- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- پاکی کی کتاب
- باب : نہانے کا بیان
باب : نہانے کا بیان
پاکی کی کتاب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی عورت کے چاروں شانے کے درمیان بیٹھے پھر کوشش کرے تو غسل واجب ہوگیا اگرچہ انزال نہ ہوا ۱؎(مسلم،بخاری)
عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:إِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ بَيْنَ شُعَبِهَا الأَرْبَعِ ثُمَّ جَهَدَهَا،فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ وَإِنْ لَمْ يُنْزِلْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 430 ، باب : نہانے کا بیان
روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ پانی پانی سے ہی ہے ۱؎(مسلم)شیخ اماممحی السنہرحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہ حدیث منسوخ ہے۔
وَعَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ.رَوَاهُ مُسْلِمٌ قَالَ الشَّيْخُ الْإِمَامُ مُحْيِى السُّنَّةِ رَحِمَهُ اللّٰهُ: هٰذَا مَنْسُوْخٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 431 ، باب : نہانے کا بیان
اورحضرت ابن عباس نے فرمایا کہ پانی کا صرف پانی سےہونا احتلام میں ہے۱؎اسے ترمذی نے روایت کیا میں نے اسے بخاری ومسلم میں نہ پایا۔
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ فِيْ الْاِحْتِلَامِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَلَمْ أَجِدْهُ فِي الصَّحِيْحَيْنِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 432 ، باب : نہانے کا بیان
روایت ہے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی ہیں کہ حضرت ام سلیم نے عرض کیا ۱؎یارسول اللہ یقینًا اللہ تعالٰی حق سے نہیں شرماتا کیا عورت پر غسل واجب ہے جب اسے احتلام ہو فرمایا ہاں جب پانی دیکھے۲؎تو ام سلیم نے منہ چھپالیا اور بولیں یا رسول اللہ کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے۳؎فرمایا ہاں تمہارا ہاتھ گرد آلود ہو ورنہ بچہ اپنی ماں کے ہم شکل کیوں ہوتا ہے۴؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَتْ قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنَّ اللهَ لَا يَسْتَحْيِيْ مِنَ الْحَقِّ فَهَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ مِنْ غُسْلٍ إِذَا احْتَلَمَتْ؟قَالَ «نَعَمْ إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ فَغَطَّتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَجْهَهَا وَقَالَتْ يَا رَسُوْلَ اللهِ أَوَتَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ قَالَ: نَعَمْ تَرِبَتْ يَمِيْنُكِ،فَبِمَ يُشْبِهُهُا وَلَدُهَا؟
(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 433 ، باب : نہانے کا بیان
مسلم نے ام سلیم کی روایت سے یہ زیادتی کہ مرد کی منی گاڑھی سفید ہوتی ہے اور عورت کی منی پتلی زرد ان میں سے جو غالب یا پہلے ہو بچہ اس کے مشابہ ہوگا ۵؎
وَزَادَ مُسْلِمٌ بِرِوَايَةِ أُمِّ سُلَيْمٍ: «أَنَّ مَاءَ الرَّجُلِ غَلِيْظٌ أَبْيَضُ وَمَاءَ الْمَرْأَةِ رَقِيْقٌ أَصْفَرُ فَمِنْ أَيِّهِمَا عَلَا أَوْ سَبَقَ يَكُوْنُ مِنْهُ الشَّبَهُ»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 434 ، باب : نہانے کا بیان
روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنابت کا غسل کرتے تو یوں شروع کرتے کہ پہلے دونوں ہاتھ دھوتے ۱؎پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے ۲؎پھر اپنی انگلیاں پانی میں ڈالتے تو ان سے بالوں کی جڑوں میں خلال کرتے پھر اپنے سر پر دونوں ہاتھوں سے تین چلو ڈالتے۔پھر اپنی تمام کھال پر پانی بہاتے ۳؎(مسلم،بخاری) اورمسلم کی روایت میں ہے کہ یوں شروع کرتے کہ برتن میں ڈالنے سے پہلے دونوں ہاتھ دھوتے پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے پھر استنجاء کرتے پھروضو فرماتے ۴؎۔
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ بَدَأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يُدْخِلُ أَصَابِعَهُ فِي الْمَاءِ فَيُخَلِّلُ بِهَا أُصُوْلَ شَعَرِهِ،ثمَّ يَصُبُّ عَلٰى رَأسِهٖ ثَلَاثَ غَرَفَاتٍ بِيَدَيْهِ، ثمَّ يُفِيْضُ المَاءَ عَلٰى جِلْدِهٖ كُلِّهٖ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وَفِيْ رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: يَبْدَأُ فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُّدْخِلَهُمَا الْإِنَاءَ، ثُمَّ يُفْرِغُ بِيَمِيْنِهٖ عَلٰى شِمَالِهٖ فَيَغْسِلُ فَرْجَهٗ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 435 ، باب : نہانے کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا حضرت میمونہ نے ۱؎کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیئے غسل کا پانی رکھا پھر میں نے آپ کو کپڑے سے آڑکردی۲؎اور آپ نے اپنے ہاتھوں پر پانی بہایا پھر انہیں دھویاپھرہاتھوں پربہایاپھر انہیں دھویاپھر داہنے ہاتھ سے بائیں پرپانی ڈالااوراستنجا کیاپھراپنا ہاتھ زمین پر مارا انہیں صاف کیا پھر اسے دھویا پھر کلی کی اور ناک میں پانی لیااوراپنا منہ اورکہنیوں تک ہاتھ دھوئے پھر اپنے سر پر پانی بہایا اور اپنے تمام جسم پر بہایا۳؎پھر وہاں سے ہٹ گئے اور اپنے قدم شریف دھوئے میں نے کپڑا پیش کیا قبول نہ فرمایا ۴؎اور ہاتھوں کو جھاڑتے ہوئے تشریف لے گئے۔ (مسلم،بخاری) اور اس کے لفظ بخاری کے ہیں۔
وَعَن ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَتْ مَيْمُونَةُ: وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلًا فَسَتَرْتُهُ بِثَوْبٍ، وَصَبَّ عَلٰى يَدَيْهِ فَغَسَلَهُمَا، ثُمَّ صَبَّ عَلٰى يَدَيْهِ فَغَسَلَهُمَا ، ثُمَّ صَبَّ بِيَمِيْنِهٖ عَلٰى شِمَالِهٖ فَغَسَلَ فَرْجَهٗ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ الأَرْضَ فَمَسَحَهَا، ثُمَّ غَسَلَهَا فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ صَبَّ عَلٰى رَأْسِهِ، وَأَفَاضَ عَلٰى جَسَدِهٖ، ثُمَّ تَنَحّٰى فَغَسَلَ قَدَمَيْهِ،فَنَاوَلْتُهٗ ثَوْبًا فَلَمْ يَأْخُذْهُ، فَانْطَلَقَ وَهُوَ يَنْفُضُ يَدَيْهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَلَفْظُهُ للْبُخَارِيِّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 436 ، باب : نہانے کا بیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ انصار کی ایک بی بی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے غسل کے بارے میں پوچھا تو آپ نے انہیں بتایا کہ یوں غسل کریں پھر فرمایا کہ مشک کا ٹکڑا لے کر اس سے پاک کرو بولیں اس سے کیسے پاکی کروں فرمایا اس سے پاکی کرو بولیں اس سے کیسے پاکی کرو فرمایاسبحان اﷲ !اس سے پاکی کرو ۱؎تو انہیں میں نے اپنی طرف کھینچ لیا اور کہا کہ خون کی جگہ ٹکڑا لگاؤ ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِنْ غُسْلِهَا مِنَ الْمَحِيْضِ فَأَمَرَهَا كَيْفَ تَغْتَسِلُ ثُمَّ قَالَ: خُذِيْ قِرْصَةً مِنْ مَسْكٍ فَتَطَهَّرِيْ بِهَا قَالَتْ: كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بهَا ؟ فَقَالَ تَطَهَّرِيْ بهَا قَالَتْ: كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بَها؟ قَالَ: سُبْحَانَ اللّٰه تَطَهَّرِيْ بِهَا فَاجْتَذَبْتُهَا إِلَيَّ فَقُلْتُ لَہَا: تَبْتَغِيْ بِهَا أَثَرَ الدَّمِ.
(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 437 ، باب : نہانے کا بیان
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یارسول الله صلی اللہ علیہ وسلم میں ایسی عورت ہوں جو اپنے سر کے بال گوندھتی ہوں تو کیا جنابت کے غسل کے لیئے انہیں کھولا کروں فرمایا نہیں تمہیں یہی کافی ہے کہ اپنے سر پر تین لپ پانی ڈال لیا کرو۔پھر اپنے پر پانی بہالیا کروتوپاک ہوجاؤ گی ۱؎(مسلم)
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ إِنِّيْ امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِيْ، أَفَانْقُضُهٗ لِغُسْلِ الْجَنَابَة؟ فَقَالَ: «لَا، إِنَّمَا يَكْفِيْكِ أَنْ تَحْثِيَ عَلٰى رَأْسِكِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ،ثُمَّ تُفِيْضِيْنَ عَلَيْكِ الْمَاءَ فَتَطْهُرِيْنَ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 438 ، باب : نہانے کا بیان
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد(دورطل)سے وضو کرتے تھے اور ایک صاع سے پانچ مد تک غسل فرماتے تھے ۱؎(بخاری،مسلم)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ إِلٰى خَمْسَةِ أَمْدَادٍ
(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 439 ، باب : نہانے کا بیان
روایت ہے حضرت معاذہ سے ۱∞؎فرماتی ہیں فرمایا حضرت عائشہ رضی الله عنہانے کہ میں اور رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے غسل کرتے تھے جومیرے اورآپ کے درمیان ہوتا ۲؎پس آپ جلدی کرتے مجھ پر حتی کہ میں کہتی کہ میرے لیئے بھی چھوڑیئے فرماتی ہیں کہ وہ دونوں جنابت میں ہوتے ۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ مُعَاذَةَ قَالَتْ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا: كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَمِنْ إِناءٍ وَاحِدٍ بَيْنِيْ وَبَيْنَهٗ، فَيُبَادِرُنِيْ حَتّٰى أَقُولَ: دَعْ لِيْ دَعْ لِيْ، قَالَتْ: وَهُمَا جُنُبَانِ.(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 440 ، باب : نہانے کا بیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو تری تو پائے اور خواب یاد نہ ہو فرمایا غسل کرے اور اس کے بارے میں پوچھا گیا جو خیال کرے کہ اسے احتلام ہوا ہے اور تری نہ پائے فرمایا اس پر غسل نہیں ۱؎ام سلیم نے عرض کیا کہ کیا عورت پر بھی غسل ہے جو یہ دیکھے فرمایا ہاں عورتیں مردوں کی مثل ہیں ۲؎اسے ترمذی اور ابوداؤد نے روایت کیا ا وردارمی اور ابن ماجہ نے "لَاغُسْلَ عَلَیْہ" تک روایت کی۔
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يَجِدُ الْبَلَلَ وَلَا يَذْكُرُ احْتِلَامًا قَالَ يَغْتَسِلُ وَعَنِ الرَّجُلِ الذی يَرٰى أَنَّهُ قَدِ احْتَلَمَ وَلم يَجِدُ بَلَلًا قَالَ: لَا غُسْلَ عَلَيْهِ قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: هَلْ عَلٰى الْمَرْأَةِ تَرٰى ذٰلِكَ غُسْلٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنَّ النِّسَاءَ شَقَائِقُ الرِّجَالِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ، وَرَوَى الدَّارِمِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ إِلٰى قَوْلِهٖ: لَا غُسْلَ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 441 ، باب : نہانے کا بیان
روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب ختنہ ختنے میں غائب ہوجائے تو غسل واجب ہے میں نے اور رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عمل کیا تو ہم نے غسل کیا ۱؎(ترمذی و ابن ماجہ)
وَعَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ. فَعَلْتُهٗ أَنَا وَرَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاغْتَسَلْنَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 442 ، باب : نہانے کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر بال کے نیچے ناپاکی ہے لہذابال دھوؤ اور کھال صاف کرو ۱؎(ابوداؤد،ترمذی،ابن ماجہ)ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث غریب ہے اور حارث ابن وجیہ راوی بوڑھے تھے اس مقام کے لائق نہیں ۲؎
وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَحْتَ كُلِّ شَعْرَةٍ جَنَابَةٌ، فَاغْسِلُوا الشَّعْرَ، وَأَنْقُوا الْبَشَرَةَ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ وَالْحَارِثُ ابْنُ وَجِيْهٍ الرَّاوِيُّ وَهُوَ شَيْخٌ لَيْسَ بِذٰكَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 443 ، باب : نہانے کا بیان
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو جنابت میں ایک بال کی جگہ چھوڑ دے جسے نہ دھوئے تو اسے آگ میں ایسا ایسا عذاب کیا جائے گا ۱؎حضرت علی فرماتے ہیں اسی لیئے میں اپنے بالوں کا دشمن ہوں اسی لیئے میں اپنے بالوں کا دشمن ہوں اسی لیئے میں اپنے بالوں کا دشمن ہوں تین بار۲؎اسے ابوداؤد،دارمی نے روایت کیا مگر ان دونوں نے مکرر نہ کیا اسی لیئے دشمن ہوگیا میں اپنے سر کا۔
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَرَكَ مَوْضِعَ شَعَرَةٍ مِنْ جَنَابَةٍ لَمْ يَغْسِلْهَا فعل بهَا كَذَا وَكَذَا من النَّار . قَالَ عَليٌّ: فَمِنْ ثمَّ عَادَيْتُ رَأْسِيْ، فَمن ثُمَّ عَادَيْتُ رَأْسِيْ، فَمِنْ ثُمَّ عَادَيْتُ رَأْسِيْ ثَلَاثًا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَأَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ، إِلَّا أَنَّهُمَا لَمْ يُكَرِّرَا: فَمِنْ ثُمَّ عَادَيْتُ رَأْسِيْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 444 ، باب : نہانے کا بیان
روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے ۱؎(ترمذی، ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ)
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَوَضَّأُ بَعْدَ الْغُسْلِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 445 ، باب : نہانے کا بیان
روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر شریف ناپاکی کی حالت میں خطمی سے دھوتے اسی پر کفایت کرتے ۱؎کہ سر پر پانی نہ ڈالتے ۲؎(ابوداؤد)
وَعَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ بِالْخِطْمِيِّ وَهُوَ جُنُبٌ يَجْتَزِئُ بِذٰلِكَ وَلَا يَصُبُّ عَلَيْهِ الْمَاءَ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 446 ، باب : نہانے کا بیان
روایت ہے حضرت یعلٰی سے ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو میدان میں نہاتے دیکھا۲؎تو آپ منبر پر چڑھے،پھر الله کی حمد و ثناءکی پھرفرمایا کہ الله تعالٰی حیا دار ہے،پردہ پوش ہے،حیا اورپردےکو پسند کرتا ہے۳؎تو جب تم میں سے کوئی نہائے تو پردہ کرلیاکرے۴؎(ابوداؤد نسائی)اور نسائی کی روایت میں ہے کہ الله پردہ پوش ہے جب تم میں سے کوئی نہاناچاہے تو کسی چیز سے آڑ کرلیا کرے۵؎
وَعَنْ يَعْلٰى قَالَ: إنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأٰى رَجُلًا يَغْتَسِلُ بِالْبَرَازِ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللهَ وَأثْنٰى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: "إِنَّ اللّٰهَ حَيِيٌّ سِتِّيْرٌ يُحِبُّ الْحَيَاءَ وَالتَّسَتُّرَ، فَإِذَا اغْتَسَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَتِرْ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ، وَفِيْ رِوَايَتِهٖ قَالَ: "إِنَّ اللّٰهَ سِتِّيْرٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَغْتَسِلَ فَلْيَتَوَارَ بِشَيْءٍ"
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 447 ، باب : نہانے کا بیان
روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے فرماتے ہیں کہ پانی سےپانی ہے اول اسلام میں اجازت تھی پھر اس سے منع کردیا گیا ۱؎۔(ترمذی ابوداؤد،د دارمی)
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: إِنَّمَا كَانَ الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ رُخْصَةً فِيْ أَوَّلِ الْإِسْلَامِ ثمَّ نُهِيَ عَنْهَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبوُ دَاوُدَ، والدَّارِمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 448 ، باب : نہانے کا بیان
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا میں نے جنابت سے غسل کیا اور فجر پڑھ لی۔پھر دیکھا کہ ناخن برابر جگہ کو پانی نہ پہنچا فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر تم اس جگہ ہاتھ پھیر لیتے تو کافی ہوتا ۱؎(ابن ماجہ)
وَعَن عَلِيٍّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّيْ اغْتَسَلْتُ مِنَ الْجَنَابَةِ وَصَلَّيْتُ الْفَجْرَ، فَرَأَيْتُ قَدْرَ مَوْضعِ الظُّفُرِ لَمْ يُصِبْهُ الْمَاءُ،فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ كُنْتَ مَسَحْتَ عَلَيْهِ بِيَدِكَ أَجْزَأَكَ . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 449 ، باب : نہانے کا بیان
- 1
- 2