ طہارت اور کھانے کے لیے تھا اوربایاں ہاتھ استنجاء اور مکروہ کام کے لئے ۱؎(ابوداؤد)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْيُمْنَى لِطُهُورِهِ وَطَعَامِهِ، وَكَانَتْ يَدُهُ الْيُسَرى لِخَلَائِهِ وَمَا كَانَ مِنْ أَذَى. رَوَاهُ أَبُو داوَدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 348 ، باب : پاخانے کے آداب کا باب
روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی پاخانہ جائے تو اپنے ساتھ تین پتھر (ڈھیلے)لے جائے ۱؎جن سے استنجاء کرے یہ اسے کافی ہوں گے۔ (احمد،ابوداؤد،نسائی،دارمی)
وَعَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ الله -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُم إِلَى الْغائِطِ فَلْيَذْهَبْ مَعَهٗ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ يَسْتَطِيْبُ بِهِنَّ،
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 349 ، باب : پاخانے کے آداب کا باب
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں،فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ نہ گوبر سے استنجاءکرو اور نہ ہڈی سے کیونکہ یہ تمہارے بھائی جنوں کی خوراک ہے ۱؎اسے ترمذی اور نسائی نے روایت کیا مگر نسائی نےزاد الخکا ذکر نہ فرمایا۔
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا تَسْتَنْجُوْا بِالرَّوْثِ وَلَا بِالْعِظَامِ، فَإِنَّهُ زَادُ إِخْوَانِكُمْ مِنَ الْجِنِّ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ: "زَادُ إخْوَانِكُمْ من الْجِنِّ"
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 350 ، باب : پاخانے کے آداب کا باب
روایت ہے حضرت رویفع بن ثابت سے ۱؎فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے رویفع شاید میرے بعد تمہاری زندگی لمبی ہو گی۲؎تولوگوں کو خبر دے دینا کہ جو اپنی داڑھی میں گرہ لگائے یا تانت باندھے ۳؎یا کسی جانور کی پلیدی یا ہڈی سے استنجاء کرے تو حضور انور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بیزار ہیں ۴؎(ابوداؤد)
وَعَنْ رُوَيْفِعِ اِبْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ لِيْ رَسُولُ اللهَ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "يَا رُوَيْفِعُ! لَعَلَّ الْحَيَاةَ سَتَطُوْلُ بِكَ بَعْدِيْ، فَأَخْبِرِ النَّاسَ أَنَّ مَنْ عَقَدَ لِحْيَتَهٗ، أَوْ تَقَلَّدَ وَتَرًا، أَوِ اسْتَنْجٰى بِرَجِيْعِ دَابَّةٍ أَو عَظْمٍ، فَإِنَّ مُحَمَّدًا مِنْهُ بَرِيْءٌ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 351 ، باب : پاخانے کے آداب کا باب
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو سرمہ لگائے وہ طاق بار لگائے ۱؎کرے تو اچھا ہے نہ کرے تو گناہ نہیں ۲؎اور جو استنجا کرے تو طاق سے کرے جو کرے تو اچھا اور نہ کرے تو گناہ نہیں ۳؎اور جو کھائے تو جو خلال سے نکالے وہ تھوک دے اور جوزبان سے نکالے وہ نگل لے۴؎جو کرے تو اچھا ہے جو نہ کرے تو گناہ نہیں ۵؎اور جو پاخانہ جائے تو آڑ کرے اگر آڑ نہ پائے یا بجز اس کے کہ ریت کا ڈھیر جمع کرے تو اس ڈھیر کی طرف پیٹھ کرے ۶؎کیونکہ شیطان لوگوں کے پاخانہ کے مقام سے کھیلتا ہے جو یہ کرے تو اچھا ہےجو نہ کرے تو گناہ نہیں ۷؎(أبوداؤد،ابن ماجہ،دارمی)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنِ اكْتَحَلَ فَلْيُوتِرْ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ، وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ، وَمَنْ أَكَلَ فَمَا تخَلَّلَ فَلْيَلْفِظْ، وَمَا لَاكَ بِلِسَانِهٖ فَلْيَبْتَلِعْ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ، وَمَنْ أَتَى الْغَائِطَ فَلْيَسْتَتِرْ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا أَنْ يَجْمَعَ كَثِيْبًا مِنْ رَمْلٍ فَلْيَسْتَدْبِرْهُ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَلْعَبُ بِمَقَاعِدِ بَنِي آدَمَ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ والدَّارِمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 352 ، باب : پاخانے کے آداب کا باب
روایت ہے عبداللہابن مغفل سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی غسل خانہ میں ہرگز پیشاب نہ کرے پھر اس میں غسل یا وضو کرے گا۲؎کیونکہ عام وسوسے اسی سے ہوتے ہیں ۳؎اسے ابوداؤد،ترمذی اورنسائی نے روایت کیا مگر ان دونوں نے "ثُمَّ یَغْتَسِلُ" کا ذکر نہ کیا۔
وَعَنْ عَبْدِ الله بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي مُسْتَحَمِّهٖ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ فِيهِ، أَوْ يَتَوَضَّأُ فِيهِ، فَإِنَّ عَامَّةَ الْوَسْوَاسِ مِنْهُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ إِلَّا أَنَّهُمَا لَمْ يَذْكُرَا: "ثمَّ يَغْتَسِلُ فِيهِ أَوْ يَتَوَضَّأُ فِيهِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 353 ، باب : پاخانے کے آداب کا باب