- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- ایمان کا بیان
- باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا
باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا
ایمان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ یقینًا ایمان مدینہ کی طرف ایسا سمٹ آوے گا جیسے سانپ اپنے بل کی طرف ۱؎(مسلم وبخاری)اور ہم حضرت ابوہریرہ کی حدیثذرونیالخکتاب الحجمیں اورحضرت معاویہ وجابر کی حدیثیںلایزال من امتیالخاورلایزال طائفۃ من امتیان شاءاللهبَابُ ثَوَابِ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِمیں بیان کریں گے ۲؎
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ كَمَا تَأْرِزُ الحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ: "ذَرُوْنِيْ مَا تَرَكْتُكُمْ" في "كِتَابِ الْمَنَاسِكِ"، وحَدِيْثَيْ مُعَاوِيَةَ وَجَابِرٍ: "لَا يَزَالُ مِنْ أُمَّتِيْ" و"لَا يَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِيْ" في بَابِ ثَوابِ هٰذِهِ الأُمَّةِ، إنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰی
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 160 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا
روایت ہے حضرت ربیعہ جرشی سے ۱؎فرماتے ہیں حضور کی خدمت میں آنے والا آیا اور حضور سے کہا گیا کہ مناسب ہے کہ آپ کی آنکھیں تو سوجائیں آپ کے کان سنتے اور دل سمجھتا رہے ۲؎فرماتے ہیں کہ میری آنکھیں سو گئیں اور کان سنتے رہے دل سمجھتا رہا ۳؎فرماتے ہیں مجھ سے کہا گیا کہ سردار نے گھر بنایا وہاں خوان تیار کیا اور بلانے والا بھیجا تو جس نے بلانے والے کی دعوت قبول کی وہ گھر میں آیا خوان سے کھایا اس سے سردار راضی ہوا ۴؎اور جس نے منادی کی نہ مانی وہ نہ گھر میں آیا نہ اس نے خوان سے کھایا آقا اس پر ناراض ہوئے ۵؎فرمایا کہ اللہ سید ہے اور محمد بلانے والے گھر اسلام ہے اور خوان جنت ۶؎(دارمی)
عَنْ رَبِيعَةَ الجُرَشِيِّ قَالَ: أُتِي نَبِيُّ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيْلَ لَهٗ: لِتَنَمْ عَيْنُكَ وَلْتَسْمَعْ أُذُنُكَ وَلْيَعْقِلْ قَلْبُكَ، قَالَ: "فَنَامَتْ عَيْنَايَ وَسَمِعَتْ أُذُنايَ وَعَقَلَ قَلْبِي، قَالَ: فَقِيلَ لِي سَيِّدٌ بَنَى دَارًا فَصَنَعَ فِيهَا مَأْدُبَةً، وَأَرْسَلَ دَاعِيًا، فَمَنْ أَجَابَ الدَّاعِيَ دَخَلَ الدَّارَ، وَأَكَلَ مِنَ الْمَأْدُبَةِ، وَرَضِيَ عَنْهُ السَّيِّدُ، وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّاعِيَ لَمْ يَدْخُلِ الدَّارَ، وَلَمْ يَأْكُلْ مِنَ الْمَأْدُبَةِ، وَسَخِطَ عَلَيْهِ السَّيِّدُ"، قَالَ: "فَاللّٰهُ السَّيِّدُ، وَمُحَمَّدٌ الدَّاعِيْ، وَالدَّارُ الْإِسْلَامُ، وَالْمَاْدُبَةُ الْجَنَّةُ". رَوَاهُ الدَّارمِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 161 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا
روایت ہے حضرت ابو رافع سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کسی کو مسہری پر تکیہ لگائے نہ پاؤں۲؎کہ اس کے پاس میرے احکام میں سے جس کا میں نے حکم دیا جس سے میں نے منع کیا کوئی حکم پہنچے اور وہ کہہ دے کہ ہم نہیں جانتے جو قرآن شریف میں پائیں گے ہم تو اس کی پیروی کریں گے۳؎اس حدیث کو احمد و ابوداؤد ترمذی و ابن ماجہ نے روایت کیا اور بیہقی نے دلائل نبوت میں۔
وَعَنْ أبِيْ رَافِعٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ مُتَّكِئًا عَلٰى أَرِيكَتِهٖ يَأْتِيهِ أَمْرٌ مِنْ أَمْرِيْ مِمَّا أَمَرْتُ بِهٖ أَوْ نَهَيْتُ عَنْهُ، فَيَقُولُ: لَا أَدْرِيْ مَا وَجَدْنَا فِيْ كِتَابِ اللهِ اتَّبَعْنَاهُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي "دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 162 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا
روایت ہے حضرت مقدام ابن معد یکرب سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے آگاہ ہو کہ مجھے قرآن بھی دیا گیا اور اس کے ساتھ اس کا مثل بھی ۲؎خبردار قریب ہے کہ ایک پیٹ بھرا اپنی مسہری پر کہے ۳؎کہ صرف قرآن کو تھام لو اس میں جو حلال پاؤ اسے حلال جانو اور جو حرام پاؤ اسے حرام سمجھو۴؎حالانکہ رسولاللہکا حرام فرمایا ہوا ویسا ہی حرام ہے جیسا کہاللہکا حرام فرمودہ ۵؎دیکھو تمہارے لیے نہ تو پلاؤ گدھا حلال ہے اور نہ کوکیلی والا درندہ جانور نہ عہد والے کافر کی گمی ہوئی چیز مگر جب اس کا مالک اس سے لاپرواہ ہوجائے ۶؎اور جو کسی قوم کے پاس مہمان جائے ان پر اس کی مہمانی ہے اگر مہمانداری نہ کریں تو وہ اپنی مہمانی کی بقدر ان سے وصول کرلے ۷؎اسے ابوداؤد نے روایت کیا دارمی نےبھی اسی طرح اور ابن ماجہ نےحَرَّمَ اللهُتک۔
وَعَنِ الْمِقدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَلا إِنِّيْ أُوتِيْتُ الْقُرْآنَ وَمِثْلَهُ مَعَهٗ أَلَا يُوشِكُ رَجُلٌ شَبْعَانٌ عَلٰی أَرِيكَتِهٖ يَقُولُ: عَلَيْكُمْ بِهٰذَا الْقُرْآنِ، فَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَلَالٍ فَأَحِلُّوهُ، وَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوهُ، وَإِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُولُ اللهِ كَمَا حَرَّمَ اللّٰهُ ، أَلَا لَا يَحِلُّ لَكُمْ الْحِمَارُ الأَهْلِيُّ، وَلَا كُلُّ ذِيْ نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَلَا لُقْطَةُ مُعَاهَدٍ إِلَّا أَنْ يَسْتَغْنِيَ عَنْهَا صَاحِبُهَا وَمَنْ نَزَلَ بِقَوْمٍ فَعَلَيْهِمْ أَنْ يَقْرُوْهُ، فَإِنْ لَمْ يَقْرُوْهُ فَلَهٗ أَنْ يُعْقِبَهُمْ بِمِثْلِ قِرَاهُ"، رَوَاهُ أَبُو دَاوٗدَ، وَرَوَى الدَّارِمِيُّ نَحْوَهُ، وَكَذٰا ابْنُ مَاجَهْ إِلٰى قَوْلِهٖ: "كَمَا حَرَّمَ اللّٰهُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 163 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا
روایت ہے حضرت عرباض ابن ساریہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے قیام فرما کر فرمایا کیا تم میں سے کوئی چھپڑ کھٹ پر تکیہ لگا کر یہ گمان کرسکتا ہے ۲؎کہاللہنے بجز ان چیزوں کے کوئی چیز حرام نہ کی جو قرآن میں ہیں آگاہ رہو کہ بخدا میں نے احکام دیئے وعظ فرمائے اور بہت چیزوں سے منع کیا جو قرآن کے برابر یا اس سے بھی زیادہ ہیں ۳؎یقینًااللہنےتمہارے لیے یہ مباح نہ کیا کہ کتابیوں کے گھروں میں بلا اجازت گھس جاؤ اور نہ ان کی عورتوں کو مار پیٹ اور نہ ان کے پھل کھانا جب وہ اپنے ذمہ کے حقوق تمہیں ادا کریں۴؎اسے ابوداؤدنے روایت کیا اس حدیث کی اسناد میں اشعث ابن شعبہ مصیصی ہے جس میں کلام کیا گیا ہے۔
وَعَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أيَحْسَبُ أَحَدُكُمْ مُتَّكِأً عَلٰى أَرِيكَتِهٖ يَظُنُّ أَنَّ اللهَ لَمْ يُحَرِّمْ شَيْئًا إِلَّا مَا فِي هٰذَا الْقُرْآنِ أَلَا وَإِنِّي وَاللهِ قَدْ أَمَرْتُ وَعَظْتُ وَنَهَيْتُ عَنَ أَشْيَاءَ إِنَّهَا كَمِثْلِ الْقُرْآنِ أَوْ أَكْثَرُ وَإِنَّ اللهَ لَمْ يُحِلَّ لَكُمْ أَنْ تَدْخُلُوْا بُيُوْتَ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا بِإِذْنٍ وَلَا ضَرْبَ نِسَائِهِمْ وَلَا أَكْلَ ثِمَارِهِمْ إِذَا أَعْطَوْكُمُ الَّذِيْ عَلَيْهِمْ» رَوَاهُ أَبُو دَاوٗدَ وَفِي إِسْنَادِهٖ: أَشْعَثُ بْنُ شُعْبَةَ الْمَصِّيْصِيِّ قَدْ َتَكَلَّمَ ِفِيْهِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 164 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ ایک دن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی پھر ہماری طرف چہرہ کیا اورنہایت ہی بلیغ وعظ فرمایا جس سے اشک رواں ہوگئے دل ڈر گئے ۱؎ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ شاید یہ الوداعی وعظ ہے ۲؎لہذا کچھ وصیت فرمادیں حضور نے فرمایا کہ میں تمہیں اللہ سے ڈرنے،سلطان کی سننے،فرماں برداری کرنے کی وصیت کرتا ہوں اگرچہ حبشی غلام ہی ہو ۳؎کیونکہ میرے بعد تم میں سے جو جیئے گا وہ بڑا اختلاف دیکھے گا ۴؎لہذا تم میری اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت مضبوط پکڑو ۵؎اسے دانت سے مضبوط پکڑلو نئی باتوں سے دور رہو کہ ہرنئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے ۶؎اسے احمد،ابوداؤد اورترمذی وابن ماجہ نے رویات کیا لیکن ان دونوں نے نماز کا واقعہ ذکر نہ کیا۔
وَعَنْهُ: قَالَ: صَلّٰی بِنَا رَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهٖ فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً بَلِيْغَةًذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ، وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُوْلَ اللهِ كَأَنَّ هٰذِهٖ مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ فَأَوْصِنَا، فَقَالَ: "أُوصِيْكُمْ بِتَقْوَى اللهِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِوَإِنْ كَانَ عَبْدًا حَبَشِيًّا، فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ بَعْدِيْ فَسَيَرٰى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِيْ وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّيْنَ، تَمَسَّكُوْا بِهَا وَعَضُّوْا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الأُمُورِ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّهُمَا لَمْ يَذْكُرَا: الصَّلَاةَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 165 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا
روایت ہے عبد اللہ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے ایک خط کھینچا پھر فرمایا کہ یہ اللہ کا راستہ ہے ۱؎پھر اس کے دائیں بائیں اور لکیریں کھینچیں اور فرمایا یہ مختلف راستے ہیں جن میں سے ہر راستہ پر شیطان ہے جو ادھر بلا رہا ہے ۲؎اوریہ آیت تلاوت فرمائی:"وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ"الایہاسے احمد،نسائی اور دارمی نے روایت کیا۔
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: خَطَّ لَنَارَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطًّا، ثُمَّ قَالَ: "هَذَا سَبِيلُ اللهِ"، ثُمَّ خَطَّ خُطُوْطًا عَنْ يَمِيْنِهٖ وَعَنْ شِمَالِهٖ، وَقَالَ: "هٰذِهٖ سُبُلٌ عَلٰى كُلِّ سَبِيلٍ مِنْهَا شَيْطَانٌ يَدْعُوْا إِلَيْهِ وَقَرَأَ: وَأَنَّ هٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ اَلْآيَةَ رَوَاهُ أحمَدُ وَالنَّسَائِيُّ والدَّارِمِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 166 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا
روایت ہے حضرت عبداللہابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی خواہش میرے لائے ہوئے کے تابع نہ ہو ۱؎اسے شرح سنہ میں روایت کیا ہے۔نووی نے اپنی چہل حدیث میں ۲؎فرمایا کہ یہ حدیث صحیح ہے جسے ہم نے صحیح اسناد سےکتاب الحجمیں روایت کیا۔
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ هَوَاهُ تَبَعًا لِمَا جِئْتُ بِهٖ» رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ وَقَالَ النَّوَوِيُّ فِي أَرْبَعِيْنِهٖ: هٰذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ رَوَيْنَاهُ فِي كِتَابِ الْحَجَّةِ بِإِسْنَادٍ صَحِيْحٍ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 167 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا
روایت ہے حضرت بلال ابن حارث مزنی سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو میری مردہ سنت کو جو میرے بعد فنا کردی گئی زندہ کرے ۲؎اسے ان تمام کی برابر ثواب ہوگا جو اس پر عمل کریں اس کے بغیر کہ ان عاملوں کے ثواب سے کچھ کم ہو ۳؎اور جو گمراہی کی بدعت ایجاد کرے جس سےاللہ رسول راضی نہیں ۴؎اس پر ان سب کی برابر گناہ ہوگا جو اس پر عامل ہوں اور یہ ان کے گناہوں سے کچھ کم نہ کرے گا اسے ترمذی نے روایت
وَعَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ أَحْيَا سُنَّةً مِنْ سُنَّتِيْ قَدْ أُمِيْتَتْ بَعْدِيْ فَإِنَّ لَهٗ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلَ أُجُورِ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا وَمَنِ ابْتَدَعَ بِدْعَةً ضَلَالَةً لَا يَرْضَاهَا اللّٰهُ وَرَسُولُهُ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ عَمِلَ بِهَا لَا يَنْقُصُ ذٰلِكَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 168 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا
اور ابن ماجہ نے کثیر ابن عبداللہ ابن عمرو سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے اپنے دادا سے روایت کیا۱؎
وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ الله بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 169 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا
روایت ہے حضرت عمروا بن عوف سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ دین حجاز کی طرف ایسا سمٹ آوے گا جیسے سانپ اپنے سوراخ کی طرف ۱؎اور دین حجاز سے ایسا بندھ جاوے گا جیسے پہاڑی بکری پہاڑ کی چوٹی سے۲؎یقینًا دین غریب ہی شروع ہوا اورجیسا شروع ہوا ویسا لوٹے گا لہذا غربا کو خوشخبری ہو یہ غربا وہ ہیں جو میرے بعد میری سنت کو درست کریں گے جسے لوگوں نے بگاڑدیا ہوگا۳؎(ترمذی)
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ الدِّينَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْحِجَازِ كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا، وَلَيَعْقِلَنَّ الدِّينُ مِنَ الْحِجَازِ مِعْقَلَ الأُرْوِيَّةِ مِنْ رَأْسِ الْجَبَلِ،إِنَّ الدِّينَ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ كَمَا بَدَأَ فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ، وَهُمُ الَّذِينَ يُصْلِحُونَ مَا أَفْسَدَ النَّاسُ مِنْ بَعْدِي مِنْ سُنَّتِي". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 170 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا
روایت ہے حضرت عبداللہابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میری امت پر بعینہ ویسے حالات آئیں گے جیسے بنی اسرائیل پر آئے جیسے جوتی کی جوتی سے برابری ۱؎حتی کہ اگرکسی نے اپنی ماں سے اعلانیہ زنا کیا تو میری امت میں بھی وہ ہوگا جو ایسا کرے گا ۲؎یقینًا بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جاوے گی۳؎سوا ایک ملت کے سب دوزخی لوگوں نے پوچھا یارسول اللہ وہ ایک کون فرقہ ہے فرمایا وہ جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں ۴؎اسے ترمذی نے روایت کیا۔
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أُمَّتِي كَمَا أَتَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ حَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ حَتَّى إِنْ كَانَ مِنْهُمْ مَنْ أَتَى أُمَّهُ عَلَانِيَةً لَكَانَ فِي أُمُّتِي مَنْ يَصْنَعُ ذٰلِكَ، وَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيْلَ تَفَرَّقَتْ عَلٰی اِثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلٰى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةٍ، كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً"، قَالُوا: وَمن هِيَ يَا رَسُولَ الله؟ قَالَ: "مَا أَنَا عَلَيْهِ وأَصْحَابِيْ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
وَفِي رِوَايَةِ أَحْمَدَ وَأَبِي دَاوٗدَ عَنْ مُعَاوِيَةَ: «ثِنْتَانِ وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ وَهِيَ الْجَمَاعَةُ وَإِنَّهُ سَيَخْرُجُ فِي أُمَّتِيْ أَقْوَامٌ تَتَجَارٰى بِهِمْ تِلْكَ الْأَهْوَاءُ كَمَا يَتَجَارٰى الْكَلْبُ بِصَاحِبِهٖ لَا يَبْقٰى مِنْهُ عِرْقٌ وَلَا مَفْصِلٌ إِلَّا دَخَلَهٗ»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 171 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا
اور احمدوابوداؤد میں معاویہ کی روایت سے یہ ہے کہ بہتّر دوزخی اور ایک جنتی ہے اور وہ بڑا گروہ (جماعت مسلمین)ہے ۱؎میری امت میں ایسی قومیں نکلیں گی جن میں بدعت ایسی سرایت کر جائیں گی جیسے دیوانہ کتے کا زہر کاٹے ہوئے ہیں کہ جس کی کوئی رگ اور جوڑ سرایت کئے نہیں بچتا۲؎
وَفِي رِوَايَةِ أَحْمَدَ وَأَبِي دَاوٗدَ عَنْ مُعَاوِيَةَ: «ثِنْتَانِ وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ وَهِيَ الْجَمَاعَةُ وَإِنَّهُ سَيَخْرُجُ فِي أُمَّتِيْ أَقْوَامٌ تَتَجَارٰى بِهِمْ تِلْكَ الْأَهْوَاءُ كَمَا يَتَجَارٰى الْكَلْبُ بِصَاحِبِهٖ لَا يَبْقٰى مِنْهُ عِرْقٌ وَلَا مَفْصِلٌ إِلَّا دَخَلَهٗ»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 172 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا
روایت ہے حضرت ابن عمرسے فرماتےہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ یقینًا اللہ میری امت کو یا فرمایا امت محمد مصطفی کو گمراہی پر متفق نہ ہونے دے گا ۱؎جماعت پر اللہ کا دست کرم ہے ۲؎جو جماعت سے الگ رہا وہ دوزخ میں الگ ہی جائے گا۔(ترمذی)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللهَ لَا يَجْمَعُ أُمَّتِيْ أَوْ قَالَ: أُمَّةَ مُحَمَّدٍ عَلٰى ضَلَالَةٍ وَيَدُ اللهِ عَلَى الْجَمَاعَةِ وَمَنْ شَذَّ شَذَّ فِي النَّارِ" رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 173 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بڑے گروہ کی پیروی کرو ۱؎کیونکہ جو الگ رہا وہ الگ ہی آگ میں جائے گا ۲؎اسے انس کی حدیث سے ابن ماجہ نے روایت کیا۔
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «اتَّبِعُوا السَّوَادَ الْأَعْظَمَ فَإِنَّهُ مَنْ شَذَّ شَذَّ فِي النَّارِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ مِنْ حَدِيْثِ أَنَسٍ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 174 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا
روایت ہے حضرت انس فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے میرے بچے اگر تم یہ کرسکو کہ صبح اور شام ایسے گزارو کہ تمہارے دل میں کسی کی طرف سے کھوٹ (کینہ)نہ ہو تو کرو ۱؎پھر فرمایا کہ اے میرے بچے یہ میری سنت ہے اور جو میری سنت سے محبت کرے اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۲؎(ترمذی)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ لِيْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «يَا بُنَيَّ إِنْ قَدَرْتَ أَنْ تُصْبِحَ وَتَمْسِيْ وَلَيْسَ فِي قَلْبِكَ غِشٌّ لِأَحَدٍ فَافْعَلْ» ثُمَّ قَالَ: «يَا بُنَيَّ وَذٰلِكَ مِنْ سُنَّتِيْ وَمَنْ أَحْيَا سُنَّتِيْ فَقَدْ أَحَبَّنِيْ وَمَنْ أَحَبَّنِيْ كَانَ مَعِيَ فِي الْجَنَّةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 175 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس نے میری امت کے بگڑتے وقت میری سنت کو مضبوط تھاما تو اسے سوشہیدوں کا ثواب ہے ۱؎
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ تَمَسَّكَ بِسُنَّتِي عِنْدَ فَسَادِ أُمَّتِي فَلَهُ أجر مائَة شَهِيد»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 176 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا
روایت ہے حضرت جابرسے وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی جب حضور کی خدمت میں حضرت عمر آئے فرمایا کہ ہم یہود کی کچھ باتیں سنتے ہیں جو ہمیں بھلی لگتی ہیں کیاحضور اجازت دیتے ہیں کہ کچھ لکھ بھی لیا کریں فرمایا کیا تم یہود اور عیسائیوں کی طرح حیران ہو ۱؎میں تمہارے پاس روشن و صاف شریعت لایا ۲؎اور اگر حضرت موسیٰ زندہ ہوتے تو انہیں میری اتباع کے بغیر چارہ نہ ہوتا۳؎اسے احمداوربیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا۔
وَعَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ أَتَاهُ عُمَرُ فَقَالَ: إِنَّا نسْمَعُ أَحَادِيثَ مِنْ يَهُودَ نُعْجِبُنَا أَفَتَرٰى أَنْ نَكْتُبَ بَعْضَهَا؟ فَقَالَ: "أَمُتَهَوِّكُوْنَ أَنْتُمْ كَمَا تَهَوَّكَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارٰى لَقَدْ جِئتُكُمْ بِهَا بَيْضَاءَ نَقِيَّةً، وَلَوْ كَانَ مُوسٰى حَيًّا مَا وَسِعَهٗ إِلَّا اتِّبَاعِيْ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الْإِيمَانِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 177 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا
۱∞؎روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو پاک و حلال کھائے سنت پر عمل کرے اورلوگ اس کے فتنوں سےمحفوظ رہیں وہ جنت میں جائے گا ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج کل بہت سے ایسے لوگ ہیں فرمایا میرے بعد والے زمانوں میں بھی ہوں گے ۲؎(ترمذی)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ أَكَلَ طَيِّبًا، وَعَمِلَ فِيْ سُنَّةٍ، وَأَمِنَ النَّاسُ بَوَائِقَه، دَخَلَ الْجَنَّةَ"، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ! صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هٰذَا الْيَوْمَ لَكَثِيرٌ فِي النَّاسِ؟ قَالَ: "وَسَيَكُونُ فِي قُرُوْنٍ بَعْدِيْ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 178 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم ایسے زمانہ میں ہو کہ جو احکام شریعہ کا دسواں حصہ چھوڑ دے تو وہ ہلاک ہوجائےپھر وہ زمانہ آوے گا کہ جو احکام کے دسویں حصے پر عمل کرے نجات پاوے گا ۱؎(ترمذی)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّكُمْ فِي زَمَانٍ مَنْ تَرَكَ مِنْكُمْ عُشْرَ مَا أُمِرَ بِهٖ هَلَكَ، ثُمَّ يَأْتِيْ زَمَانٌ مَنْ عَمِلَ مِنْهُمْ بِعُشْرِ مَا أُمِرَ بِهٖ نَجَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 179 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا