باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا

ایمان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1

روایت ہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ایجاد کرے ہمارے دین میں وہ طریقہ جو اس دین سے نہیں وہ مردود ہے ۱؎

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنا هٰذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ". مُتَّفقٌ عَلَيْهِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 140 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا

روایت ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ حمد و صلوۃ کے بعد یقینًا بہترین بات الله کی کتاب ہے اور بہترین طریقہ محمدمصطفےٰ کا طریقہ ہے ۱؎اور بدترین چیز دین کی بدعتیں ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۲؎(مسلم)

وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللهِ، وَخَيْرَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ، وَشَرَّ الأُمُورِ مُحْدَثَاتُها وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 141 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے الله کی بارگاہ میں تین شخص ناپسند ترین ہیں حرم میں بے دینی کرنے والا ۱؎اسلام میں جاہلیت کے طریقے کا متلاشی۲؎مسلمان کے خون ناحق کا جویاں تاکہ اس کی خونریزی کرے۳؎(بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَبْغَضُ النَّاسِ إِلٰى اللهِ ثَلَاثَةٌ: مُلْحِدٌ فِي الْحَرَمِ، وَمُبْتَغٍ فِي الإِسْلَامِ سُنَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ، وَمُطَّلِبٍ دَمَ امْرِئٍ بِغَيْرِ حَقِّ لِيُهْرِيقَ دَمَهُ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 142 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا

روایت ہے حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ )سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ منکر کے سوا میری ساری امت جنت میں جائے گی ۱؎عرض کیا گیا منکرکون ہے؟ فرمایا جس نے میری فرمانبرداری کی بہشت میں گیا جس نے میری نافرمانی کی منکرہوا ۲؎(بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "كُلُّ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ أَبٰى". قِيلَ: مَنْ أَبٰی؟ قَالَ: "مَن أَطَاعَنِيْ دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ عَصَانِیْ فَقَدْ أَبٰى". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 143 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ حضور کی بارگاہ میں فرشتے حاضر ہوئے جب کہ آپ سو رہے تھے ۱؎ تو بولے کہ تمہارے ان صاحب کی ایک کہاوت ہے ان سے بیان کردو۲؎ تو بعض بولے کہ وہ سورہے ہیں اور بعض نے کہا کہ ان کی آنکھیں سو رہی ہیں اور دل شریف بیدار ہے ۳ ؎ تو بولے تمہارے ان محبوب کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص گھر بنائے وہاں دستر خوان رکھے اور بلانے والے کو بھیج دے تو جو اس بلانے والے کی بات مان لے وہ گھر میں آئے گا دستر خوان سے کھائے گا اور جو نہ مانے وہ نہ آئے نہ اس کے دستر خوان سے کچھ کھاسکے ۴؎ پھر بولے کہ اس کا مطلب بھی عرض کردو تاکہ خوب سمجھ لیں ۵؎ تو بعض بولے کہ وہ تو سو رہے ہیں بعض نے کہا کہ آنکھیں سو رہی ہیں اور دل جاگتا ہے ۶؎ تو بولے کہ گھر تو ہے جنت اور بلانے والے ہیں محمد مصطفے ۷؎ جو حضور کی اطاعت کرے وہاللهکا مطیع ہے اورجس نے حضور کی نافرمانی کی اس نےاللهکی نافرمانی کی ۸ ؎ اور محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)لوگوں میں طرۂ امتیاز ہیں ۹ ؎ (بخاری)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: جَاءَتْ مَلَائِكَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَائِمٌ، فَقَالُوْا: إِنَّ لِصَاحِبِكُمْ هٰذَا مَثَلًا فَاضْرِبُوْا لَهٗ مَثَلًا، قَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّهُ نَائِمٌ،وَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّ الْعَيْنَ نائِمَةٌ، وَالْقَلْبَ يَقْظَانُ، فَقَالُوا: مَثَلُهُ كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنٰى دَارًا وَجَعَلَ فِيهَا مَأْدُبَةً وَبَعَثَ دَاعِيًا، فَمَنْ أَجَابَ الدَّاعِيَ دَخَلَ الدَّارَ، وَأَكَلَ مِنَ الْمَأْدُبَةِ، وَمَنْ لَمْ يُجبِ الدَّاعِيَ لَمْ يَدْخُلِ الدَّارَ، وَلَمْ يَأْكُلْ مِنَ الْمَأْدُبَةِ، فَقَالُوا: أَوِّلُوهَا لَهُ يَفْقَهْهَا، قَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّهُ نائِمٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّ الْعَيْنَ نَائِمَةٌ، وَالْقَلْبَ يَقْظَانُ، فَقَالُوْا: الدَّارُ الْجَنَّةُ، وَالدَّاعِيْ مُحَمَّدٌ، فَمَنْ أَطَاعَ مُحَمَّدًا فَقَدْ أَطَاعَ اللهَ، وَمَنْ عَصٰى مُحَمَّدًا فَقَدْ عَصَى اللهَ، وَمُحَمَّدٌ فَرْقٌ بَيْنَ النَّاسِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 144 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ تین ٹولے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کی خدمت میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت معلوم کرنے کے لیے حاضرہوئے ۱؎جب انہیں عبادات کی خبر دی گئی تو غالبًا انہوں نے اسے کچھ کم سمجھا ۲؎تو بولے کہ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیانسبت رب تعالٰی نے ان کی اگلی پچھلی سب لغزشیں بخش دیں۳؎لہذا ان میں ایک بولاکہ میں ہمیشہ ساری رات نماز پڑھا کروں گا ۴؎دوسرا بولامیں ہمیشہ دن ميں روزہ دار رہوں گا کبھی افطار نہ کروں گا ۵؎تیسرا بولا کہ میں عورتوں سے الگ رہوں گا کبھی نکاح نہ کروں گا۶؎پھرنبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا تم ہی وہ ہو جنہوں نے ایسا ایسا کہا خبردار رہو کہ خدا کی قسم میں تم سب میںاللہسے زیادہ ڈرنے والا اور خوف کرنے والا ہوں لیکن میں روزے بھی رکھتا ہوں افطاربھی کرتا ہوں نمازبھی پڑھتا ہوں سوتابھی ہوں بیویوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۷؎جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ مجھ سے نہیں ۸؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: جَاءَ ثَلَاثَةُ رَهْطٍ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَ عَنْ عِبَادَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا أُخْبِرُوْا بِهَا كَأَنَّهُمْ تَقَالُّوْهَا، فَقَالُوا: أَيْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ غَفَرَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ؟ فقَالَ أَحَدُهُمْ أَمَّا أَنَا فَأُصَلِّي اللَّيْلَ أَبَدًا، وَقَالَ الآخَرُ: أَنَا أَصُومُ النَّهَارَ أَبَدًا وَلَا أفْطِرُ، وَقَالَ الآخَرُ: أَنَا أَعْتَزِلُ النِّسَاءَ فَلَا أَتَزَوَّجُ أَبَدًا، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ: "أَنْتُمُ الَّذِينَ قُلْتُمْ كَذٰا وَكَذٰا؟ أَمَا وَاللهِ إِنِّي لأَخْشَاكُمْ وَأَتْقَاكُمْ لَهٗ، لَكِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ، وَأُصَلِّي وَأَرْقُدُ، وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَفَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ فَلَيْسَ مِنِّيْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 145 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ کوئی کام کیا پھر اس کی اجازت ہوگئی ۱؎مگر ایک گروہ نے اس سے پرہیز کیا۲؎یہ خبر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے خطبہ پڑھا اوراللہکی حمدکی پھر فرمایا کہ ان لوگوں کا کیا حال ہے کہ ان چیزوں سے بچتے ہیں جو میں کرتا ہوںاللہکی قسم میں ان سب سےاللہکو زیادہ جانتا ہوں اور سب سے زیادہاللہسے خوف والا ہوں۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: صَنَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَرَخَّصَ فِيهِ، فَتَنَزَّهَ عَنْهُ قَوْمٌ، فَبَلَغَ ذٰلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ فَحَمِدَ اللهَ، ثُمَّ قَالَ: "مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَتَنَزَّهُوْنَ عَنِ الشَّيْءِ أَصْنَعُهُ،فَوَاللهِ إِنِّي لأَعْلَمُهُمْ بِاللّٰهِ وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً". مُتَفَقٌ عَلَيْهِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 146 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا

روایت ہے رافع ابن خدیج سے ۱؎فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں تشریف لائے اہلِ مدینہ کھجوروں کی شادی کرتے تھے۲؎تو فرمایا تم یہ کیا کرتے ہو وہ بولے ہم پہلے سے ایسا کرتے آئے ہیں فرمایا ممکن ہے کہ تم یہ نہ کرو تو اچھا ہو۳؎لوگوں نے یہ شادی چھوڑ دی پھل کم ہوگئے فرماتے ہیں کہ انہوں نے یہ واقعہ آپ سے عرض کیا ۴؎تو فرمایا کہ میں ایک بشر ہوں جب تم کو کسی دینی کام کا حکم دوں تو اسے لے لو اور جب اپنی رائے سے کچھ کہوں تو میں بشرہی ہوں۵؎(مسلم)

وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: قَدِمَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المَدِينَةَ وَهُمْ يُؤبِّرُوْنَ النَّخْلَ، فَقَالَ: "مَا تَصْنَعُوْنَ قَالُوا: كُنَّا نَصْنَعُهُ، قَالَ: "لَعَلَّكُمْ لَوْ لَمْ تَفْعَلُوا كَانَ خَيْرًا" فَتَرَكُوْهُ فَنَقَصَتْ، قَالَ: فَذَكَرُوْا ذٰلِكَ لَهُ فَقَالَ: "إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ؛ إِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ أَمْرِ دِينِكُمْ فَخُذُوا بِهٖ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ رَأْيِيْ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 147 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا

روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میری اورجو کچھ مجھےاللہنے دے کر بھیجا اس کی کہاوت اس شخص کی سی ہے جس نے کسی قوم کے پاس آکر کہا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے ایک لشکر دیکھا ہے ۱؎میں کھلا ڈرانے والاہوں ۲؎بچو بچو کہ اس کی قوم سے ایک ٹولہ نے اس کی بات مان لی اور اندھیرے منہ اٹھے اور بروقت نکل گئے تو بچ گئے ۳؎اور ان کے ایک ٹولہ نے جھٹلا دیا وہ اسی جگہ رہے پھر سویرے ہی لشکر ان پرٹوٹ پڑا انہیں ہلاک کرکے تہس نہس کر دیا ۴؎یہ ہی اس کی مثال ہے جس نے میری اطاعت کی تو میرے لائے ہوئے کی اتباع کی اور اس کی جس نے میری نافرمانی کی اورمیرے لائے ہوئے حق کو جھٹلادیا۔(مسلم وبخاری)

وَعَنْ أَبِيْ مُوسٰى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ مَا بَعَثَنِي اللّٰهُ بِهٖ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَتٰى قَوْمًا، فَقَالَ: يَا قَوْمِ! إِنِّي رَأَيْتُ الْجَيْشَ بِعَيْنَيَّ، وَإِنِّي أَنَا النَّذِيرُ الْعُرْيَانُ،فَالنَّجَاءَ النَّجَاءَ، فَأَطَاعَهٗ طَائِفَةٌ مِنْ قَوْمِهٖ فَأَدْلَجُوْا،فَانْطَلَقُوْا عَلٰى مَهْلِهِمْ فَنَجَوْا، وَكَذَّبَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ فَأَصْبَحُوْا مَكَانَهُمْ، فَصَبَّحَهُمُ الْجَيْشُ فَأَهْلَكَهُمْ وَاجْتَاحَهُمْ، فَذٰلِكَ مَثَلُ مَنْ أَطَاعَنِي فَاتَّبَعَ مَا جِئْتُ بِهٖ، وَمَثَلُ مَنْ عَصَانِيْ وَكَذَّبَ مَا جِئْتُ بِهٖ مِنَ الْحَقِّ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 148 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے میری کہاوت اس شخص کی سی ہے ۱؎جس نے آگ روشن کی جب آگ نے ارد گرد کو چمکا دیا تو پتنگے اور یہ جو آگ میں گرا کرتے ہیں(جانور)اس میں گرنے لگے۲؎اور انہیں روکنے لگا اور وہ جانور اس پر غالب آئے جاتے ہیں آگ میں گرے جاتے ہیں ۳؎چنانچہ میں تمہاری کمر پکڑکر آگ سے بچاتا ہوں اور تم اس میں گرے جاتے ہو۴؎یہ بخاری کی روایت ہے مسلم کی روایت اسی طرح ہے مگر اس کے آخر میں فرمایا کہ حضور نے فرمایا یہ میری تمہاری مثال ہے میں تمہیں کمر سے پکڑکر آگ سے بچارہا ہوں آگ سے بھاگ آؤ مگر تم مجھ پر غالب آئے جاتے ہو اور اس میں گرے جاتے ہو۔(مسلم و بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَثَلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهَا، جَعَلَ الْفَرَاشُ وَهَذِهٖ الدَّوَابُّ الَّتِيْ تَقَعُ فِي النَّارِ يَقَعْنَ فِيهَا،وَجَعَلَ يَحْجُزُهُنَّ وَيَغْلِبْنَهٗ، فَيَتَقَحَّمْنَ فِيْهَا، فَأَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُم ْعَنِ النَّارِ، وَأَنْتُمْ تَقَحَّمُونَ فِيهَا". هَذِهٖ رِوَايَةُ الْبُخَارِيِّ، وَلِمُسْلِمٍ نَحْوُهَا وَقَالَ فِي آخِرِهَا: قَالَ: "فَذٰلِكَ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ، أَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، هَلُمَّ عَنِ النَّارِ هَلُمَّ عَنِ النَّارِ، فَتَغْلِبُونِّيْ تَقَحَّمُونَ فِيهَا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 149 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا

روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اس ہدایت و علم کی مثال جو رب نے مجھے دے کر بھیجا ۱؎اس بہت سی بارش کی طرح ہے ۲؎جوکسی زمین میں پہنچی اس کا کچھ حصہ اچھا تھا جس نے پانی چوسا اور گھاس اور بہت چارہ اگادیا اور بعض حصہ سخت تھا ۳؎جس نے پانی جمع کرلیا جس سےاللہنے لوگوں کو نفع دیا کہ انہوں نے خود پیا پلایا اور کھیتی کی اور ایک دوسرے حصہ میں پہنچا جو چیٹل تھا کہ نہ پانی جمع کرے اور نہ گھاس اُگائے ۴؎یہ اس کی مثال ہے جو دینی عالم ہوا اور اسے اس چیزنے نفع دیا جو مجھے رب نے دے کر بھیجا اس نے سیکھا اورسکھایا ۵؎اور اس کی مثال ہے جس نے اس پر سر نہ اٹھایا اوراللہکی وہ ہدایت قبول نہ کی جو مجھے دے کر بھیجا گیا ۶؎(بخاری و مسلم)

وَعَنْ أَبِي مُوسٰى قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَثَلُ مَا بَعَثَنِيَ اللّٰهُ بِهٖ مِنَ الْهُدٰى وَالْعِلْمِ كَمَثَلِ الْغَيْثِ الْكَثِيْرِ أَصَابَ أَرْضًا، فَكَانَتْ مِنْهَا طَائِفَةٌ طَيِّبَةٌ قَبِلَتِ الْمَاءَ فَأَنْبَتَتِ الْكَلأَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيْرَ،وَكَانَتْ مِنْهَا أَجَادِبُ أَمْسَكَتِ الْمَاءَ،فَنَفَعَ اللّٰهُ بِهَا النَّاسَ،فَشَرِبُوْا وَسَقَوْا وَزَرَعُوْاوَأَصَابَ مِنْهَا طَائِفَةٌ أُخْرٰى إِنَّمَا هِيَ قِيعَانٌ لَا تُمْسِكُ مَاءً وَلَا تُنْبِتُ كَلأً،فَذٰلِكَ مَثَلُ مَنْ فَقُهَ فِي دِينِ اللهِ، وَنَفَعَهٗ مَا بَعَثَنِيَ اللّٰهُ بِهٖ فَعَلِمَ وَعَلَّمَ، وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذٰلِكَ رَأْسًا وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَى اللهِ الَّذِيْ أُرْسِلْتُ بِهٖ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 150 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے آیت تلاوت کی کہ وہ رب وہ ہے جس نے تم پر کتاب اتاری جس میں واضح آیات ہیں ۱؎اورمَا يَذَّكَّرُ الآیہتک پڑھی فرماتی ہیں حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم(اور مسلم میں ہے)لوگ انہیں دیکھو جو متشابہات کے پیچھے پڑتے ہیں تو یہ ہی وہ لوگ ہیں جن کااللہنے ذکر فرمایا ان سے بچو ۲؎(مسلم وبخاری)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: تَلَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الَّذِيْ أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ وَقَرَأَ إِلٰى وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "فَإِذَا رَأَيْتَ وَعِنْدَ مُسْلِمٍ: رَأَيْتُمُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ فَأُولٰئِكَ الَّذِينَ سَمَّاهُمُ اللّٰهُ فَاحْذَرُوهُمْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 151 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا

روایت ہے عبداللہبن عمرو سے فرماتےہیں ایک دن دوپہری میں میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے دوشخصوں کی آوازیں سنیں جو کسی آیت میں جھگڑ رہے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے کہ چہرہ انو ر میں غصہ معلوم ہوتا تھا فرمایا تم سے پہلے لوگ کتاب اللہ میں جھگڑوں کی وجہ سے ہی ہلاک ہوگئے ۱؎(مسلم)

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: هَجَّرْتُ إِلٰى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًاقَالَ: فَسَمِعَ أَصْوَاتَ رَجُلَيْنِ اخْتَلَفَا فِي آيَةٍ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ، فَقَالَ: "إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كانَ قَبْلَكُمْ بِاخْتِلَافِهِمْ فِي الْكِتَابِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 152 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا

روایت ہے حضرت سعدابن ابی وقاص سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مسلمانوں میں بڑا مجرم وہ ہے جو کسی غیر حرام چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کرے ۲؎اس کی پوچھ گچھ کی وجہ سے وہ چیز حرام کردی جاوے ۳؎(بخاری و مسلم)

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إنَّ أَعْظَمَ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا مَنْ سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ لَمْ يُحَرَّمْ عَلَى النَّاسِ، فَحُرِّمَ مِنْ أجَلِ مَسْأَلَتِهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 153 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ آخری زمانہ میں جھوٹے دجال ہوں گے ۱؎جو تمہارے میں وہ احادیث لائیں گے جو نہ تم نے سنیں نہ تمہارے باپ دادوں نے ۲؎ان کو اپنے سے اپنے کو ان سے دور رکھو وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں فتنہ میں نہ ڈال دیں۳؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ، يَأْتُونَكُمْ مِنَ الأَحَادِيثِ بِمَا لَمْ تَسْمَعُوْا أَنْتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ لَا يُضِلُّونَكُمْ وَ يَفْتِنُونَكُمْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 154 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ اہل کتاب مسلمانوں کے سامنے عبرانی زبان میں توریت پڑھ کر عربی میں ترجمہ کرتے تھے تب حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اہل کتاب کو نہ سچا کہو نہ جھوٹا ۱؎یہ کہہ دو کہ ہماللہپر اور اس پر ایمان لائے جو ہماری طرف اتارا گیا ہے۲؎(بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ أَهْلُ الْكِتَابَ يَقْرَؤُوْنَ التَّوْرَاةَ بِالْعِبْرَانِيَّةِ وَيُفَسِّرُونَهَا بِالْعَرَبِيَّةِ لأَهْلِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا تُصَدِّقُوْا أَهْلَ الْكِتَابِ وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ، وَ {قُولُوْا آمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا} " الآيَة. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 155 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ انسان کے جھوٹا ہونے کو یہ ہی کافی ہے کہ ہرسنی بات بیان کردے ۱؎(مسلم)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "كَفٰی بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 156 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہاللہنے مجھ سے پہلے ایسا کوئی نبی نہ بھیجا جس کی امت میں سے کچھ لوگ ان کے خاص صاحب اسرار ۱؎اور وہ صحابہ نہ ہوں جو ان کی سنت کولیں اور ان کے احکام کی پیروی کریں ۲؎پھر ان کے بعد ایسے ناخلف ہوتے تھےجو کہتے وہ تھے جو کرتے نہ تھے اور کرتے وہ تھے جس کا انہیں حکم نہ تھا۳؎تو جو ان پر ہاتھ سے جہاد کرے وہ بھی مؤمن اور جو زبان سے جہاد کرے وہ بھی مؤمن اور جو ان پر اپنے دل سے جہادکرے وہ بھی مؤمن ۴؎اور اس کے سوا رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان نہیں ۵؎(مسلم)

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَا مِنْ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللّٰهُ فِي أُمَّتِہٖ قَبْلِي إِلَّا كَانَ لَهُ فِي أُمَّتِهٖ حَوَارِيُّونَ وَأَصْحَابٌ يَأْخُذُونَ بِسُنَّتِهِ، وَيَقْتَدُوْنَ بِأَمْرِهٖ، ثُمَّ إِنَّهَا تَخْلُفُ مِنْ بَعْدِهِمْ خُلُوفٌ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُوْنَ، وَيَفْعَلُوْنَ مَا لَا يُؤْمَرُوْنَ، فَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِيَدِهٖ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِلِسَانِهٖ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِقَلْبِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَيْسَ وَرَاءَ ذٰلِكَ مِنَ الْإِيمَانِ حَبَّةُ خَرْدَلٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 157 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ہدایت کی طرف بلائے اس کو تمام عالمین کی طرح ثواب ملے گا،اور اس سے ان کے اپنے ثوابوں سے کچھ کم نہ ہوگا ۱؎اور جو گمراہی کی طرف بلائے تو اس پر تمام پیروی کرنے والے گمراہوں کے برابر گناہ ہوگا اور یہ ان کے گناہوں سے کچھ کم نہ کرے گا ۲؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ دَعَا إِلٰى هُدًى كَانَ لَهٗ مِنَ الأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهٗ، لَا يَنْقُصُ ذٰلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ دَعَا إِلٰى ضَلَالَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهٗ، لَا يَنْقُصُ ذٰلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 158 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام غریبی سے شروع ہوا اورجیسا شروع ہوا تھا ویسا ہی پھر ہوجائے گا غربا کو خوشخبری ہو ۱؎(مسلم)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "بَدَأَ الْإِسْلَامُ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ كَمَا بَدَأَ، فَطُوبٰى لِلْغُرَبَاءِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 159 ، باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا