باب : پاخانے کے آداب کا باب

پاکی کی کتاب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1

روایت ہے عبداللہابن سرجس سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی شخص سوراخ میں ہرگز پیشاب نہ کرے ۲؎(ابوداؤد،نسائی)

وَعَنْ عَبْدِ الله بْنِ سَرْجِسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي جُحْرٍ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 354 ، باب : پاخانے کے آداب کا باب

روایت ہے حضرت معاذ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے تین لعنتی چیزوں سے بچو،گھاٹوں،درمیانی راستہ اور سایہ میں پاخانہ کرنے سے ۱؎(ابوداؤد)

وَعَنْ مُعَاذٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"اتَّقُوْا الْمَلَاعِنَ الثَّلَاثَةَ: الْبَرَازَ فِي الْمَوَارِدِ، وَقَارِعَةِ الطَّرِيقِ، وَالظِّلِّ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْن مَاجَهْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 355 ، باب : پاخانے کے آداب کا باب

روایت ہے حضرت ابوسعیدسے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ دوشخص پاخانہ کرنے نہ جائیں کہ شرمگاہیں کھولے باتیں کریں کیونکہاللہتعالٰی اس پر ناراض ہوتاہے ۱؎(احمد،ابوداؤد،ابن ماجہ)

وَعَنْ أَبِي سَعِيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا يَخْرُجِ الرَّجُلَانِ يَضْرِبَانِ الْغَائِطَ كَاشِفَيْنِ عَنْ عَوْرَتِهِمَا يَتَحَدَّثَانِ، فَإِنَّ اللهَ يَمْقُتُ عَلٰی ذٰلِكَ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 356 ، باب : پاخانے کے آداب کا باب

روایت ہے زید بن ارقم سے فرماتے ہیں ۱؎فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ یہ پاخانے جنات کے حاضر رہنے کی جگہ ہیں ۲؎تو جب تم میں سے کوئی پاخانہ جائے تو کہہ لے میں گندے جن اور جناتنی سےاللہکی پناہ لیتا ہوں۳؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

وَعَن زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ هٰذِهِ الْحُشُوشَ مُحْتَضَرَةٌ، فَإِذَا أَتٰی أَحَدُكُمُ الْخَلَاءَ فَلْيَقُلْ: أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 357 ، باب : پاخانے کے آداب کا باب

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جنات کی آنکھوں اور لوگوں کے سترکے درمیان پردہ یہ ہے کہ جب کوئی پاخانہ میں جائے توبسم ﷲکہہ لے ۱؎اسے ترمذی نے روایت کیااورفرمایا یہ حدیث غریب ہے اس کی سند قوی نہیں۔

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "سَتْرُ مَا بَيْنَ أَعْيُنِ الْجِنِّ وَعَوْرَاتِ بَنِي آدَمَ إِذَا دَخَلَ أَحَدُهُمُ الْخَلَاءَ أَنْ يَقُولَ: بِسْمِ اللهِ" رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَإِسْنَادُهٗ لَيْسَ بِقَوِيٍّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 358 ، باب : پاخانے کے آداب کا باب

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جب پاخانے سے آتے تو فرماتے تیری بخشش(چاہیئے) ۱؎(ترمذی،و ابن ماجہ،دارمی)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ قَالَ: "غُفْرَانَكَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ والدَّارِمِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 359 ، باب : پاخانے کے آداب کا باب

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانہ جاتے تو میں آپ کی خدمت میں چھاگل یاپیالہ میں پانی لاتا ۱؎آپ استنجاء کرتے پھر ہاتھ شریف زمین پر رگڑتے ۲؎پھر میں دوسرا برتن لاتا تو وضو فرماتے ۳؎اسے ابوداؤد اور دارمی نے روایت کیا،نسائی نےبمعنی۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى الْخَلَاءَ أَتَيْتُهٗ بِمَاءٍ فِي تَوْرٍ أَوْ رَكْوَةٍ فَاسْتَنْجٰى، ثُمَّ مَسَحَ يَدَهٗ عَلَى الأَرْضِ، ثُمَّ أَتَيْتُهٗ بِإِنَاءٍ آخَرَ فَتَوَضَّأَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَ الدَّارمِيُّ وَالنَّسَائِيُّ مَعْنَاهُ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 360 ، باب : پاخانے کے آداب کا باب

روایت ہے حکیم ابن سفیان سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب پیشاب کرتے تو وضو فرماتے اور شرمگاہ(رومالی)پر چھینٹا دیتے ۱؎(ابوداؤد،نسائی)

وَعَنْ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَالَ تَوَضَّأَ وَنَضَحَ فَرْجَهٗ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 361 ، باب : پاخانے کے آداب کا باب

روایت ہے امیمہ بنت رقیقہ سے ۱؎فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لکڑی کا پیالہ تھا جو آپ کے تخت کے نیچے رکھا رہتا تھا جس میں رات کو پیشاب کرتے تھے۲؎(ابوداؤد،نسائی)

وَعَنْ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ قَالَتْ: كانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَحٌ مِنْ عَيْدَانٍ تَحْتَ سَرِيرِهٖ يَبُوْلُ فِيْهِ بِاللَّيْلِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 362 ، باب : پاخانے کے آداب کا باب

روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ میں کھڑے ہوئے پیشاب کررہا تھا تو فرمایا کہ اے عمر کھڑے ہو کر پیشاب نہ کیا کرو پھر میں نے کبھی کھڑے ہو کر پیشاب نہ کیا ۱؎(ترمذی،ابن ماجہ)

وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: رَآنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبُوْلُ قَائِمًا فَقَالَ: "يَا عُمَرُ لَا تَبُلْ قَائِمًا" فَمَا بُلْتُ قَائِمًا بَعْدُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ. قَالَ الشَّيْخُ الإمَامُ مُحْيِي السُّنَّةِ رَحِمَهُ اللّٰهُ : قَدْ صَحَّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 363 ، باب : پاخانے کے آداب کا باب

شیخ الامام محی السنہ نے فرمایا حضرت حذیفہ سے بروایت صحیح مروی ہے فرماتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کی کوڑی پر تشریف لائے تو کھڑے ہوکر پیشاب کیا(مسلم،بخاری)کہا گیا ہے کہ یہ عذرًا تھا۱؎

عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: أَتَى النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا. مُتَّفقٌ عَلَيْهِ. قِيلَ: كَانَ ذٰلِك لِعُذْرٍ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 364 ، باب : پاخانے کے آداب کا باب

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں جو تمہیں یہ خبر دے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر پیشاب کرتے تھے تو اسے سچا نہ مانو آپ بیٹھ کر ہی پیشاب کرتے تھے ۱؎(احمد،ترمذی،نسائی)

عَنْ عَائِشَةَ -رَضِيَ اللهُ عَنْهَا- قَالَتْ: "مَنْ حَدَّثَكُمْ أَنَّ النَّبِيَّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَبُولُ قائِمًا فَلَا تُصَدِّقُوهُ، مَا كَانَ يَبُوْلُ إِلَّا قَاعِدًا". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 365 ، باب : پاخانے کے آداب کا باب

روایت ہے حضرت زید ابن حارثہ سے ۱؎وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ حضرت جبریل پہلی وحی میں آپ کے پاس آئے ۲؎تو آپ کو وضو و نماز سکھائی ۳؎پھر جب وضو سے فارغ ہوئے تو پانی کا چلو لیا اورشرمگاہ پر چھڑکا ۴؎(احمدودارقطنی)

وَعَن زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ عَنِ النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَنَّ جِبْرِيْلَ أَتَاهُ فِي أَوَّلِ مَا أُوْحِيَ إِلَيْهِ فَعَلَّمَهُ الْوُضُوءَ وَالصَّلَاةَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الْوُضُوءَ أَخَذَ غُرْفَةً مِنَ الْمَاءِ فَنَضَحَ بِهَا فَرْجَهٗ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالدَارَقُطْنِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 366 ، باب : پاخانے کے آداب کا باب

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میرے پاس حضرت جبریل آئے عرض کیا اے محمد ۱؎(صلی اللہ علیہ وسلم)جب آپ وضو کریں تو پانی چھڑک لیا کریں۔ترمذی نے روایت کیا اور کہا کہ یہ حدیث غریب ہے میں نے محمد یعنی امام بخاری کو کہتے سنا کہ حسن بن علی ہاشمی راوی منکرالحدیث ہے ۲؎

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "جَاءَنِي جِبْرِيلُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِذَا تَوَضَّأْتَ فَانْتَضِحْ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَسَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَعْنِي الْبُخَارِيَّ- يَقُولُ: الْحَسَنُ بْنُ عَليٍّ الْهَاشِمِيُّ الرَّاوِي مُنْكَرُ الحَدِيثِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 367 ، باب : پاخانے کے آداب کا باب

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں پیشاب کیا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے تو حضرت عمر آپ کے پیچھے پانی کا کوزہ لے کر کھڑے ہوگئے فرمایا اے عمر!یہ کیا؟عرض کیا پانی ہے جس سے آپ وضو کریں فرمایا مجھے یہ حکم نہیں کہ جب کبھی پیشاب کروں تو وضو کروں اگر یہ کروں تو سنت ہوجائے ۱؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: بَالَ رَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَامَ عُمَرُ خَلْفَهٗ بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ، فَقَالَ: "مَا هٰذَا يَا عُمَرُ؟ " قَالَ: مَاءٌ تَتَوَضَّأُ بِهٖ. قَالَ: "مَا أُمِرْتُ كُلَّمَا بُلْتُ أَنْ أَتَوَضَّأَ، وَلَوْ فَعَلْتُ لَكَانَتْ سُنَّةً". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 368 ، باب : پاخانے کے آداب کا باب

روایت ہے حضرت ابوایوب و جابر و انس سے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ اس مسجد میں ایسے لوگ ہیں جو خوب پاک ہونا پسند کرتے ہیں اوراللہستھروں کو پسند فرماتاہے ۱؎تو رسولاللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا کہ اے انصار کے گروہاللہنے تمہاری پاکی کی بہت تعریف کی ہے تمہاری کیسی پاکی ہے۲؎وہ بولے کہ ہم نماز کے لیئے وضو جنابت کے لئے غسل کرتے ہیں اور پانی سے استنجاء ۳؎تو فرمایا کہ وہ یہ ہی پاکی ہے اسے لازم کرلو ۴؎(ابن ماجہ)

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ وَجَابِرٍ وَأَنَسٍ: أَن هَذِه الآيَة نَزَلَتْ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِين َقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ! إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَثْنَى عَلَيْكُمْ فِي الطَّهُورِ فَمَا طَهُورُكُمْ؟ " قَالُوا: نَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ، وَنَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ، وَنَسْتَنْجي بِالْمَاءِ، فَقَالَ: "فَهُوَ ذَاكَ فَعَلَيْكُمُوهُ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 369 ، باب : پاخانے کے آداب کا باب

روایت ہے حضرت سلمان سے فرماتے ہیں بعض مشرکوں نے مذاقًا کہا کہ ہم تمہارے صاحب کو دیکھتے ہیں کہ تم کو پاخانہ کرنا تک سکھاتے ہیں ۱؎میں نے کہاہاں ہمیں حکم دیا ہے کہ قبلہ کو منہ نہ کریں اور نہ داہنے ہاتھ سے استنجاء کریں اور تین پتھروں سے کم پر کفایت نہ کریں ان میں نہ گوبر ہو نہ ہڈی ۲؎(مسلم)احمد نے روایت کیا یہ اس کے لفظ ہیں۔

وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ: قَالَ بَعْضُ الْمُشْرِكِيْنَ، وَهُوَ يَسْتَهْزِئُ بِهآ: إِنِّي لأَرٰى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ حَتَّى الْخِراءَةَ، قُلْتُ: أَجَلْ، أَمَرَنا أَنْ لَا نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ، وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِأَيْمَانِنَا، وَلَا نَكْتَفِيَ بِدُوْنِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ وَلَا عَظْمٌ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَاللَّفْظُ لَهُ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 370 ، باب : پاخانے کے آداب کا باب

روایت ہے حضرت عبدالرحمان بن حسنہ سے ۱؎فرماتے ہیں ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے کہ آپ کے ہاتھ شریف میں ڈھال تھی آپ نے ڈھال زمین پر رکھی پھر بیٹھ کراس کے پیچھے پیشاب کیا ۲؎تو بعض کفار بولے انہیں دیکھو تو عورتوں کیطرح پیشاب کرتے ہیں ۳؎یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سن لی تو فرمایا افسوس تم پر کیا تمہیں خبر نہیں کہ بنی اسرائیل والے کو کیا آفت پہنچی تھی کہ جب انہیں پیشاب لگ جاتا تو قینچیوں سے جگہ کاٹ ڈالتے تھے اس نے انہیں منع کیا تو اپنی قبر میں عذاب دیا گیا۴؎اسے ابوداؤد ابن ماجہ نے روایت کیا

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ حَسَنَةَ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهٖ الدَّرَقَةُ فَوَضَعَهَا، ثُمَّ جَلَسَ فَبَالَ إِلَيْهَا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: اُنْظُرُوْا إِلَيْهِ يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ، فَسَمِعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "وَيْحَكَ!أَمَا عَلِمْتَ مَا أَصَابَ صَاحِبَ بَنِي إِسْرَائِيلَ؟ كَانُوا إِذا أَصَابَهُمُ الْبَوْلُ قَرَضُوهُ بِالْمَقَارِيْضِ، فَنَهَاهُمْ فَعُذِّبَ فِيْ قَبْرِهٖ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 371 ، باب : پاخانے کے آداب کا باب

اور نسائی نے ان سے انہوں نے ابوموسی سے۔

وَرَوَاهُ النَّسَائِيّ عَنهُ عَنْ أبِيْ مُوْسٰى

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 372 ، باب : پاخانے کے آداب کا باب

روایت ہے حضرت مروان اصفر سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عمرکو دیکھا کہ انہوں نے ا پنی سواری قبلہ رخ بٹھالی پھر بیٹھ کر اس کی جانب پیشاب کرنے لگے ۲؎میں نے کہا اے ابوعبد الرحمان کیا اس کی ممانعت نہیں ہے۳؎فرمایا کہ اس سے جنگل میں منع کیا گیا ہے مگر جب تمہارے اور قبلہ کے درمیان کوئی چیز آڑکرے تو کوئی مضائقہ نہیں ۴؎(ابوداؤد)

وَعَنْ مَرْوَانَ الأَصْفَرَ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ أَنَاخَ رَاحِلَتَهٗ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ ثُمَّ جَلَسَ يَبُولُ إِلَيْهَا فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ! أَلَيْسَ قَدْ نُهِيَ عَنْ هٰذَا ؟ قَالَ: بَلْ إِنَّمَا نُهِيَ عَنْ ذٰلِكَ فِي الْفَضَاءِ، فَإِذَا كَانَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ شَيْءٌ يَسْتُرُكَ فَلَا بَأْسَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 373 ، باب : پاخانے کے آداب کا باب