باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا

ایمان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ کوئی قوم ہدایت پر رہنے کے بعد گمراہ نہیں ہوئی مگر اس میں جھگڑے پیدا ہوگئے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی کہ وہ لوگ آپ کے لیے مثال نہیں بیان کرتے مگر جھگڑنے کے لئے بلکہ وہ قوم جھگڑالو ہے ۱؎احمد،ترمذی ،ابن ماجہ

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَا ضَلَّ قَوْمٌ بَعْدَ هُدًى كَانُوْا عَلَيْهِ إِلَّا أُوْلُوْا الْجَدَلِ» . ثُمَّ قَرَأَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هٰذِهٖ الْآيَةَ: (مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ إِلَّا جَدْلًا بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ) رَوَاہُ اَحْمَدُ وَالْتِرْمِذِیُّ وَ ابْنُ مَاجِہْ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 180 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا

روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ اپنی جانوں پر سختی نہ کرو ۱؎ورنہ الله تم پرسختی کرے گا ۲؎ایک قوم نے اپنی جانوں پر سختی کی تھی تو الله نے بھی ان پر سختی کردی ۳؎پس گرجوں اور دیروں میں انہی کے بقایا لوگ ہیں انہوں نے خود ترک دنیا ایجاد کی ہم نے ان پر لازم نہ کی تھی۴؎(ابوداؤد)

وَعَن أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: لَا تُشَدِّدُوْا عَلٰى أَنْفُسِكُمْ فَيُشَدِّدَ اللّٰهُ عَلَيْكُمْ فَإِنَّ قَوْمًا شَدَّدُوْا عَلٰی أَنْفُسِهِمْ فَشَدَّدَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ فَتِلْكَ بَقَايَاهُمْ فِي الصَّوَامِعِ وَالدِّيَارِ (رَهْبَانِيَّةٌ اِبْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ)رَوَاهُ أَبُو دَاوٗدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 181 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ قرآن پانچ قسموں پر اترا ۱؎حلال حرام محکم اور متشابہ ۲؎اور مثالیں لہذا حلال کو حلال جانو اور حرام کو حرام مانو محکم پر عمل کرو اور متشابہ پر ایمان لاؤ۳؎مثالوں سے عبرت پکڑو ۴؎یہ مصابیح کے الفاظ ہیں اور بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا جس کی عبارت یوں ہے کہ حلال پر عمل کرو اور حرام سے بچو اور محکم کی اتباع کرو۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى خَمْسَةِ أَوْجُهٍ: حَلَالٍ وَحَرَامٍ وَمُحْكَمٍ وَمُتَشَابِهٍ وَأَمْثَالٍ. فَأَحِلُّوا الْحَلَالَ وَحَرِّمُوا الْحَرَامَ وَاعْمَلُوا بِالْمُحْكَمِ وَآمِنُوا بِالْمُتَشَابِهِ وَاعْتَبِرُوا بِالْأَمْثَالِ".هَذَا لَفْظُ الْمَصَابِيْحِ. وَرَواہُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْاِيْمَانِ وَلَفْظُهٗ: «فَاعْمَلُوا بِالْحَلَالِ وَاجْتَنِبُوا الْحَرَامَ وَاتَّبِعُوا الْمُحْكَمَ»

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 182 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چیزیں تین طرح کی ہیں ایک وہ جس کا ہدایت ہونا ظاہر اس کی توپیروی کرو ایک وہ جس کا گمراہی ہونا ظاہر اس سے بچو ایک وہ جو مختلف ہے اسے اللہ کے حوالے کرو ۱؎(احمد)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْأَمْرُ ثَلَاثَةٌ: أَمْرٌ بَيِّنٌ رُشْدُهُ فَاتَّبِعْهُ وَأَمْرٌ بَيِّنٌ غَيُّهُ فَاجْتَنِبْهُ وَأَمْرٌ اخْتُلِفَ فِيهِ فَكِلْهُ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ)رَوَاهُ أَحْمَدُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 183 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا

روایت ہے حضرت معاذا بن جبل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ شیطان آدمی کا بھیڑیا ہے جیسے بکریوں کا بھیڑیا الگ اور دور اور کنارے والی کو پکڑتا ہے ۱؎تم گھاٹیوں سے بچو ۲؎جماعت مسلمین اور عوام کو لازم پکڑو۳؎(احمد)

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِنَّ الشَّيْطَانَ ذِئْبُ الْإِنْسَانِ كَذِئْبِ الْغَنَمِ يَأْخُذُ الشَّاذَّةَ وَالْقَاصِيَةَ وَالنَّاحِيَةَ وَإِيَّاكُمْ وَالشِّعَابَ وَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ وَالْعَامَّةِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 184 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا

روایت ہے حضرت ابوذرسے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جماعت سے بالشت بھربچھڑا اس نے اسلام کی رسی اپنی گردن سے اتاردی ۱؎(احمدوابوداؤد)

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَقَدْ خَلَعَ رَبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهٖ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 185 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا

روایت ہے حضرت مالک ابن انس سے مرسل ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں نے تم میں دو چیزیں وہ چھوڑی ہیں جب تک انہیں مضبوط تھامے رہو گے گمراہ نہ ہوگے اللہ کی کتاب اور اس کے پیغمبرکی سنت ۲؎یہ روایت موطا میں ہے۔

وَعَنْْْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ مُرْسَلًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « " تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ الله وَسُنَّةَ رَسُولِهٖ». رَوَاهُ فِي الْمُوَطَّأ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 186 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا

روایت حضرت غضیف بن حارث ثمالی ۱؎سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ کوئی قوم بدعت نہیں ایجاد کرتی مگر اسی قدر سنت اٹھالی جاتی ہے ۲؎لہذا سنت کو پکڑنا بدعت کی ایجاد سے بہتر ہے۳؎(احمد)

وَعَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ اَلثَّمَالِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :(مَا أَحْدَثَ قَوْمٌ بِدْعَةً إِلَّا رُفِعَ مِثْلُهَا مِنَ السُّنَّةِ فَتَمَسُّكٌ بِسُنَّةٍ خَيْرٌ مِنْ إِحْدَاثِ بِدْعَةٍ)رَوَاهُ أَحْمَدُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 187 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا

روایت ہے حضرت حسان سے ۱؎فرمایا کوئی قوم اپنے دین میں بدعت نہیں ایجاد کرتی مگراللہتعالٰی اسی قدر ان کی سنت اٹھا لیتا ہے۲؎پھر اسے تاقیامت ان میں نہیں واپس کرتا۳؎(دارمی)

وَعَنْ حَسَّانَ قَالَ: «مَا ابْتَدَعَ قَوْمٌ بِدْعَةً فِي دِينِهِمْ إِلَّا نَزَعَ اللّٰهُ مِنْ سُنَّتِهِمْ مِثْلَهَا ثُمَّ لَا يُعِيْدُهَا إِلَيْهِمْ إِلٰی يَوْمِ الْقِيَامَةِ.» رَوَاهُ الدَّارمِيُّ "

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 188 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا

روایت ہے حضرت ابراہیم ابن میسرہ سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس نے بدعتی کی تعظیم کی یقینًا اس نے اسلام ڈھانے پر مدد دی۲؎اسے بیہقی نےشعب الایمانمیں مرسلًا روایت کیا۔

وَعَنْ إِبْرَاهِيْمَ ابْنِ مَيْسَرَةِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ وَقَّرَ صَاحِبَ بِدْعَةٍ فَقَدْ أَعَانَ عَلٰی هَدْمِ الْإِسْلَامِ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْاِيْمَانِ مُرْسَلًا

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 189 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں جس نے قرآن سیکھا ۱؎پھر اس کی اتباع کی۲؎اللہاسے دنیا میں گمراہی سے بچائے گا اور قیامت کے دن سخت عذاب سے محفوظ رکھے گا ۳؎ایک روایت میں ہے کہ فرماتے ہیں جو قرآن کی پیروی کرے گا وہ دنیا میں گمراہ اور آخرت میں بدبخت نہ ہوگا پھر یہ آیت تلاوت کی کہ جو میری ہدایت کی اتباع کرے وہ نہ گمراہ ہو اور نہ بدنصیب ۴؎(رزین)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَنْ تَعَلَّمَ كِتَابَ اللهِ ثُمَّ اِتَّبَعَ مَا فِيهِ هَدَاهُ اللّٰهُ مِنَ الضَّلَالَةِ فِي الدُّنْيَا وَوَقَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سُوْءَ الْحِسَابِ وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: مَنِ اقْتَدٰى بِكِتَابِ اللهِ لَا يَضِلُّ فِي الدُّنْيَا وَلَا يَشْقٰى فِي الْآخِرَةِ ثُمَّ تَلَا هٰذِهِ الْآيَةَ: (فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقٰى) رَوَاهُ رَزِيْنٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 190 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اللہ نے سیدھے راستہ کی مثال قائم فرمائی ۱؎اور اس راستہ کے دوطرفہ دو دیواریں ہیں جن میں کھلے ہوئے دروازے ہیں دروازوں پر پردے لٹکے ہیں راستہ کے کنارے پر پکارنے والا کہہ رہا ہے کہ راستہ پر سیدھے چلے جاؤ ٹیڑھے نہ ہونا اس کے اوپر ایک منادی بھی ہے جو پکارتا ہے جب کوئی بندہ ان میں سے کوئی دروازہ کھولنا چاہتا ہے تو داعی کہتا ہے ہائے افسوس اسے نہ کھول اگر کھولے گا تو اس میں گھس جائے گا۲؎پھر اس کی تفسیر یوں فرمائی کہ راستہ تو اسلام ہے ۳؎اور کھلے ہوئے دروازےاللہکے محرمات ہیں
۴
؎اور لٹکے ہوئے پردےاللہکی حدیں ہیں ۵؎اور راستے کے کنارے پر پکارنے والا قرآن ہے اور اس کے اوپر بلانے والااللہکا واعظ ہے جو ہر مؤمن کے دل میں ہوتا ہے ۶؎اسے رزین نے روایت کیا۔

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا وَعَنْ جَنَبَتَيِ الصِّرَاطِ سُورَانِ فِيْهِا أَبْوَابٌ مُفَتَّحَةٌ وَعَلَى الْأَبْوَابِ سُتُورٌ مُرَخَاةٌ وَعِنْدَ رَأْسِ الصِّرَاطِ دَاعٍ يَقُولُ: اِسْتَقِيْمُوا عَلَى الصِّرَاطِ وَلَا تَعْوَجُّوْا وَفَوْقَ ذٰلِكَ دَاعٍ يَدْعُو كُلَّمَا هَمَّ عَبْدٌ أَنْ يَفْتَحَ شَيْئًا مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ قَالَ: وَيْحَكَ لَا تَفْتَحْهُ فَإِنَّكَ إِنْ تَفْتَحْهُ تَلِجْهُ ". ثُمَّ فَسَّرَهُ فَأَخْبَرَ: " أَنَّ الصِّرَاطَ هُوَ الْإِسْلَامُ وَأَنَّ الْأَبْوَابَ الْمُفَتَّحَةَ مَحَارِمُ اللهِ وَأَنَّ السُّتُورَ الْمُرَخَاةَ حُدُودُ الله وَأَنَّ الدَّاعِيَ عَلٰى رَأْسِ الصِّرَاطِ هُوَ الْقُرْآنُ وَأَنَّ الدَّاعِيَ مِنْ فَوْقِهٖ ھُوَ وَاعِظُ اللهِ فِي قَلْبِ كُلِّ مُؤْمِنٍ)رَوَاهُ رَزِيْنٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 191 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا

احمد اوربیہقی نے شعب الایمان میں حضرت نواس ابن سمعان سےنقل فرمایا یوں ہی ترمذی نے انہیں سے لیکن ترمذی نے کچھ مختصر روایت فرمایا۔

وَرَوَاہٌ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ وَكَذٰا التِّرْمِذِيُّ عَنْهُ إِلَّا أَنَّهُ ذَكَرَ أَخْصَرَ مِنْهُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 192 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں ۱؎جو سیدھی راہ جانا چاہے وہ وفات یافتہ بزرگوں کی راہ چلے ۲؎کہ زندہ پر فتنہ کی امن نہیں ۳؎وہ بزرگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ہیں جو اس امت میں بہترین ۴؎دل کے نیک علم کے گہرے اور تکلف میں کم تھے ۵؎اللہنے انہیں اپنے نبی کی صحبت اور اپنے نبی کا دین قائم رکھنے کے لیے چن لیا۶؎ان کی بزرگی مانو ان کے آثار قدم پر چلو بقدر طاقت ان کے اخلاق و سیرت کو مضبوط پکڑو کہ وہ سیدھی ہدایت پر تھے ۷؎(رزین)

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: مَنْ كانَ مُسْتَنًّا فَلْيَسْتَنَّ بِمَنْ قَدْ مَاتَ، فَإِنَّ الْحَيَّ لَا تُؤْمَنُ عَلَيْهِ الْفِتْنَةُ. أُولَئِكَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانُوا أَفْضَلَ هٰذِهِ الأُمَّةِ، أَبَرَّهَا قُلُوبًا، وَأَعْمَقَهَا عِلْمًا، وَأَقَلَّهَا تَكَلُّفًا، اخْتَارَهُمُ اللّٰهُ لِصُحْبَۃِ نَبِيِّهٖ وَلإِقَامَةِ دِينِهٖ، فَاعْرِفُوْا لَهُمْ فَضْلَهُمْ، وَاتَّبِعُوهُمْ عَلٰی آثَارِهِمْ، وَتَمَسَّكُوا بِمَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ أَخْلَاقِهِمْ وَسِيَرِهِمْ، فَإِنُّهُمْ كَانُوْا عَلَى الْهُدَي الْمُسْتَقِيْمِ. رَوَاهُ رَزِينٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 193 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا

روایت ہے حضرت جابر سے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں توریت کا نسخہ لائے اور عرض کیا یارسول اللہ یہ توریت کا نسخہ ہے حضور خاموش رہے ۱؎آپ پڑھنے لگے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور بدلنے لگا ابو بکر بولے کہ تمہیں رونے والیاں روئیں تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ انور کا حال نہیں دیکھتے ۲؎تب حضرت عمر نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا چہر ۂ انور دیکھا تو بولے میں اللہ اوررسول کے غضب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ہم اللہ کی ربوبیت اسلام کے دین ہونے اور محمد مصطفے کے نبی ہونے سے راضی ہیں ۳؎تب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی قسم جس کے قبضے میں محمدمصطفےٰ کی جان ہے اگر حضرت موسی آج ظاہر ہوجاویں اور تم ان کی پیروی کرو اور مجھے چھوڑ دو تو سیدھے راستے سے بھٹک جاؤ گے اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے ۴؎اور میری نبوت پاتے تو میری پیروی کرتے ۵؎(دارمی)

عَن جَابِرٍ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنُسْخَةٍ مِنَ التَّوْرَاةِ فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ هٰذِهٖ نُسْخَةٌ مِنَ التَّوْرَاةِ فَسَكَتَ فَجَعَلَ يَقْرَأُ وَوَجْهُ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَغَيَّرُ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ ثَكِلَتْكَ الثَّوَاكِلُ مَا تَرٰى مَا بِوَجْهِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ عُمَرُ إِلٰی وَجْهِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَعُوذُ بِاللهِ مِنْ غَضَبِ اللهِ وَغَضَبِ رَسُوْلِهٖ رَضِيْنَا بِاللّٰهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِيْنًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهٖ لَوْ بَدَا لَكُمْ مُوسٰی فَاتَّبَعْتُمُوْهُ وَتَرَكْتُمُوْنِيْ لَضَلَلْتُمْ عَنْ سَوَاءِ السَّبِيلِ وَلَوْ كَانَ حَيًّا وَأَدْرَكَ نُبُوَّتِيْ لَاتَّبَعَنِيْ)رَوَاهُ الدَّارمِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 194 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا کلام اللہ کے کلام کو منسوخ نہیں کرتا ۱؎اور اللہ کا کلام میرے کلام کو منسوخ کرتا ہے اور اللہ کا کلام بعض بعض کو منسوخ کرتاہے۲؎

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «كَلَامِيْ لَا يَنْسَخُ كَلَامَ اللهِ وَكَلَامُ اللهِ يَنْسَخُ كَلَامِيْ وَكَلَامُ اللهِ يَنْسَخُ بَعْضَهٗ بَعْضًا»

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 195 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا

اور روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہماری بعض حدیثیں بعض کو قرآن کی طرح منسوخ کرتی ہیں ۱؎

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِنَّ أَحَادِيثَنَا يَنْسَخُ بَعْضَهَا بَعْضًا كَنَسْخِ الْقُرْآنِ»

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 196 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا

روایت ہے حضرت ابی ثعلبہ خشنی سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اللہ نے کچھ فرائض لازم فرمائے انہیں ضائع نہ کرو ۲؎کچھ محرمات حرام کیے ان کی حرمت نہ توڑو ۳؎کچھ حدیں مقرر کیں ان سے آگے نہ بڑھو ۴؎کچھ چیزوں سے (بغیربھولے)خاموشی کی ان سے بحث نہ کرو۵؎ان تینوں حدیثوں کو دارقطنی نے روایت کیا۔

وَعَنْ أَبِيْ ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِنَّ اللهَ فَرَضَ فَرَائِضَ فَلَا تُضَيِّعُوْهَا وَحَرَّمَ حُرُمَاتٍ فَلَا تَنْتَهِكُوْهَا وَحَدَّ حُدُوْدًا فَلَا تَعْتَدُوْهَا وَسَكَتَ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ غَيْرِ نِسْيَانٍ فَلَا تَبْحَثُوْا عَنْهَا» . رَوَى الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ الدَّارَقُطْنِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 197 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا