- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- ایمان کا بیان
- باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
ایمان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1
اس کی مثل ابن ماجہ نے عمرو ابن شعیب سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے ان کے دادا سے روایت کیا ۱؎
وَرَوٰى اِبْنُ مَاجَهْ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 99 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے فرماتےہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ الله تعالٰی نے آدم علیہ السلام کو ایک مٹھی سے پیدا کیا جو تمام روئے زمین سے لی گئی ۱؎لہذا اولاد آدم زمین کے اندازے پر آئی ۲؎ان میں سرخ سفید اور کالے اور درمیانے ۳؎اور نرم وسخت پلید و پاک ہیں ۴؎اسے احمدوترمذی اور ابوداؤد نے روایت کیا۔
وَعَنْ أَبِيْ مُوسٰى قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللهَ خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَةٍ قَبَضَهَا مِنْ جَمِيعِ الْأَرْضِ فَجَاءَ بَنُوْ آدَمَ عَلَى قَدْرِ الْأَرْضِ مِنْهُمُ الْأَحْمَرُ وَالْأَبْيَضُ والْأَسْوَدُ وَبَيْنَ ذٰلِكَ وَالسَّهْلُ وَالْحُزْنُ وَالْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 100 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
روایت ہے عبد الله بن عمروسےفرماتے ہیں میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ الله نے اپنی مخلوق اندھیرے میں پیدا کی ۱؎پھر ان پر اپنی شعاع نور ڈالی ۲؎جسے اس نور سے کچھ پہنچا وہ ہدایت پا گیا۳؎جوا س سے رہ گیا گمراہ ہوگیا۴؎اسی لیئے میں کہتا ہوں کہ قلم الله کے علم پرسوکھ چکا ۵؎(احمدوترمذی)
وَعَنْ عَبْدِ الله بْنِ عَمْرٍو قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ الله خَلَقَ خَلْقَهُ فِي ظُلْمَةٍ فَأَلْقٰى عَلَيْهِمْ مِنْ نُورِهٖ فَمَنْ أَصَابَهٗ مِنْ ذٰلِكَ النُّورِ اِهْتَدٰى وَمَنْ أَخْطَأَهٗ ضَلَّ فَلِذٰلِكَ أَقُوْلُ: جَفَّ الْقَلَمُ عَلٰى عِلْمِ اللهِ . رَوَاهُ أَحْمدُ وَالتِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 101 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
روایت ہےحضرت انس سے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ فرماتے تھے اے دلوں کے پھیرنے والے میرا دل اپنے دین پر ثابت رکھ ۱؎میں نے عرض کیا یا نبی الله ہم آپ پراورآپ کی تمام لائی ہوئی چیزوں پر ایمان لاچکے تو کیا اب بھی آپ ہم پر اندیشناک ہیں ۲؎فرمایا ہاں لوگوں کے دل الله کی انگلیوں میں سے دوانگلیوں کے بیچ میں جدھر چاہے پھیر دے۳؎(ترمذی وابن ماجہ)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ: «يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ»فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ الله اٰمَنَّا بِكَ وَبِمَا جِئْتَ بِهٖ فَهَلْ تَخَافُ عَلَيْنَا قَالَ: «نَعَمْ إِنَّ الْقُلُوبَ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللهِ يُقَلِّبُهَا كَيْفَ يَشَاءُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 102 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
روایت ہے ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے دل کی مثال اس پر کی سی ہے جو میدانی زمین میں ہو جسے ہوائیں ظاہروباطن الٹیں پلٹیں ۱؎(احمد)
وَعَنْ أَبِيْ مُوسٰى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَثَلُ الْقَلْبِ كَرِيشَةٍ بِأَرْضِ فَلَاةٍ يُقَلِّبُهَا الرِّيَاحُ ظَهْرَالْبَطْنِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 103 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک بندہ مؤمن نہیں ہوتا جب تک چار باتوں پر ایمان نہ لائے گواہی دے کے الله کے سواکوئی معبود نہیں اور میں الله کا رسول ہوں مجھے الله نےحق کےساتھ بھیجا اور مرنے اورمرے بعد اٹھنے ۱؎اور تقدیر پر ایمان لائے ۲؎(ترمذی،وابن ماجہ)
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُؤْمِنَ بِأَرْبَعٍ: يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنِّيْ رَسُولُ اللهِ بَعَثَنِيْ بِالْحَقِّ وَيُؤْمِنُ بِالْمَوْتِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَيُؤْمِنُ بِالْقَدَرِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 104 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
روایت ہے حضرت عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے میری امت کے دو گروہ ہیں ۱؎جن کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں مرجیہ اور قدریہ ۲؎اسے ترمذی نے روایت کیا اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
وَعَنْ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صِنْفَانِ مِنْ أُمَّتِي لَيْسَ لَهُمَا فِي الْإِسْلَامِ نَصِيبٌ: الْمُرْجِئَةُ وَ الْقَدَرِيَّةُ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 105 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ میری امت میں دھنسنا اور صورتیں بگڑنا ہوگا اور یہ تقدیر کے منکروں پر ہوگا ۱؎اسے ابوداؤد نے روایت کیا ترمذی کی روایت اس کی مثل ہے۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: « یَکُوْنُ فِیْۤ اُمَّتِیْ خَسْفٌ وَّمَسْخٌ وَذٰلِکَ فِی الْمُکَذِّبِیْنَ بِالْقَدْرِ » . رَوَاُہ اَبُوْدَاؤدَ وَرَوَی التِّرْمِذِیُّ نَحْوَہٗ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 106 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ قدریہ فرقہ اس امت کا مجوسی ٹولہ ہے ۱؎اگر بیمار پڑیں تو ان کی مزاج پرسی نہ کرو اور اگر مرجائیں تو ان کے جنازوں میں نہ جاؤ ۲؎(احمد،ابوداؤد)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :« اَلْقَدَرِیَّۃُ مَجُوْسُ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ اِنْ مَرِضُوْافَلَا تَعُوْدُوْھُمْ وَاِنْ مَاتُوْا فَلَا تَشْھَدُوْھُمْ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 107 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قدریوں کے ساتھ نشست و برخاست نہ رکھو ۱؎نہ ان سے کلام کی ابتداءکرو ۲؎(ابوداؤد)
وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : « لَا تُجَالِسُوْاَھْلَ الْقَدْرِوَ لَا تُفَاتِحُوْھُمْ » رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 108 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ آدمی وہ ہیں جن پر میں نے اور اللہ نے لعنت کی ۱؎اور ہر نبی مقبول الدعاء ہے ۲؎اللہ کی کتاب میں زیادتی کرنے والا ۳؎اللہ کی تقدیر کا انکاری،جبرًا قبضہ جمانے والا تاکہ انہیں ذلیل کرے جنہیں اللہ نے عزت دی او ر انہیں عزت دے جنہیں اللہ نے ذلیل کیا۴؎اوراللہ کے حرام کو حلال سمجھنے والا۵؎اور میری آل کے متعلق وہ باتیں حلال سمجھنے والا جنہیں اللہ نے حرام کیا۶؎اور میری سنت کو چھوڑنے والا۷؎
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : سِتَّةٌ لَعَنْتُهُمْ وَلَعَنَهُمُ اللهُ وَكُلُّ نَبِيٍّ يُجَابُ: اَلزَّائِدُ فِي كِتَابِ اللهِ وَالْمُكَذِّبُ بِقَدَرِ اللهِ وَالْمُتَسَلِّطُ بِالْجَبَرُوْتِ لِيُذِلَّ مَنْ أَعَزَّهُ اللهُ و لِيُعِزَّ مَنْ أَذَلَّهُ اللهُ وَالْمُسْتَحِلُّ لِحَرَمِ اللهِ وَالْمُسْتَحِلُّ مِنْ عِتْرَتِيْ مَا حَرَّمَ اللهُ وَالتَّارِكُ لِسُنَّتِيْ. رَوَاہُ الْبَیْھَقِیُّ فِی الْمَدْخَلِ وَرَزِیْنٌ فِی کِتَابِہٖ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 109 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
روایت ہے مطر بن عکامس سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب اللہ تعالٰی کسی بندے کے متعلق کسی زمین میں مرنے کا فیصلہ فرمادیتا ہے تو اس کے لئے وہاں ضروری کام ڈال دیتا ہے ۲؎(احمدوترمذی)
وَعَنْ مَطَرِ بْنِ عُکَامِسِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:« إِذَا قَضَى اللهُ لِعَبْدٍ أَنْ يَمُوْتَ بِأَرْضٍ جَعَلَ لَهٗ إِلَيْهَا حَاجَةً».رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 110 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
روایت ہےحضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسےفرماتی ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ مسلمانوں کے بچے ۱؎(کہاں جائیں گے) فرمایا وہ اپنے باپ دادوں سے ہیں ۲؎تو میں بولی یارسول اللہ بغیر عمل فرمایا اللہ جانتا ہے وہ کیا کرتے ۳؎میں نے عرض کیا تو کفار کے بچے،فرمایا وہ اپنے باپ دادوں سے ہیں ۴؎میں بولی بغیر کچھ کیئے فرمایا اللہ خوب جانتا ہے جو وہ کرتے ۵؎(ابوداؤد)
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ ذَرَارِيُّ الْمُؤْمِنِيْنَ؟ قَالَ: «مِنْ آبَائِهِمْ». فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ بِلَا عَمَلٍ قَالَ: « اَللهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا عَامِلِيْنَ». قُلْتُ فَذَرَارِيُّ الْمُشْرِكِيْنَ قَالَ:« مِنْ آبَائِهِمْ».قُلْتُ:بِلَا عَمَلٍ قَالَ:« اَللهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِيْنَ». رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 111 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زندہ دفن کرنے والی ماں اور زندہ دفن کی ہوئی بچی دونوں دوزخ میں ہیں ۱؎(ابوداؤد)
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَلْوَائِدَۃُ وَالْمَوْءُ وْدَۃُ فِی النَّارِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ .
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 112 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
روایت ہے ابوالدرداءسے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ یقینًا اللہ تعالٰی اپنی مخلوق میں ہر بندہ کے متعلق پانچ چیزوں سے فارغ ہوچکا ہے ۲؎اس کی موت سے،اس کے عمل سے ۳؎ہر حرکت وسکون سے ۴؎اور اس کے رزق سے۔(احمد)
عَنْ اَبِی الدَّرْدَآءِ قَالَ:قَالَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَغَ اِلٰی کُلِّ عَبْدِ مِنْ خَلْقِہٖ مِنْ خَمْسِ: مِنْ اَجَلِہٖ وَعَمَلِہٖ وَمَضْجَعِہٖ وَاَثَرِہٖ وَرِزْقِہٖ. رَوَاهُ أَحْمَدُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 113 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
روایت ہےحضرت عائشہ سےفرماتی ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو مسئلۂ تقدیر میں بحث کرے گا اس سے قیامت میں اس کی باز پرس ہوگی ۱؎اور جو اس میں بحث نہ کرے گا اس سے پرسش نہ ہوگی ۲؎(ابن ماجہ)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَاللهاللّٰهُ يَقُوْلُ: «مَنْ تَكَلَّمَ فِيْ شَيْءٍ مِنَ الْقَدَرِ سُئِلَ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِيْهِ لَمْ يسْأَلْ عَنْهُ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 114 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
روایت ہے ابن دیلمی سے ۱؎فرماتے ہیں میں ابی ابن کعب ۲؎کی خدمت میں حاضرہوا اورعرض کیامیرے دل میں تقدیر کےمتعلق کچھ شکوک پڑ گئے ۳؎مجھے کوئی حدیث سنائیے شاید الله میرے دل سے وہ دور فرمادے ۴؎فرمایا اگرالله تعالٰی اپنے آسمانی اور زمینی بندوں کو عذاب دے تو وہ ان پر ظالم نہیں ۵؎اور اگر ان پر رحم فرمادے تو اس کی رحمت ان کے اعمال سے بہتر ہے ۶؎اور اگر تم احد برابر سونا الله کی راہ میں خیرات کرو تو الله قبول نہ کرے گا،جب تک تم تقدیر پر ایمان نہ لاؤ ۷؎اور یہ نہ جان لو کہ جو تمہیں پہنچا وہ تم سے بچ سکتا نہ تھا اور جو تم سے بچ گیا وہ تمہیں پہنچ سکتا نہ تھا ۸؎اور اگر تم اس کے سواکسی اور عقیدے پر مرے تو دوزخ میں جاؤ گے فرماتے ہیں پھر میں عبدالله ابن مسعود کے پاس گیا تو انہوں نے بھی یہ ہی فرمایا پھر میں حذیفہ ابن یمان کے پاس گیا تو انہوں نے بھی یہ ہی فرمایا پھر میں زید ابن ثابت ۹؎کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی ۱۰؎(احمد،ابوداؤد،ابن ماجہ)
وَعَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ فَقُلْتُ لَهٗ: قَدْ وَقَعَ فِيْ نَفْسِيْ شَيْءٌ مِنَ الْقَدَرِ فَحَدِثْنِیْ لَعَلَّ اللهَ اَنْ یُّذْھِبَہٗ
مِنْ قَلْبِیْ فَقَالَ لَوْ اَنَّ اللهَ عَزَّوَجَلَّ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهٖ وأَهْلَ أَرْضِهٖ عَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ وَلَوْ رَحِمَهُمْ كَانَتْ رَحْمَتُهٗ خَيْرًا لَهُمْ مِنْ أَعْمَالِهِمْ وَلَوْ أَنْفَقْتَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا فِيْ سَبِيلِ اللهِ مَا قَبِلَهُ اللّٰهُ مِنْكَ حَتّٰى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ وَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ وَأَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيْبَكَ وَلَوْ مُتَّ عَلٰى غَيْرِ هٰذَا لَدَخَلْتَ النَّارَ قَالَ ثُمَّ أَتَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ مِثْلَ ذٰلِكَ قَالَ ثُمَّ أَتَيْتُ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ فَقَالَ مِثْلَ ذٰلِكَ قَالَ ثُمَّ أَتَيْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَحَدَّثَنِيْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 115 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
روایت ہے حضرت نافع سے ۱؎کہ ایک شخص حضرت ابن عمر کے پاس آیا بولا کہ فلاں آپ کو سلام کہتا ہے ۲؎فرمایا میں نے سنا ہے وہ بدعتی ہوگیا ۳؎اگر واقعی وہ بدعتی ہوگیا تو اسے میرا سلام نہ کہنا ۴؎میں نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ میری امت میں یا اسی امت میں دھنسنا،صورت بدلنا،پتھر برسنا ہوگا قدریوں میں اسے ترمذی،ابوداؤد،اور ابن ماجہ نے نقل کیا ترمذی نے فرمایا:یہ حدیث حسن غریب ہے ۵؎
وَعَنْ نَافِعٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ: إِنَّ فُلَانًا يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ، فَقَالَ: إِنَّهٗ بَلَغَنِيْ أَنَّهٗ قَدْ أَحْدَثَ، فَإِنْ كَانَ قَدْ أَحْدَثَ فَلَا تُقْرِئْهٗ مِنِّي السَّلَامَ، فَإِنِّيْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِاللهِ -صَلَّى اللَّهُاللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُوْلُ: "يَكُوْنُ فِيْ أُمَّتِيْ -أَوْ فِيْ هٰذِهِ الأمَّةِ- خَسْفٌ ومَسْخٌ، أَوْ قَذْفٌ فِي أَهْلِ الْقَدَرِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 116 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ بی بی خدیجہ نے ۱؎نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے بچوں کے متعلق پوچھا جو زمانہ جاہلیت میں فوت ہوچکے تھے ۲؎حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ دونوں آگ میں ہیں ۳؎فرماتےہیں جب حضور علیہ السلام نے ان کے چہرے میں غم کے آثار دیکھے تو فرمایا کہ اگر تم ان کا ٹھکانہ دیکھتیں تو ان سے نفرت کرتیں ۴؎انہوں نےعرض کیا اچھا آپ سے جو میرے بچے ۵؎ہیں فرمایا وہ جنت میں ہیں،پھرحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان اور انکی اولاد جنت میں ہے ۶؎اور کفار اور ان کی اولاد دوزخ میں پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی اور جو ایمان لائے اور ان کی اولاد ان کے تابع ہے ۷؎(احمد)
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: سَأَلَتْ خَدِيجَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَلَدَيْنِ مَاتَا لَهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "هُمَا فِي النَّارِ"، قَالَ: فَلَمَّا رَأَى الْكَرَاهَةَ فِيْ وَجْهِهَا قَالَ: "لَوْ رَأَيْتِ مَكَانَهُمَا لأَبْغَضْتِهِمَا"، قَالَتْ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ فَوَلَدِيْ مِنْكَ، قَالَ: "فِي الْجَنَّةِ"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ الْمُؤْمِنِيْنَ وَأَوْلَادَهُمْ فِي الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الْمُشْرِكينَ وَأَوْلَادَهُمْ فِي النَّارِ"، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللّٰهُ وَالَّذِيْنَ آمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ .رَوَاهُ أَحْمَدُ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 117 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب الله نے حضرت آدم کو پیدا کیا تو ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو ان کی پشت سے تاقیامت ان کی اولاد کی روحیں نکلیں جنہیں الله پیدافرمانے والا ہے اور ان میں سے ہر انسان کی دو آنکھوں کے بیچ نور کی چمک دی ۱؎پھر انہیں آدم پر پیش فرمایا وہ بولے اے رب یہ کون ہیں فرمایاتمہاری اولاد۲؎ان میں ایک شخص کو دیکھاتو ان کی آنکھوں کے درمیان کی چمک پسند آئی ۳؎بولے اے رب یہ کون ہے فرمایا حضرت داؤد بولے اے رب ان کی عمرکتنی مقرر فرمائی ہے فرمایا ساٹھ سال۴؎عرض کیا مولا میری عمر میں سے چالیس سال انہیں بڑھادے ۵؎حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب آدم کی عمر ماسوائے چالیس سال پوری ہوئی تو ان کی خدمت میں فرشتہ موت حاضر ہوا ۶؎آدم بولے کیا ابھی میری عمر کے چالیس سال باقی نہیں فرمایا کہ وہ تم اپنے فرزند داؤد کو نہ دے چکے ۷؎حضرت آدم انکاری ہوئے اس لئے انکی اولاد انکار کرنے لگی۸؎حضرت آدم بھول کر درخت سے کھا گئے لہذا ان کی اولاد بھولنے لگی حضرت آدم نے خطا کی تو انکی اولاد خطائیں کرنے لگی ۹؎(ترمذی)
وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَمَّا خَلَقَ اللَّهُاللّٰهُ آدَمَ مَسَحَ ظَهْرَهٗ فَسَقَطَ عَنْ ظَهْرِهٖ كُلُّ نَسَمَةٍ هُوَ خَالِقُهَا مِنْ ذُرَّيَّتِهٖ إِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَجَعَلَ بَيْنَ عَيْنَيْ كُلِّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ وَبِيصًا مِنْ نُوْرٍ، ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلٰى آدَمَ فَقَالَ: أَيْ رَبِّ مَنْ هٰؤُلَاءِ؟ قَالَ: ذُرِّيَّتُكَ، فَرَأٰى رَجُلًا مِنْهُمْ فَأَعْجَبَهٗ وَبِيْصُ مَا بَيْنَ عَيْنَيْهِ قَالَ: أَيْ رَبِّ مَنْ هٰذَا؟ قَالَ: دَاوُدُ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ كَمْ جَعَلْتَ عُمْرَهٗ؟ قَالَ: سِتِّيْنَ سَنَةً، قَالَ: رَبِّ زِدْهُ مِنْ عُمْرِيْ أَرْبَعِيْنَ سَنَةً"، قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فَلَمَّا انْقَضٰى عُمَرُ آدَمَ إِلَّا أَرْبَعِيْنَ جَاءَهٗ مَلَكُ الْمَوْتِ، فَقَالَ آدَمُ: أَوَ لَمْ يَبْقَ مِنْ عُمُرِيْ أَرْبَعُوْنَ سَنَةً؟ قَالَ: أَوَ لَمْ تُعْطِهَا اِبْنَكَ دَاوُدَ؟ قَالَ: فَجَحَدَ آدَمُ، فَجَحَدَتْ ذُرَّيتُهٗ، وَنَسِيَ آدَمُ فَأَكَلَ مِنَ الشَّجَرَةِ فَنَسِيَتْ ذُريَّتُهٗ، وَخَطَأَ آدَمُ وَخَطأَتْ ذُرِّيَّتُهٗ".رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 118 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب