باب :اذان کا باب

نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ صحابہ نے آگ اور ناقوس کا ذکرکیا تو یہود اورعیسائیوں کا ذکرکیا ۱؎تب حضرت بلال کو حکم دیا گیا کہ اذان کے کلمات دو دوبارکہیں اورتکبیرکے ایک ایک بار۲؎اسماعیل کہتے ہیں کہ میں نے یہ ایوب سے ذکرکیا تو انہوں نے فرمایا کہ اقامت کے سواء۳؎(مسلم بخاری)

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: ذَكَرُوا النَّارَ وَالنَّاقُوسَ، فَذَكَرُوا الْيَهُوْدَ وَالنَّصَارٰى، فَأُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الأَذَانَ وَأَنْ يُوتِرَ الإِقَامَةَ قَالَ إِسْمَاعِيلُ: فَذَكَرْتُهٗ لِأَيُّوْبَ فَقَالَ: إِلَّا الْإِقَامَةَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 641 ، باب :اذان کا باب

روایت ہے حضرت ابومحذورہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پربنفس نفیس اذان پیش کی فرمایا يوں کہو ااَللّٰهُ أَكْبَرُ اَللّٰهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ اَللّٰهُ أَكْبَرُ،،أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ،أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ ،،پھر لوٹو تو کہوأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ،۲؎،حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ،حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ،اللّٰهُ أَكْبَرُ اللّٰهُ أَكْبَرُ،لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ۳؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِيْ مَحْذُوْرَةَ قَالَ: أَلْقٰى عَلَيَّ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّأْذِينَ هُوَ بِنَفْسِهٖ فَقَالَ: "قُلْ: اَللّٰهُ أَكْبَرُ اَللّٰهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ اَللّٰهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ ، ثُمَّ تَعُوْدُ فَتَقُوْلَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ،حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللّٰهُ أَكْبَرُ اللّٰهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 642 ، باب :اذان کا باب

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اذان دو دو بار تھی اور تکبیر ایک بارسواء اس کے کہ مؤذن کہتا تھاقَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ۱؎(ابوداؤد،نسائی،دارمی)

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ الأَذَانُ عَلٰى عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، وَالإِقَامَةُ مَرَّةً مَرَّةً، غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ والدَّارِمِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 643 ، باب :اذان کا باب

روایت ہے حضرت ابومحذورہ سے کہ ان کونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان کے انیس کلمے سکھائے اور تکبیرسترہ کلمے ۱؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد،نسائی،دارمی اورابن ماجہ)

وَعَنْ أَبِيْ مَحْذُوْرَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- عَلَّمَهُ الأَذَانَ تِسْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً،وَالإِقَامَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 644 ، باب :اذان کا باب

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے سنت اذان سکھائیے ۱؎فرماتے ہیں کہ حضورانورنے ان کے سرکے اگلے حصہ پرہاتھ پھیرا ۲؎فرمایاکہواللّٰهُ أَكْبَرُ اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ اللّٰهُ أَكْبَرُبلند آؤاز سے پھرکہو "أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ، أشهد أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ،أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ"پست آواز سے پھرشہادت سے اپنی آواز اونچی کرو۳؎"أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ،أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ،حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ،حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ"اگرصبح کی نمازہوتویہ بھی کہہ لو"الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ۴؎،اللّٰهُ أَكْبَرُ اللّٰهُ أَكْبَرُ،لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ"۔(ابوداؤد)

وَعَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰه عَلِّمْنِيْ سُنَّةَ الأَذَانِ قَالَ: فَمَسَحَ مُقَدَّمَ رَأسِهٖ، قَالَ: " تَقُوْلُ: اللّٰهُ أَكْبَرُ اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ اللّٰهُ أَكْبَرُ، تَرْفَعُ بِهَا صَوْتَكَ، ثُمَّ تَقُولَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ، أشهد أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ، تَخْفِضُ بِهَا صَوْتَكَ، ثُمَّ تَرْفَعُ صَوْتَكَ بِالشَّهَادَةِ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، فَإِنْ كَانَ صَلَاةَ الصُّبْحِ قُلْتَ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، اللّٰهُ أَكْبَرُ اللّٰهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 645 ، باب :اذان کا باب

روایت ہے حضرت بلال سے فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فجرکی نماز کے علاوہ کسی نماز میں تثویب نہ کرو ۱؎(ترمذی،ابن ماجہ)ترمذی کہتے ہیں کہ محدثین کے نزدیک ابو اسرائیل راوی قوی نہیں ۲؎

وَعَنْ بِلَالٍ قَالَ: قَالَ لِيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تُثَوِّبَنَّ فِيْ شَيْءٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ إِلَّا فِيْ صَلَاةِ الْفَجْرِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ:أَبُوْ إِسْرَائِيْلَ الرَّاوِيُ لَيْسَ هُوَ بِذَاكَ الْقَوِيِّ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيْثِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 646 ، باب :اذان کا باب

روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال سے فرمایا جب تم اذان کہو توٹھہرٹھہرکرکہواورجب تکبیرکہوتوجلدی جلدی کہو ۱؎اور اپنی اذان وتکبیر کے درمیان اتنا فاصلہ کرو کہ کھانے والا اپنے کھانے سے اورپینے والا اپنے پینے سے اورقضائے حاجت والاجب حاجت کوجائے ۲؎تو فارغ ہوجائے اور صف میں نہ کھڑے ہو حتی کہ مجھ کو دیکھو ۳؎یہ ترمذی نے روایت کی اورفرمایا کہ اسے ہم عبدالمنعم کی حدیث سے ہی جانتے ہیں اور یہ مجہول اسناد ہے ۴؎

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ لِبِلَالٍ: "إِذَا أَذَّنْتَ فَتَرَسَّلْ، وَإِذا أَقَمْتَ فَاحْدُرْ، وَاجعَلْ بَيْنَ أَذَانِكَ وَإِقَامَتِكَ قَدْرَ مَا يَفْرُغُ الآكِلُ مِنْ أَكْلِهٖ، وَالشَّارِبُ مِنْ شُرْبِهٖ، وَالْمُعْتَصِرُ إِذَا دَخَلَ لِقَضَاءِ حَاجَتِهٖ، وَلَا تَقُومُوْا حَتّٰى تَرَوْنِيْ" رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: لَا نَعْرِفُهٗ إِلَّا مِنْ حَدِيْثِ عَبْدِ الْمُنعِمِ وَهُوَ إِسْنَادٌ مَجْهُولٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 647 ، باب :اذان کا باب

روایت ہے حضرت زیاد ابن حارث صدائی سے ۱؎فرماتے ہیں مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجرمیں حکم دیا کہ اذان کہومیں نے اذان کہی پھر حضرت بلال نے تکبیرکہناچاہی تو حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ تمہارے صدائی بھائی نے اذان کہی ہے جو اذان کہے وہ ہی تکبیر کہے ۲؎(ترمذی،ابو داؤد،ابن ماجہ)

وَعَنْ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ قَالَ: أَمَرَنِيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَن أَذِّنْ فِيْ صَلَاةِ الْفَجْرِ" فَأَذَّنْتُ، فَأَرَادَ بِلَالٌ أَنْ يُقِيْمَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ أَخَا صُدَاءٍ قَدْ أَذَّنَ، وَمَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 648 ، باب :اذان کا باب

روایت ہے حضرت ابن عمرسے فرماتےہیں کہ جب مسلمان مدینہ آئے تو جمع ہوکر اوقات نماز کا اندازہ لگالیتے تھے نمازوں کی اذان کوئی نہ دیتا تھا ایک دن اس بارے میں مشورہ کیابعض نے کہا کہ عیسائیوں کے ناقوس کی طرح بنالو اوربعض بولے کہ یہودکے بِگل کی طرح بنالوتب حضرت عمرنے فرمایاکسی کو نماز کی منادی کرنے کیوں نہیں بھیج دیتے ۱؎تب حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایابلال اٹھونماز کی منادی کرو ۲؎(مسلم،بخاری)

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ الْمُسْلِمُوْنَ حِيْنَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُوْنَ فَيَتَحَيَّنُوْنَ لِلصَّلَاةِ، وَلَيْسَ يُنَادِيْ بِهَا أَحَدٌ، فَتَكَلَّمُوْا يَوْمًا فِيْ ذٰلِكَ ، فَقَالَ بَعْضُهُمُ: اتَّخِذُوْا مِثْلَ ناقُوْسِ النَّصَارٰى، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: قَرْنًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُوْدِ، فَقَالَ عُمَرُ: أَوَلَا تَبْعَثُوْنَ رَجُلًا يُنَادِيْ بِالصَّلَاةِ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَا بِلَالُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 649 ، باب :اذان کا باب

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن زید ابن عبدربہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناقوس بنانے کاحکم دیناچاہا تاکہ جماعت نمازکے واسطے لوگوں کے لئےبجایاجائے ۲؎تو مجھے خواب میں ایک شخص دکھائی دیاجواپنے ہاتھ میں ناقوس اٹھائے ہوئے تھا میں نے کہا رب کے بندے کیا توناقوس بیچتا ہے وہ بولا اس کا تم کیاکروگے میں نے کہا اس سے نماز کے لئےبلایا کریں گے ۳؎وہ بولا کیا تمہیں اس سے اچھی چیز نہ بتا دوں۴؎میں نے کہاہاں فرماتے ہیں وہ بولاکہوالله اکبرآخر تک اور اس طرح تکبیر ۵؎جب صبح ہوئی میں حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضرہوا جو کچھ دیکھا تھاحضور سے عر ض کیا فرمایا بفضلہ تعالٰی یہ خواب سچی ہے ۶؎تم بلال کے ساتھ کھڑے ہوجاؤ جو کچھ خواب میں دیکھا ہے انہیں بتاتے جاؤ وہ اذان دیں کیونکہ وہ تم سے بلند آواز ہیں ۷؎میں حضرت بلال کے ساتھ کھڑا ہوگیا میں انہیں بتانے لگا وہ اذان دینے لگے ۸؎فرماتے ہیں یہ اذان حضرت عمرنے اپنے گھر میں سنی تو چادرگھسیٹتے ہوئے نکلے عرض کرنے لگے یارسولاللہ(صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کی قسم جس نے تمہیں حق دے کربھیجا ہے میں نے بھی ایسا ہی خواب دیکھا ہے جیسا کہ انہوں نے ۹؎حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کاشکر ہے(ابوداؤد،دارمی،ابن ماجہ)مگر ابن ماجہ نے تکبیر کا ذکر نہ کیا ترمذی نے فرمایا یہ حدیث صحیح ہے لیکن انہوں نے ناقوس کا واقعہ صراحتًا بیان نہ کیا۱۰؎

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبَّهٖ قَالَ: لَمَّا أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاقُوسِ يُعْمَلُ لِيُضْرَبَ بِهٖ لِلنَّاسِ لِجَمْعِ الصَّلَاةِ، طَافَ بِيْ وَأَنَا نَائِمٌ رَجُلٌ يَحْمِلُ ناقُوسًا فِيْ يَدِهٖ، فَقُلْتُ: يَا عَبْدَ اللّٰهِ أَتَبِيْعُ النَّاقُوْسَ؟ قَالَ: وَمَا تَصْنَعُ بِهٖ؟ قُلْتُ: نَدْعُوْ بِهٖ إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلٰى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ ذٰلِكَ ؟ فَقُلْتُ لَهٗ: بَلٰى، قَالَ: فَقَالَ: تَقُوْلُ: اللّٰهُ أَكْبَرُ. . . إِلَى آخِرِهٖ، وَكَذَا الإِقَامَةُ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَتَيْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهٗ بِمَا رَأَيْتُ، فَقَالَ: "إِنَّهَا لَرُؤْيَا حَقٍّ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ، فَقُمْ مَعَ بِلَالٍ فَأَلْقِ عَلَيْهِ مَا رَأَيْتَ، فَلْيُؤَذِّنْ بِهٖ،فَإِنَّهٗ أَنْدٰى صَوْتًا مِنْكَ" فَقُمْت مَعَ بِلَالٍ، فَجعَلتُ أُلْقِيْهِ عَلَيْهِ وُيُؤَذِّنُ بِهٖ، فَقَالَ: فَسَمِعَ بِذٰلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ فِيْ بَيْتِهِ، فَخَرَجَ يَجُرُّ رِدَاءَهٗ يَقُوْلُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! وَالَّذِيْ بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ مَا أُرِيَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرِ الإِقَامَةَ.وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ لَكِنَّهٗ لَمْ يُصَرِّحْ قصَّةَ النَّاقُوْسِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 650 ، باب :اذان کا باب

روایت ہے حضرت ابوبکرہ سے ۱؎فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجرکی نمازکے لئےنکلا تو آپ جس سوتے ہوئے شخص پر گزرتے تھے اسے نماز کے لئےآواز دیتے یا اپنے پاؤں شریف سے ہلاتے ۲؎(ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- لِصَلَاةِ الصُّبْحِ، فَكَانَ لَا يَمُرُّ بِرَجُلٍ إِلَّا نَادَاهُ بِالصَّلَاةِ، أَوْ حَرَّكَهُ بِرِجْلِهٖ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 651 ، باب :اذان کا باب

روایت ہے حضرت مالک سے انہیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ عمر فاروق کی خدمت میں مؤذن نمازفجرکی اطلاع دینے حاضر ہوئے ۱؎انہیں سوتاپایا بولے نماز نیندسے بہتر ہے انہیں عمر فاروق نے حکم دیا یہ لفظ فجرکی اذان میں داخل کرلیں ۲؎(مؤطا)

وَعَنْ مَالِكٍ بَلَغَهٗ: أَنَّ الْمُؤَذِّنَ جَاءَ عُمَرَ يُؤْذِنُهٗ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ فَوَجَدَهٗ نَائِمًا، فَقَالَ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، فَأَمَرَهٗ عُمَرُ أَنْ يَّجْعَلَهَا فِيْ نِدَاءِ الصُّبْح. رَوَاهُ فِيْ "الْمُوَطَّأِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 652 ، باب :اذان کا باب

روایت ہے حضرت عبدالرحمن بن سعدبن عماربن سعدمؤذن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ۱؎فرماتے ہیں مجھے میرے والد نے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے اپنے دادا سے روایت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال کو حکم دیا کہ اپنی انگلیاں کانوں میں دے لیں فرمایا یہ عمل تمہاری آواز کو بلند کرنے والاہے ۲؎(ابن ماجہ)

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ مُؤَذِّنِ رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: حَدَّثَنِيْ أَبِي عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهٖ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَمَرَ بِلَالًا أَنْ يَجْعَلَ أُصْبُعَيْهِ فِيْ أُذُنَيْهِ وَقَالَ: "إِنَّهٗ أَرْفَعُ لِصَوْتِكَ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 653 ، باب :اذان کا باب