باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب

ایمان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1

روایت ہے حضرت ابودرداء سے وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرمایا جب اللہ نے آدم کو پیدا کیا تو انکے داہنے کندھے پر دستِ قدرت لگایا جس سے سفید رنگ کی اولاد چیونٹیوں کی طرح نکالی اور ان کے بائیں کندھے پر مارا تو کالی اولاد کوئلے کی طرح نکالی ۱؎پھر داہنے والوں کے متعلق فرمایا کہ یہ جنت کی طرف ہیں مجھے پرواہ نہیں بائیں کندھے والوں کے متعلق فرمایا یہ دوزخ کی طرف ہیں مجھے پرواہ نہیں۔۲؎(احمد)

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «خَلَقَ اللّٰهُ آدَمَ حِيْنَ خَلَقَهٗ فَضَرَبَ كَتِفَهُ الْيُمْنٰى فَأَخْرَجَ ذُرِّيَّةً بَيْضَاءَ كَأَنَّهُمُ الذَّرُّ وَضَرَبَ كَتِفَهُ الْيُسْرٰى فَأَخْرَجَ ذُرِّيَّةً سَوْدَاءَ كَأَنَّهُمُ الْحُمَمُ فَقَالَ لِلَّذِيْ فِيْ يَمِيْنِهٖ إِلَى الْجَنَّةِ وَلَا أُبَالِيْ وَقَالَ لِلَّذِيْ فِيْ کَتِفِہِ الْیُسْرٰی إِلَى النَّارِ وَلَا أُبَالِيْ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 119 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب

روایت ہےحضرت ابی نضرہ سے ۱؎کہ حضور کے صحابہ میں سے ایک صاحب جنہیں ابوعبداللہ کہا جاتا تھا ان کی بیمار پُرسی کے لیئے ان کے دوست گئے وہ رو رہے تھے۲؎تو یہ حضرات بولے کیوں روتے ہو؟کیا تم سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہ فرمایا تھا اپنی مونچھیں کٹواؤ پھر اس کے پابند رہو یہاں تک کہ مجھے ملو۳؎وہ بولے ہاں لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اللہ عزوجل نے اپنے داہنے ہاتھ میں ایک مٹھی لی اور دوسری دوسرے ہاتھ میں ۴؎اور فرمایا کہ یہ اس کے لیئے ہے اور یہ اس کے لیئے ۵؎اور مجھے پروا ہ نہیں اور مجھے خبر نہیں کہ میں کون سی مٹھی میں تھا۶؎(احمد)

وَعَنْ اَبِیْ نَضْرَۃَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهٗ أَبُوْ عَبْدِ اللّٰهِ دَخَلَ عَلَيْهِ أَصْحَابُهٗ يَعُوْدُوْنَهٗ وَهُوَ يَبْكِيْ فَقَالُوْا لَهٗ مَا يُبْكِيْكَ أَلَمْ يَقُلْ لَكَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُذْ مِنْ شَارِبِكَ ثُمَّ أَقِرَّهٗ حَتّٰى تَلْقَانِيْ قَالَ بَلٰى وَلٰكِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: «إِنَّ اللّٰهَ عَزَّوَجَلَّ قَبَضَ بِيَمِينِهٖ قَبْضَةً وَأُخْرٰى بِالْيَدِ الْأُخْرٰى وَقَالَ هٰذِهٖ لِهٰذِهٖ وَهٰذِهٖ لهٰذِهٖ وَلَا أُبَالِيْ ولَا أَدْرِيْ فِيْ أَيِّ الْقَبْضَتَيْنِ أَنَا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 120 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب

روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں اللہ تعالٰی نے پشت آدم سے نعمان یعنی عرفات میں عہد لیا ۱؎اس طرح کہ ان کی پشت سے ساری اولاد نکالی انہیں حضرت آدم کے ساتھ چیونٹیوں کی طرح بکھیردیا ۲؎پھر ان کے آمنے سامنے گفتگو فرمائی فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب بولے ہاں ہم گواہ ہیں ۳؎کہ کہیں قیامت کے دن یہ کہہ دو کہ ہم اس سے غافل تھے یا کہہ دو کہ شرک تو صرف ہمارے باپ دادوں نے کیا ہم تو ان کے بعد کی پیداوار تھے تو کیا تو ہم کو جھوٹوں کے جرموں سے ہلاک فرماتا ہے ۴؎(احمد)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَخَذَ اللهُ الْمِيْثَاقَ مِنْ ظَھْرِ آدَمَ بِنَعْمَانَ يَعْنِيْ عَرَفَةَ فَاَخْرَجَ مِنْ صُلْبِہٖ کُلَّ ذُرِّيَّةِ ذَرَاهَا فَنَثَرَهُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ كَالذَّرِّ ثُمَّ كَلَّمَهُمْ قِبَلًا قَالَ: (أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلٰى شَهِدْنَا أَنْ تَقُوْلُوْا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غَافِلِيْنَ أَوْ تَقُوْلُوْا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ) رَوَاهُ أَحْمَدُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 121 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب

روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے رب تعالٰی کے اس فرمان کے متعلق جب آپ کے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی اولاد نکالی فرمایا انہیں جمع کیا انہیں جوڑے بنایا ۱؎پھر انہیں صورت وگویائی دی ۲؎تو وہ وہ بولے پھر ان سے عہد میثاق لیا اور انہیں خود انکی ذات پر گواہ بنایا۳؎کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں بولے ہاں فرمایا میں تم پر سات آسمانوں اور سات زمینوں کو اور تمہارے والد آدم کو گواہ بناتا ہوں ۴؎کہیں قیامت میں کہہ دو کہ ہم کو خبر نہ تھی جان لو میرے سوا نہ کوئی معبود ہے اور نہ کوئی رب کسی کو میرا شریک نہ ٹھہرانا ۵؎عنقریب تم تک اپنے پیغمبر بھیجوں گا جو تمہیں میرا عہد میثاقی یاد دلائیں گے ۶؎اور تم پر اپنی کتابیں اتاروں گا ۷؎بولے ہم اس کے گواہ ہیں کہ تو ہمارا رب ہمارا معبود ہے تیرے سوا نہ کوئی ہمارا رب ہے نہ معبود ۸؎پھر سب نے اس کا اقرار کیا ان پر آدم علیہ السلام کو انہیں دیکھنے کے لیے اٹھایا گیا ۹؎تو آپ نے امیرفقیرحسین وغیرہ دیکھے ۱۰؎تو عرض کیا اے رب تو نے اپنے بندوں میں برابری کیوں نہ کی فرمایا میں نے چاہا کہ شکر کیا جاؤں ۱۱؎ان میں نبیوں کو چراغوں کی طرح دیکھا جن پر نور تھا۱۲؎۱ ان سے دوسرا خصوصی عہد رسالت اور نبوت کےمتعلق لیا گیا وہ رب تعالٰی کا یہ فرمان ہے اور جب ہم نے نبیوں سے ان کا عہد لیاالخعیسیٰ ابن مریمکےقول تک ۱۳؎حضرت عیسیٰ بھی ان روحوں میں تھے انہیں بی بی مریم کی طرف بھیجا ابی سے خبر ملی کہ آپ حضرت مریم کے منہ سے داخل ہوئے ۱۴؎(احمد)

وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فِي قَوْلِ اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِيْ آدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ} الآيَةَ، قَالَ: جَمَعَهُمْ فَجَعَلَهُمْ أزْوَاجًاثُمَّ صَوَّرَهُمْ فَاسْتَنْطَقَهُمْ، فَتَكَلَّمُوا، ثُمَّ أَخَذَ عَلَيْهِمُ الْعَهْدَ وَالْمِيْثَاقَ، {وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلٰى}، قَالَ: فَإِنِّيْ أَشْهِدُ عَلَيْكُمُ السَّمٰوَاتِ السَّبْعَ وَالأَرَضِينَ السَّبْعَ، وَأُشْهِدُ عَلَيْكُمْ أَبَاكُمْ آدَمَ أَنْ تَقُوْلُوْا يَوْمَ الْقِيَامَةِ: لَمْ نَعْلَمْ بِهٰذَا، اِعْلَمُوْا أَنَّهٗ لَا إِلٰهَ غَيْرِيْ، وَلَا رَبَّ غَيْرِيْ، فَلَا تُشْرِكُوْا بِيْ شَيْئًا، إِنِّيْ سَأُرْسِلُ إِلَيْكُمْ رُسُلِيْ يُذكِّرُوْنَكُمْ عَهْدِيْ وَمِيثَاقِيْ، وَأُنْزِلُ عَلَيْكُمْ كُتُبِيْ، قَالُوْا: شَهِدْنَا بِأَنَّكَ رَبُّنَا وَإِلٰهُنَا، لَا رَبَّ لَنَا غَيْرُكَ فَأَقَرُّوْا بِذٰلِكَ، وَرُفِعَ عَلَيْهِمْ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، فَرَأَى الْغَنِيَّ وَالْفَقِيْرَ،َحَسَنَ الصُّوْرَةِ وَدُوْنَ ذٰلِكَ، فَقَالَ: رَبِّ لَوْلَا سَوَّيْتَ بَيْنَ عِبَادِكَ؟ . قَالَ: إِنِّيْ أَحْبَبْتُ أَنْ أُشْكَرَ، وَرَأَى الأَنْبِيَاءَ فِيهِمْ مِثْلَ السُّرُجِ، عَلَيْهِمُ النُّوْرُ، خُصُّوْا بِمِيثَاقٍ آخَرَ فِي الرِّسَالَةِ وَالنُّبُوَّةِ، وَهُوَ قَوْلُهٗ تَبَارَكَ وَتَعَالٰى وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّيْنَ مِيثَاقَهُمْ إِلٰى قَوْلِهٖ: عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ كَانَ فِي تِلْكَ الأَرْوَاحِ، فَأَرْسَلَهٗ إِلٰى مَرْيَمَ عَلَيْهَا السَّلامُ فَحُدِّثَ عَنْ أُبَيٍّ أَنَّهٗ دَخَلَ مِنْ فِيهَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 122 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب

روایت ہے حضرت ابودراء سے فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں تھے اور جو کچھ ہوتا ہے اس کا تذکرہ کررہے تھے ۱؎رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم سنو کہ پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل گیا تو مان لو اور اگر یہ سنو کہ کوئی آدمی جبلی عادت سے بدل گیا تو نہ مانو وہ پھر اسی طرف لوٹ جائے گا جس پر پیدا ہوا ۲؎(احمد)

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰه ِصَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَذَاكَرُ مَا يَكُوْنُ إِذْ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:إِذَا سَمِعْتُمْ بِجَبَلٍ زَالَ عَن مَكَانَهٗ فَصَدِّقُوْا وَإِذَا سَمِعْتُمْ بِرَجُلٍ تَغَيَّرَ عَنْ خُلُقِهٖ فَلَا تُصَدِّقُوْا بِہٖ فَإنَّهٗ يَصِيْرُ إِلٰى مَا جُبِلَ عَلَيْهِ ". رَوَاهُ أَحْمَدُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 123 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب

روایت ہے حضرت اُم سلمہ سے ۱؎انہوں نے عرض کیا کہ یارسول الله آپ کو ہرسال اس زہریلی بکری کی تکلیف ہوتی ہے جو آپ نے (خیبرمیں)کھالی تھی ۲؎فرمایا مجھے اس کے سوا کچھ نہیں پہنچی جو میرے مقدر میں اس وقت لکھ دی گئی جب حضرت آدم اپنے خمیر میں تھے ۳؎(ابن ماجہ)

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: يَا رَسُول اللّٰهِ، لَا يَزَالُ يُصِيْبُكَ فِيْ كُلِّ عَامٍ وَجَعٌ مِنَ الشَّاةِ الْمَسْمُومَةِ الَّتِيْ أَكَلْتَ، قَالَ:"مَا أَصَابَنِيْ شَيْءٌ مِنْهَا إِلَّا وَهُوَ مَكْتُوْبٌ عَلَيَّ وَآدَمُ فِي طِيْنَتِهٖ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 124 ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب