- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- ایمان کا بیان
- باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
ایمان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1
روایت ہے عبد الله بن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ الله نے مخلوق کی تقدیریں آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے لکھیں ۱؎فرماتے ہیں کہ اس کا عرش پانی پر تھا ۲؎(مسلم)
عَنْ عَبْدِ اللهِ ابْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «كَتَبَ اللّٰهُ مَقَادِيْرَ الْخَلَائِقِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْأَرْضَ بِخَمْسِيْنَ أَلْفَ سَنَةٍ» قَالَ: «وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ» .رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 79 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر چیز اندازے سے ہے یہاں تک کہ عاجزی اورعقلمندی ۱؎(مسلم)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ حَتَّى الْعَجْزِ وَالْكَيْسِ» .رَوَاهُمُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 80 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت آدم و موسیٰ نے اپنے رب کے نزدیک ۱؎مناظرہ کیا تو آدم علیہ السلام حضرت موسیٰ (علیہ السلام )پر غالب رہے حضرت موسیٰ نے فرمایا کہ آپ وہ آدم ہیں جنہیں الله نے اپنے دستِ قدرت سے پیدا کیا اور آپ میں اپنی روح پھونکی ۲؎اور اپنے فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا ۳؎آپ کو جنت میں رکھا۴؎پھر آپ نے اپنی لغزش کی وجہ سے لوگوں کو نیچے اتاردیا ۵؎حضرت آدم نے فرمایا کہ آپ ہی وہ موسیٰ ہیں جنہیں الله نے اپنی پیغمبری اور ہمکلامی کے لیئے چنا ۶؎اور آپ کوتختیاں بخشیں جن میں ہر چیز کاکھلا بیان ہے ۷؎اورآپ کوخصوصی ہمکلامی سے قرب بخشا فرمایئے کہ آپ نے میری پیدائش سے کتنے پہلے توریت کو پایا کہ رب نے لکھ دیا تھا۸؎حضرت موسیٰ نے فرمایا چالیس سال پہلے۹؎حضرت آدم نے فرمایا تو کیا آپ نے توریت میں یہ بھی دیکھا ۱۰؎کہ آدم نے اپنے رب کی فرمانبرداری سےلغزش کی تو کامیاب نہ ہوئے فرمایا ہاں آپ نے فرمایا تو کیا آپ اس لغزش پر ملامت کرتے ہیں ۱۱؎جس کا کرلینا میرے مقدر میں میری پیدائش سے چالیس سال پہلے لکھا جاچکا تھا ۱۲؎فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ حضرت آدم موسیٰ علیہ السلام پر غالب رہے۱۳؎(مسلم)
وعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ الله صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «اِحْتَجَّ اٰدَمُ وَمُوْسٰى عِنْدَ رَبِّهِمَا فَحَجَّ آدَمُ مُوْسٰى قَالَ مُوْسٰى أَنْتَ اٰدَمُ الَّذِيْ خَلَقَكَ اللّٰهُ بِيَدِهٖ وَنَفَخَ فِيْكَ مِنْ رُوْحِهٖ وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهٗ وَأَسْكَنَكَ فِيْ جَنَّتِهٖ ثُمَّ أَهَبَطْتَ النَّاسَ بِخَطِيْئَتِكَ إِلیٰ الأَرْضِ قَالَ اٰدَمُ أَنْتَ مُوسَى الَّذِيْ اصْطَفَاكَ اللّٰهُ بِرِسَالَتِهٖ وَبِكَلَامِهٖ وَأَعْطَاكَ الْأَلْوَاحَ فِيْهَا تِبْيَانُ كُلِّ شَيْءٍ وَقَرَّبَكَ نَجِيًّا فَبِكَمْ وَجَدَتَ اللهَ كَتَبَ التَّوْرَاةَ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ قَالَ مُوسٰى بِأَرْبَعِيْنَ عَامًا قَالَ اٰدَمُ فَهَلْ وَجَدْتَ فِيْهَا (وَعَصٰٓى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى)
قَالَ نَعَمْ قَالَ أَفَتَلُوْمُنِيْ عَلٰى أَنْ عَمِلْتُ عَمَلًا كَتَبَهُ اللّٰهُ عَلَيَّ أَنْ أَعْمَلَهُ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِيْ بِأَرْبَعِينَ سَنَةٍ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَجَّ اٰدَمُ مُوسٰى» .رَوَاهُمُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 81 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
روایت ہےحضرت ابن مسعودسے فرماتےہیں کہ سچے مصدوق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خبردی ۱؎کہ تم میں سے ہر ایک کا مادہ پیدائش ماں کے پیٹ میں چالیس دن نطفہ رہتاہے پھراسی قدرخون کی پھٹک پھر اسی قدر لوتھڑا ۲؎پھر الله تعالٰی ایک فرشتہ چار باتیں بتا کر بھیجتاہے۳؎تو وہ فرشتہ اس کے کام اس کی موت اس کا رزق اور بدبخت ہےیانیک بخت ہے سب کچھ لکھ لیتا ہے۴؎پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے تو اس کی قسم جس کے سوا کوئی معبودنہیں کہ تم میں بعض جنتیوں کے کام کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ اس میں اور جنت میں صرف ایک ہاتھ فاصلہ رہ جاتا ہے ۵؎کہ اچانک نوشتہ تقدیر اس کے سامنے آتا ہے اور دوزخیوں کے کام کرلیتا ہے ۶؎پھر وہاں ہی پہنچتاہے اورتم میں بعض دوزخیوں کے کام کرتے ہیں یہاں تک کہ اس میں اور دوزخ میں صرف ایک ہاتھ رہ جاتا ہے کہ اس کا نوشتہ سامنے آتا ہے اور جنتیوں کے کام کرتا ہے پھر اس میں داخل ہوجاتا ہے ۷؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ اِبْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللهِ صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوْقُ: «إِنَّ خَلْقَ أَحَدِكُمْ يُجْمَعُ فِيْ بَطْنِ أُمِّهٖ أَرْبَعِيْنَ يَوْمًا نُطْفَۃً ثُمَّ يَكُوْنُ عَلَقَةً مِثْلَ ذٰلِكَ ثُمَّ يَكُوْنُ مُضْغَةً مِثْلَ ذٰلِكَ ثُمَّ یَبْعَثَ اللّٰهُ اِلَیْہِ مَلَكاً بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ فَیَكْتُبُ عَمَلَہٗ وَأَجَلَهٗ وَ رِزْقَهٗ وَشَقِيٌ أَوْ سَعِيْدٌ ثُمَّ یَنْفَخُ فِیْہِ الرُّوْحَ فَوَ الَّذِیْ لَااِلٰہَ غَیْرَہٗ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتّٰى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتّٰى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُهَا» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 82 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
روایت ہےسہل ابن سعدسے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بعض بندے کرتوت تو دوزخیوں کے سےکرتے ہیں لیکن ہوتے ہیں جنتی اور بعض عمل توجنتیوں کے سے کرتے ہیں لیکن ہوتے ہیں دوزخی اعمال کا اعتبار صرف انجام سے ہے۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِنَّ الْعَبْدَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجنَّةِ وَإنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالْخَوَاتِيْمِ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 83 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
روایت ہے حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے ۱؎فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک انصاری بچہ کے جنازے کی دعوت دی گئی میں نے عرض کیا اسے خوشخبری ہوکہ وہ جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیاہے۲؎جس نے نہ تو گناہ کیا نہ گناہ کا وقت پایا فرمایا اے عائشہ اس کے سوابھی ہوسکتا ہے۳؎الله نے کچھ جنت والے پیدا کیئے ہیں جنہیں ان کے باپ کی پیٹھوں میں جنت کے لیئے بنایاکچھ آگ والے پیدا کیئے جنہیں ان کے باپ کی پیٹھوں میں دوزخ کے لیئے بنایا۴؎(مسلم)
وعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: «دُعِيَ رَسُولُ اللهِ صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلٰى جِنَازَةِ صَبِيٍّ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ طُوْبىٰ لِهٰذَا عُصْفُوْرٌ مِنْ عَصَافِيْرِ الْجَنَّةِ لَمْ يَعْمَلِ السُّوْءَ وَلَمْ يُدْرِكْهُ فقَالَ أَوَ غَيْرُ ذٰلِكَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللهَ خَلَقَ لِلْجَنَّةِ أَهْلًا خَلَقَهُمْ لَهَا وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ وَخَلَقَ لِلنَّارِ أَهْلًا خَلَقَهُمْ لَهَا وَهُمْ فِيْ أَصْلَابِ آبَائِهِمْ».رَوَاهُمُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 84 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
روایت ہے حضرت علی ۱؎سے فرماتے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں ایسا کوئی نہیں جس کا ایک ٹھکانہ دوزخ میں ۲؎اور ایک ٹھکانہ جنت میں نہ لکھاجاچکا ہو لوگوں نےعرض کیا یارسول الله ہم اپنی تحریر پر بھروسہ کیوں نہ کرلیں اور عمل چھوڑدیں ۳؎فرمایا عمل کیئے جاؤ ہر ایک کو وہی اعمال آسان ہوں گے جس کے لیئے پیدا ہو۴؎اگر خوش نصیبوں سے ہے تو اسے خوش نصیبی کے اعمال آسان ہوں گے اور اگر بدنصیبوں سے ہے تو اسے بدنصیبی کے اعمال میسر ہوں گے ۵؎پھرحضور نے یہ آیت تلاوت کی لیکن جو خیرات کرے اور پرہیزگاراور ایماندار ہواالایہ۶؎(مسلم،بخاری)
وَ عَنْ عَليٍّرَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ، وَمَقْعَدُهُ مِنَ الْجَنَّةِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ! أَفَلَا نَتَّكِلُ عَلٰی كِتَابِنَا وَنَدَعُ الْعَمَلَ قَالَ: "اِعْمَلُوْا فَكُلٌّ مُيَسِّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهٗ أمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَسَيُيَسَّرُ لِعَمَلِ السَّعَادَةِ، وَأَمَّا مِنْ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ فَسَيُيَسَّرُ لِعَمَلِ الشَّقَاوَةِ"، ثُمَّ قَرَأَ: فَأَمَّا مَنْ أَعْطٰى وَاتَّقٰى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰى اَلْآيَہْ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 85 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ الله تعالٰی نے ہر آدمی پر اس کا زنا کا حصہ لکھا ہے ۱؎جسے وہ یقینًا پائے گا لہذا آنکھ کا زنا نظر بد ہے ۲؎اور زبان کا زنا گفتگو۳؎ہے دل تمنا اور خواہش کرتا ہے شرمگاہ اس خواہش کو سچا جھوٹا کردیتی ہے۔(مسلم،بخاری)اورمسلم کی روایت میں ہے کہ اولاد آدم پر زنا کا حصہ لکھا جاچکا ہے جسے وہ یقینًا پائے گا آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے اور کانوں کا زنا سننا۴؎اور زبان کا زنا گفتگو ہے،ہاتھ کا زنا چھونا،پکڑنا،پاؤں کا زنا قدم سے چلنا ۵؎دل چاہتا ہے اورتمنا کرتا ہے شرمگاہ اسے سچا جھوٹا کردیتی ہے ۶؎
وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الله كَتَبَ عَلَى ابْنِ اٰدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا، أَدْرَكَ ذٰلِكَ لَا مَحَالَةَ، فَزِنَا الْعَيْنِ النَّظَرُ، وَزِنَا اللِّسَانِ الْمَنْطِقُ، وَالنَّفْسُ تَمَنّٰى وَتَشْتَهِيْ، وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذٰلِكَ وَيُكَذِّبُهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: "كُتِبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ نَصِيبُهُ مِنَ الزِّنَا، مُدْرِكٌ ذٰلِكَ لَا مَحَالَةَ، العَيْنَانِ زِنَاهُمَا النَّظَرُ، وَالأُذُنَانِ زِنَاهُمَا الْاِسْتِمَاعُ، وَاللِّسَانُ زِنَاهُ الْكَلَامُ، وَالْيَدُ زِنَاهَا الْبَطْشُ، وَالرِّجْلُ زِنَاهَا الْخُطَا، وَالْقَلْبُ يَهْوٰى وَيَتَمَنّٰى، وَيُصَدِّقُ ذَلِكَ الْفَرْجُ وَيُكَذِّبُهُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 86 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
روایت ہے حضرت عمر ان ابن حصین سے ۱؎کہ مزینہ کے دوشخصوں نے عرض کیا کہ یارسول الله فرمایئے تو کہ جو کچھ لوگ آج عمل کررہے ہیں اور جن میں مشغول ہیں کیا یہ ایسی چیز ہے جس کا ان پر فیصلہ ہوچکا ہے اور جس چیز کی تقدیر ان میں گزر چکی ہے یا اس میں ہے جسے آیندہ کریں گے جو ان کے پاس پیغمبر لائے جو دلیل ان پر قائم ہوچکی ۲؎حضور نے فرمایا نہیں بلکہ عمل وہ چیز ہے جس کا ان پر فیصلہ ہوچکا اور تقدیر گزر چکی ۳؎اس کی تائید الله کی کتاب میں بھی موجود ہے۔قسم جان کی اور اس کے درست فرمانے کی اور اس کی کہ اس کے دل میں ڈال دی بدکاری و پرہیزگاری ۴؎(مسلم)
وَعَنْ عِمْرَانَ ابْنِ حُصُيْنٍ: إِنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ مُزَيْنَةَ قَالَا: يَا رَسُولَ اللهِ! أَرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَكْدَحُونَ فِيهِ؟ أَشَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضٰى فِيهِمْ مِنْ قَدَرٍ سَبَقَ، أَوْ فِيمَا يَسْتَقْبِلُوْنَ بِهٖ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهٖ نَبِيُّهُمْ وَثَبَتَتِ الْحُجَّةُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ: "لَا، بَلْ شَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضٰى فِيهِمْ، وَتَصْدِيقُ ذٰلِكَ فِيْ كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا ".رَوَاهُمُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 87 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
روایت ہے ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول الله میں جوان آدمی ہوں اور اپنے نفس پر زنا سے ڈرتا ہوں اور نکاح کرنے کی قدرت نہیں پاتا ۱؎ہوں شاید وہ حضور سے خصی ہونے کی اجازت چاہتے تھے ۲؎فرماتے ہیں کہ حضور خاموش رہے میں نے پھر وہی کہا آپ پھر خاموش رہے میں نے پھر وہی کہا پھر سرکار خاموش رہے ۳؎میں نے پھر اسی طرح کہا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوہریرہ قلم قدرت وہ چیز لکھ کر سوکھ بھی چکا جو تم پانے والےہوخواہ اب خصی ہو یا رہنے دو۴؎(بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنِّيْ رَجُلٌ شَابٌّ وَأَنَا أَخَافُ عَلٰى نَفْسِيْ الْعَنَتَ وَلَا أَجِدُ مَا أَتَزَوَّجُ بِهِ النِّسَاءَ كأَنَّهُ يَسْتَأْذِنُهُ فِي الِاخْتِصَاءِ قَالَ: فَسَكَتَ عَنِّيْ ثُمَّ قُلْتُ مِثْلَ ذٰلِكَ فَسَكَتَ عَنِّي ثُمَّ قُلْتُ مِثْلَ ذٰلِكَ فَسَكَتَ عَنِّي ثُمَّ قُلْتُ مِثْلَ ذٰلِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا أَنْتَ لَاقٍ فَاخْتَصِ عَلٰى ذٰلِكَ أَو ذَرْ».رَوَاهُالبُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 88 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
روایت ہے عبد الله بن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ لوگوں کے سارے دل ۱؎الله کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں ۲؎ایک دل کی طرح جیسےچاہتا ہے انہیں پھیر تا ہے ۳؎پھرفرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اے الله اے دلوں کے پھیرنے والے ہمارے دل اپنی فرمانبرداری کی طرف پھیر دے ۴؎(مسلم)
وَعَنْ عَبْدِ الله بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِنَّ قُلُوبَ بَنِيْ اٰدَمَ كُلَّهَا بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمٰنِ كَقَلْبٍ وَاحِدٍ يَصْرِفُهُ كَيْفَ يَشَاءُ"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ -صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "اَللّٰهُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَى طَاعَتِكَ".رَوَاهُمُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 89 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر بچہ دین فطرت پر ہی پیدا ہوتا ہے ۱؎پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی عیسائی یا مجوسی بنادیتے ہیں ۲؎جیسے جانور بے عیب بچہ جنتا ہے کیا تم اس میں کوئی ناک کان کٹا پاتے ہو۳؎پھر فرماتے تھے کہ الله کی پیدائش ہے جس پر لوگوں کو پیدا فرمایا اللہ کی خلق میں تبدیلی نہیں ۴؎یہ ہی سیدھا دین ہے۔(مسلم وبخاری)
وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ -صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ، هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ؟ ثُمَّ يَقُوْلُ: فِطْرَتَ اللهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللهِ ذٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ " مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 90 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں کہ ہم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ چیزیں بتانے کو قیام فرمایا ۱؎کہ یقینًا الله تعالٰی نہ سوتا ہے نہ سونا اس کے لائق ہے ۲؎پلہ یا رزق جھکاتا یا اٹھاتاہے ۳؎اس کی بارگاہ میں رات کے اعمال دن کے اعمال سے پہلے اور دن کے اعمال رات کے اعمال سے پہلے پیش ہوجاتے ہیں ۴؎اس کا پردہ نور ہے ۵؎اگر پردہ کھول دے تو اس کی ذات کی شعاعیں(تجلیات) تاحدِ نظر مخلوق کو جلادیں۶؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِيْ مُوْسٰى قَالَ قَامَ فِيْنَا رَسُوْلُ اللهِ صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ فَقَالَ: «إِنَّ اللهَ لَا يَنَامُ وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّهَارِ وَعَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ عَمَلِ اللَّيْلِ حِجَابُهٗ النُّوْرُ لَوْ کَشَفَہٗ لَأَحْرَقَتْ سَبْحَاتَ وَجْهِهٖ مَاانْتَهٰي إِلِيْهِ بَصَرُهٗ مِنْ خَلْقِهٖ » .رَوَاهُمُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 91 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
روایت ہے حضرت ابو ہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے الله کا دستِ کرم بھرا ہے ۱؎جسے خرچ کم نہیں کرسکتا اس کی عطا پاشی دن رات جاری ہے ۲؎غور تو کرو جب سے آسمان اور زمین بنا ہے تب سے کتنا خرچ فرمایا لیکن اس خرچ نے اس کے دستِ کرم میں کوئی کمی نہ کی اس کا عرش پانی پر تھا ۳؎اس کے قبضہ میں ترازو ہے جسے بلندوپست فرماتا ہے۴؎(مسلم بخاری)اور مسلم کی روایت میں ہے کہ الله کا دستِ کرم بھرا ہوا ہے ابن نمیر نےمَلَأَفرمایا اور فرمایا سحاء سے رات و دن کی کوئی چیز کم نہیں کرتی۔
وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "يَدُ اللهِ مَلأَى لَا تَغِيضُهَا نَفَقَةٌ سَحَّاءُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، أرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُذْ خَلَقَ السَّمَاءَ وَالأَرْضَ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضْ مَا فِيْ يَدِهٖ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ، وَبِيَدِهِ الْمِيزَانُ، يَخْفِضُ وَيَرْفَعُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: "يَمِيْنُ اللهِ مَلأَى -قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: مَلْآنُ- سَحَّاءُ لَا يُغِيضُهَا شَيْءُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ"
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 92 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کفار کے بچوں کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا کہ رب جانے وہ کیا اعمال کرتے ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ الله صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِيْنَ قَالَ: «اللّٰهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا عَامِلِيْنَ» مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 93 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے رب نے جو چیز پہلے پیدا کی وہ قلم تھا ۱؎پھر فرمایا اس کو لکھ بولا کیا لکھوں ۲؎فرمایا تقدیر لکھ تب اس نے جو کچھ ہوچکا اور جو ہمیشہ تک ہوگا لکھ دیا ۳؎(ترمذی)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث مسندًا غریب ہے۔
وَعَنْ عُبَادَةِ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ رَسُولُ الله صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ الْقَلَمَ فَقَالَ لَهٗ اُكْتُبْ فَقَالَ مَا أَكْتُبُ قَالَ اُكْتُبِ الْقَدَرَ فَكَتَبَ مَا كَانَ وَمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى الْأَبَدِ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِسْنَادًا
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 94 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
روایت ہے مسلم ابن یسار سے ۱؎فرماتے ہیں کہ عمر ابن الخطاب سے آیت کے متعلق پوچھا گیا جب آپ کے رب نے اولاد آدم کی پیٹھوں سے ان کی ذریت نکالی۲؎الایۃ،∞حضرت عمر نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ سے یہ ہی سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ الله نے حضرت آدم کو پیدا فرمایا پھر ان کی پیٹھ کواپنے ہاتھ سے ملا ۳؎تو اس سے ان کی اولادنکلی۴؎تو فرمایا کہ انہیں میں نے جنت کی لیئے بنایا یہ جنتیوں کے کام کریں گے۵؎پھر ان کی پشت ملی تو اس سے اولادنکلی۶؎تو فرمایا انہیں میں نے آگ کے لیئے بنایا یہ لو گ دوزخیوں کے کام کریں گے ۷؎ایک شخص بولا پھر عمل کا ہے میں رہا یارسول الله ۸؎حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یقینًا الله جس بندے کو جنت کے لیئے پیدا فرماتا ہے تو اس سے جنتیوں کے کام لیتا ہے یہاں تک کہ وہ جنتیوں کے اعمال میں سے کسی عمل پر مرتا ہے اس بنا پر اسے داخل فرماتا ہے جنت میں ۹؎اور جب بندے کو دوزخ کے لیئے پیدا فرماتا ہے تو اس سے دوزخیوں کے کام لیتا ہے۱۰؎تاآنکہ وہ دوزخیوں کے کاموں میں سے کسی کام پرمرتا ہے جس کی وجہ سے اسے دوزخ میں داخل فرماتا ہے ۱۱؎(مالک ترمذی،ابوداؤد)
وَعَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: سُئِلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَنْ هَذِهٖ الآيَةِ: وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ اَلْآيَةْ ، قَالَ عُمَرُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ عَنْهَا فَقَالَ: "إِنَّ الله خَلَقَ آدَمَ، ثُمَّ مَسَحَ ظَهْرَهُ بِيَمِينِهِ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً، فَقَالَ: خَلَقْتُ هَؤُلَاءِ لِلْجَنَّةِ، وَبِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَعْمَلُونَ، ثُمَّ مَسَحَ ظَهْرَهُ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً، فَقَالَ: خَلَقْتُ هَؤُلَاءِ لِلنَّارِ وَبِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ يَعْمَلُونَ"، فقَالَ رَجُلٌ فَفِيمَ الْعَمَلُ يَا رَسُولَ الله؟ فَقَالَ رَسُولُ الله صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِنَّ الله إِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلْجَنَّةِ، اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَمُوتَ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيُدْخِلُهُ بِهِ الْجَنَّةَ، وَإِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلنَّارِ، اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى يَمُوتَ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَهْلِ النَّارِ فَيُدْخِلُهُ بِهِ النَّارَ". رَوَاهُ مَالِكٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 95 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
روایت ہے عبد الله بن عمرو سے فرماتے ہیں کہ ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے کہ دستِ اقدس میں دو کتابیں تھیں ۱؎فرمایا کہ کیا جانتے ہو یہ کیا کتابیں ہیں ۲؎ہم نے عرض کیا یارسو ل الله آپ کے بغیر بتائے نہیں جانتے ۳؎تو داہنے ہاتھ کی کتاب کے بارے میں فرمایا کہ یہ کتاب رب العلمین کے پاس سے آئی ہے ۴؎جس میں تمام جنتیوں کے نام اور ان کے باپ دادوں اور قبیلوں کے نام ہیں پھر آخر تک کاٹوٹل لگادیا گیا ہے ۵؎لہذا ان میں کبھی زیادتی کمی نہیں ہوسکتی ۶؎پھر بائیں ہاتھ والی کتاب کے متعلق فرمایاکہ یہ کتاب الله رب العلمین کی طرف سے آئی ہے ۷؎اس میں دوزخیوں اور ان کے باپ دادوں اور قبیلوں کے نام ہیں پھر آخر تک کا ٹوٹل لگادیا گیااب ان میں کبھی زیادتی اور کمی نہیں ہوسکتی ۸؎صحابہ نے عرض کیا عمل کا ہے میں رہا یارسول الله اگر اس معاملہ سے فراغت ہوچکی۹؎فرمایا سیدھے رہو قرب الٰہی حاصل کرو۱۰؎کیونکہ جنتی کا خاتمہ جنتیوں کے عمل پر ہوتا ہے اگرچہ پہلے کوئی بھی کام کرے اور یقینًادوزخی کا خاتمہ دوزخیوں کے کام پرہوتا ہے اگرچہ پہلے کوئی عمل کرے۔پھرحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دستِ مبارک سے اشارہ فرما کر انہیں جھاڑ دیا ۱۱؎پھر فرمایا کہ تمہارا رب بندوں سے فارغ ہوچکا ایک ٹولہ جنتی اور دوسرا ٹولہ دوزخی ہے ۱۲؎(ترمذی)
وَعَنْ عَبْدِ الله بْنِ عَمْرٍو قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ الله -صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفِي يَدَيْهِ كِتَابَانِ فَقَالَ: "أَتَدْرُونَ مَا هَذَانِ الكِتَابَانِ؟ " قُلْنَا: لَا، يَا رَسُولَ اللهِ إِلَّا أَنْ تُخْبِرَنَا، فَقَالَ لِلَّذِيْ فِي يَدِهِ الْيُمْنَى: "هَذٰا كِتَابٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ، فِيهِ أَسْمَاءُ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَسْمَاءُ آبَائِهِم وقَبَائِلِهِمْ، ثُمَّ أُجْمِلَ عَلٰی آخِرِهِمْ، فَلَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَبَدًا ثُمَّ قَالَ لِلَّذِيْ فِي شِمَالِهٖ: "هَذَا كِتَابٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، فِيهِ أَسْمَاءُ أَهْلِ النَّارِ وَأَسْمَاءُ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ، ثُمَّ أُجْمِلَ عَلَى آخِرهِمْ، فَلَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَبَدًا"، فَقَالَ أَصْحَابُهُ: فَفِيمَ الْعَمَلُ يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنْ كَانَ أَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ؟ فَقَالَ: "سَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا، فَإِنَّ صَاحِبَ الْجَنَّةِ يُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنْ عَمِلَ أَيَّ عَمَلٍ، وَإنَّ صَاحِبَ النَّارِ يُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ وَإِنْ عَمِلَ أَيَّ عَمَلٍ"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْهِ فَنَبَذَهُمَا، ثُمَّ قَالَ: "فَرَغَ رَبُّكُمْ مِنَ الْعِبَادِ، فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ.رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 96 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
روایت ہے ابو خزامہ سے وہ اپنے والد سے راوی ۱؎فرماتے ہیں میں نےعرض کیا یارسول الله مطلع فرمائیے کہ جو منترہم کرتے ہیں ۲؎جو دوائیں اور پرہیز ہمارے استعمال میں آتے ہیں ۳؎کیا یہ الله کی تقدیر پلٹ دیتے ہیں فرمایا یہ خود الله کی تقدیر سے ہیں ۴؎(احمد،ترمذی،ابن ماجہ)
وَعَنْ أبِيْ خُزَامَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ الله أَرَأَيْتَ رُقًى نَسْتَرْقِيْهَا، وَدَوَاءً نَتَدَاوٰى ، وَتُقَاةً نَتَّقِيْهَا، هَلْ تَرُدُّ مِنْ قَدَرِ اللهِ شَيْئًا؟ قَالَ: "هِيَ مِنْ قَدَرِ اللهِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 97 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
روایت ہے ابوہریرہ سے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے حالانکہ ہم مسئلہ تقدیر پر جھگڑ رہے تھے ۱؎تو آپ ناراض ہوئے حتی کہ چہرہ انور سرخ ہوگیا گویا کہ رخساروں میں انار کے دانے نچوڑ دیئے گئے ہیں ۲؎اور فرمایا کیا تمہیں اس کا حکم دیا گیا ہے یا میں اسی کے ساتھ تمہاری طرف بھیجا گیا ۳؎تم سے پہلے لوگوں نے جب اس مسئلہ میں جھگڑے کیئے تو ہلاک ہی ہوگئے ۴؎میں تم پر لازم کرتا ہوں لازم کرتا ہوں کہ اس مسئلہ میں نہ جھگڑو ۵؎(ترمذی)
وَعَنْ أبِيْ هُرَيْرَة قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُوْلُ اللهِ صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَتَنَازَعُ فِي الْقَدَرِ فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ حَتَّى كَأَنَّمَا فُقِئَ وَجْنَتَيْهِ حَبَّ الرُّمَّانِ فَقَالَ أَبِهَذٰا: «أُمِرْتُمْ أَمْ بِهَذٰا أُرْسِلْتُ إِلَيْكُمْ إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ حِيْنَ تَنَازَعُوْا فِيْ هَذٰا الْأَمْرِ عَزَمْتُ عَلَيْكُمْ عَزَمْتُ عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَنَازَعُوْا فِيْهِ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 98 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب