باب : علم کا بیان

علم کی کتاب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1

روایت ہے حضرت ابودرداءسے فرماتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اس علم کی حد کیا ہے جہاں انسان پہنچے تو عالم ہو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو میری امت پر چالیس احکام دین کی حدیثیں حفظ کرے اسے اللہ فقیہ اٹھائے گا اور قیامت کے دن میں اس کا شفیع وگواہ ہوں گا ۱؎

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا حَدُّ الْعِلْمِ الَّذِي إِذَا بَلَغَهُ الرَّجُلُ كَانَ فَقِيهًا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ حَفِظَ عَلَى أُمَّتِي أَرْبَعِينَ حَدِيثًا فِي أَمْرِ دِينَهَا بَعَثَهُ اللَّهُ فَقِيهًا، وَكُنْتُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَة شَافِعًا وَشَهِيدًا".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 258 ، باب : علم کا بیان

روایت ہے انس بن مالک سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تم جانتے ہو کہ بڑا سخی کون ہے عرض کیااللہرسول جانیں ۱؎فرمایااللہتعالٰی بڑا جوّاد ہے ۲؎پھر اولاد آدم میں مَیں بڑا سخی داتا ہوں ۳؎اور میرے بعد بڑا سخی وہ شخص ہے جو علم سیکھے پھر اسے پھیلائے ۴؎وہ قیامت میں اکیلا امیر یا فرمایا ایک جماعت ہو کر آئے گا ۵؎

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "هَلْ تَدْرُونَ مَنْ أَجْوَدُ جُودًا؟ " قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "اللَّهُ تَعَالَى أَجْوَدُ جُودًا، ثُمَّ أَنَا أَجْوَدُ بَنِي آدَمَ، وَأَجْوَدُهُمْ مِنْ بَعْدِي رَجُلٌ عَلِمَ عِلْمًا فَنَشَرَهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمِيرًا وَحْدَهُ، أَو قَالَ: أُمَّةً وَاحِدَةً".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 259 ، باب : علم کا بیان

روایت ہے انہی سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو حریص سیرنہیں ہوتے ایک علم کا حریص جو اس سے سیر نہیں ہوتا اور دنیا کا حریص اس سے سیرنہیں ہوتا ۱؎یہ تینوں حدیثیں بیہقی نےشعب الایمانمیں روایت کیں اور فرمایا کہ امام احمد نے ابوالدرداءکی حدیث کے بارے میں فرمایا کہ لوگوں میں اس کا متن مشہور ہے لیکن اس کی اسنادصحیح نہیں ۲؎

وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "مَنْهُومَانِ لَا يَشْبَعَانِ مَنْهُومٌ فِي الْعِلْمِ لَا يَشْبَعُ مِنْهُ، وَمَنْهُومٌ فِي الدُّنْيَا لَا يَشْبَعُ مِنْهَا". رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ فِي "شُعَبِ الإِيْمَانِ" وَقَالَ: قَالَ الإِمَامُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثِ أَبِي الدَّرْدَاءِ: هَذَا مَتْنٌ مَشْهُورٌ فِيمَا بَيْنَ النَّاسِ وَلَيْسَ لَهُ إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 260 ، باب : علم کا بیان

روایت ہے حضرت عون سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا حضرت عبداللہابن مسعود نے کہ دو حریص سیر نہیں ہوتے علم والا اور دنیا والا مگر دونوں برابر نہیں ۲؎علم والا تواللہکی رضا مندی بڑھا لیتا ہے اور دنیا والا سرکشی میں بڑھ جاتا ہے ۳؎پھرحضرت عبداللہنے یہ آیت تلاوت فرمائی خبردار ہو یقینًا انسان سرکشی کرتا ہے اس لیے کہ اپنے کو بے پرواہ جانتا ہے فرماتے ہیں اور دوسرے کے بارے میں فرمایا کہ اللہ کے بندوں میں اللہ سے علماء ہی ڈرتے ہیں ۴؎(دارمی)

وَعَنْ عَوْنٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: مَنْهُومَانِ لَا يَشْبَعَانِ صَاحِبُ الْعِلْمِ وَصَاحِبُ الدُّنْيَا، وَلَا يَسْتَوِيَانِ، أَمَّا صَاحِبُ الْعِلْمِ فَيَزْدَادُ رِضًى لِلرَّحْمَنِ، وَأَمَّا صَاحِبُ الدُّنْيَا فَيَتَمَادَى فِي الطُّغْيَانِ. ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ كَلَّا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى قَالَ: وَقَالَ: الآخَرُ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ. رَوَاهُ الدَّارمِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 261 ، باب : علم کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میری امت کے کچھ لوگ علم دین سیکھیں گے اور قرآن پڑھیں گے کہیں گے کہ ہم امیروں کے پاس جائیں ان کی دنیا لے آئیں اپنا دین بچالائیں ۱؎لیکن ایسا نہ ہو سکے گا جیسے ببول کے درخت سے کانٹے ہی چنے جاتے ہیں ایسے ہی امیروں کے قرب سے(محمد ابن صباح نے فرمایا مطلب یہ ہے کہ)خطائیں ہی چنی جائیں گی ۲؎(ابن ماجہ)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِي سَيَتَفَقَّهُونَ فِي الدِّينِ وَيَقْرَؤُوْنَ الْقُرْآن يَقُولُونَ: نَأْتِي الأُمَرَاءَ فَنُصِيبُ مِنْ دُنْيَاهُمْ وَنَعْتَزِلُهُمْ بِدِينِنَا، وَلَا يَكُونُ ذَلِكَ، كَمَا لَا يُجْتَنَى مِنَ الْقَتَادِ إِلَّا الشَّوْكُ، كَذَلِكَ لَا يُجْتَنَى مِنْ قُرْبِهِمْ إِلَّا -قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ: كَأَنَّهُ يَعْنِي- الْخَطَايَا". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 262 ، باب : علم کا بیان

روایت ہے حضرت عبداللہابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ اگر علماء علم محفوظ رکھتے ۱؎اور اسے اہل ہی پر پیش کرتے ۲؎تو اس کی برکت سے اپنے زمانہ والوں کے سردار ہوجاتے ۳؎مگر انہوں نے علم دنیا داروں کے لیے خرچ کیا تاکہ اس سے ان کی دنیا کمائیں اس سے وہ ان پر ہلکے ہوگئے ۴؎میں نے تمہارے نبی کو فرماتے سنا کہ جو تمام غموں کو ایک آخرت کا غم بنالےاللہاسے دنیا کے غموں سے کافی ہوگا اور جسے دنیا کے غم ہر طرف لیے پھریں تواللہاس کی پروا بھی نہ کرے گا کہ کون سے جنگل میں ہلاک ہوا ۵؎اسے ابن ماجہ نے روایت کیا۔

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَوْ أَنَّ أَهْلَ الْعِلْم صَانوُا الْعِلْمَ، وَوَضَعُوهُ عِنْدَ أَهْلِهِ، لَسَادُوا بِهِ أَهْلَ زَمَانِهِمْ، وَلَكِنَّهُمْ بَذَلُوهُ لأَهْلِ الدُّنْيَا لِيَنَالُوا بِهِ مِنْ دُنْيَاهُمْ، فَهَانوُا عَلَيْهِمْ، سَمِعْتُ نبَيَّكُمْ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ "مَنْ جَعَلَ الْهُمُومَ هَمًّا وَاحِدًا هَمَّ آخِرَتِهِ كَفَاهُ اللَّهُ هَمَّ دُنْيَاهُ، وَمَنْ تَشَعَّبَتْ بِهِ الْهُمُومُ أَحْوَالُ الدُّنْيَا لَمْ يُبَالِ اللَّهُ في أَيِّ أَوْدِيَتِهَا هَلَكَ" رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 263 ، باب : علم کا بیان

اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن عمر سے جہاں سے روایت کیمَنْ جَعَلَالخ روایت ہے۔

وَرَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ" عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ قَوْلِهِ: مَنْ جَعَلَ الْهُمُومَ إِلَى آخِرِهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 264 ، باب : علم کا بیان

روایت ہے حضرت اعمش سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ علم کی آفت بھول جانا ہے اور اس کی بربادی یہ ہے کہ نااہل پر بیان کرو ۲؎اسے دارمی نے مرسلًا روایت کیا۔

وَعَنِ الأَعْمَشِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "آفَةُ الْعِلْمِ النِّسْيَانُ، وَإِضَاعَتُهُ أَنْ تُحَدِّثَ بِهِ غَيْرَ أَهْلِهِ"رَوَهُ الدَّارِمِيُّ مُرْسَلًا.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 265 ، باب : علم کا بیان

روایت ہے حضرت سفیان سے ۱؎کہ حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت کعب سے ۲؎فرمایا کہ اہل علم کون لوگ ہیں فرمایا جو اپنے علم پر عمل کرتے ہیں فرمایا کہ علماء کے دل سے علم کس چیز نے نکال دیا فرمایا لالچ نے ۳؎(دارمی)

وَعَنْ سُفْيَانَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ -رضي اللَّه عنه- قَالَ لِكَعْبٍ: مَنْ أَرْبَابُ الْعِلْمِ؟ قَالَ: الَّذِي يَعْمَلُونَ بِمَا يَعْلَمُونَ. قَالَ: فَمَا أَخْرَجَ الْعِلْمَ مِنْ قُلُوبِ الْعُلَمَاءِ؟ قَالَ: الطَّمَعُ. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 266 ، باب : علم کا بیان

روایت ہے حضرت احوص ابن حکیم سے ۱؎وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں کہ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے برائی کی بابت پوچھا ۲؎تو فرمایا کہ مجھ سے برائی کی بابت نہ پوچھو بھلائی کے متعلق پوچھو تین بار فرمایا۳؎پھر فرمایا آگاہ رہو کہ بدترین شریر برے علماء ہیں اور اچھوں سے اچھے بہترین علماء ہیں ۴؎(دارمی)

وَعَنِ الأَحْوَصِ بن حَكِيمِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الشَّرِّ،فَقَالَ: "لَا تَسْأَلُونِي عَنِ الشَّرِّ وَسَلُونِي عَنِ الْخَيْرِ" يَقُولُهَا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: "أَلَا إِنَّ شَرَّ الشَّرِّ شِرَارُ الْعُلَمَاءِ، وَإِنَّ خَيْرَ الْخَيْرِ خِيَارُ الْعُلَمَاءِ". رَوَاهُ الدَّارمِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 267 ، باب : علم کا بیان

روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں قیامت کے دناللہکے نزدیک بدتردرجہ والا وہ عالم ہے جس کے علم سے نفع حاصل نہ کیا جائے ۱؎(دارمی)

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: "إِنَّ مِنْ أَشَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَالِمٌ لَا يُنْتَفع بِعِلْمِهِ". رَوَاهُ الدَّارمِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 268 ، باب : علم کا بیان

روایت ہے حضرت زیاد ابن حدیرسے ۱؎فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت عمر نے فرمایا کہ کیا جانتے ہو کہ اسلام کو کیا چیز ڈھاتی ہے۲؎میں نے کہا نہیں فرمایا اسلام کو عالِم کی لغزش منافق کا قرآن میں جھگڑنا اور گمراہ کن سرداروں کی حکومت تباہ کرے گی ۳؎(دارمی)

وَعَن زِيَادِ بْنِ حُدَيْرٍ قَالَ: قَالَ لِي عُمَرُ: هَلْ تَعْرِفُ مَا يَهْدِمُ الإِسلَامَ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: يَهْدِمُهُ زَلَّةُ الْعَالِمِ، وَجِدَالُ الْمُنَافِقِ بِالْكِتَابِ، وَحُكْمُ الأَئِمَّةِ الْمُضِلِّينَ. رَوَاهُ الدِّارِمِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 269 ، باب : علم کا بیان

روایت ہے حضرت حسن سے فرماتےہیں علم دو طرح کے ہیں ایک علم دل میں یہ علم فائدہ مند ہے ۱؎دوسرا علم صرف زبان پر یہ انسان پراللہکی حجت ہے۲؎(دارمی)

وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: "الْعِلْمُ عِلْمَانِ: فَعِلْمٌ فِي الْقَلْبِ فَذَاكَ الْعِلْمُ النَّافِعُ، وَعِلْمٌ عَلَى اللِّسَانِ فَذَاك حُجَّةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى ابْنِ آدَمَ". رَوَاهُ الدَّارمِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 270 ، باب : علم کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم سے علم کے دو برتن محفوظ کیے ایک تو تم میں پھیلا دیا اور دوسرا اگر اسے پھیلاؤں تو یہ کاٹ ڈالا جائے یعنی گلا ۱؎(بخاری)

وَعَنْ أَبيِ هُرَيرَةَ قَالَ: حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وِعَاءَيْنِ، فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَبَثَثْتُهُ فِيكُمْ،وَأَمَّا الآخَرُ فَلَوْ بَثَثْتُهُ قُطِعَ هَذَا الْبُلْعُومُ، يَعْنِي مَجْرَى الطَّعَامِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 271 ، باب : علم کا بیان

روایت ہے حضرت عبداللہسے فرمایا اے لوگو!جو کوئی کچھ جانتا ہوتو بیان کردے اور جو نہ جانتا ہو وہ کہہ دےاللہجانے ۱؎کیونکہ علم یہ ہی ہے جسے تم نہ جانو تو کہہ دواللہجانے ۲؎اللہتعالٰی نے اپنے نبی سے فرمایا کہ فرمادو میں نبوت پر تم سے اجرت نہیں مانگتا اور نہ میں بناوٹ کرنے والوں سے ہوں ۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ عَلِمَ شَيْئًا فَلْيَقُلْ بِهِ، وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ فَلْيَقُلِ: اللَّهُ أَعْلَمُ، فَإِنَّ مِنَ الْعِلْمِ أَنْ تَقُولَ لِمَا لَا تَعْلَمُ: اللَّهُ أَعْلَمُ. قَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِنَبِيِّهِ: قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 272 ، باب : علم کا بیان

روایت ہے حضرت ابن سیرین سے ۱؎فرماتے ہیں کہ علم دین ہے لہذا غورکرو اپنا دین کس سے حاصل کرتے ہو۲؎(مسلم)

وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: إِنَّ هَذَا الْعِلْمَ دِينٌ فَانْظُرُوا عَمَّنْ تأْخُذُونَ دِينَكُمْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 273 ، باب : علم کا بیان

روایت ہے حضرت حذیفہ سے ۱؎آپ نے فرمایا اے قاریوں کے گروہ سیدھے رہو کیونکہ تم بہت ہی پہلے ہو۲؎اگر تم ہی الٹے سیدھے ہوگئے تو تم بڑی گمراہی میں پڑجاؤ گے۳؎(بخاری)

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: يَا مَعْشَرَ الْقُرَّاءِ اسْتَقِيمُوا فَقَدْ سَبَقْتُمْ سَبْقًا بَعِيدًا، وَإِنْ أَخَذْتُمْ يَمِينًا وَشِمَالًا لَقَدْ ضَلَلْتُمْ ضَلَالًا بَعِيدًا. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 274 ، باب : علم کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ غم کے کنوئیں سےاللہکی پناہ مانگو لوگوں نے عرض کیا یارسولاللہغم کا کنوآں کیا ہے فرمایا دوزخ میں ایک جنگل ہے جس سے خود دوزخ روزانہ چار سو بار پناہ مانگتی ہے ۱؎(۴۰۰)عرض کیا گیا یارسولاللہاس میں کون جائے گا؟ فرمایا اپنے اعمال میں دکھلاوا کرنے والے قاری۲؎اسے ترمذی نے روایت کیا یوں ہی ابن ماجہ نے اس میں یہ زیادہ ہے کہ خدا کو بہت ناپسند وہ قاری ہیں جو امیروں کی ملاقاتیں کرتے ہیں محاربی نے فرمایا یعنی ظالم امیروں کی ۳؎

وَعَنْ أَبِي هُرَيرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ جُبِّ الْحَزَنِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا جُبُّ الْحَزَنِ؟ قَالَ: "وَادٍ فِي جَهَنَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنْهُ جَهَنَّمُ كُلَّ يَوْمٍ أَرْبَعَ مِئَةِ مَرَّةٍ"،قِیْلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَنْ يَدْخُلُهَا؟ قَالَ: "الْقُرَّاءُ الْمُرَاؤُونَ بِأَعْمَالِهِمْ"، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَكَذَا ابْنُ مَاجَهْ وَزَادَ فِيهِ: "وَإِنَّ مِنْ أَبْغَضِ الْقُرَّاءِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى الَّذِينَ يَزُورُونَ الأُمَرَاءَ"، قَالَ الْمُحَارِبِيُّ: يَعْنِي الْجَوْرَةَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 275 ، باب : علم کا بیان

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نےعنقریب لوگوں پر وہ وقت آئے گا جب اسلام کا صرف نام ۱؎اورقرآن کا صرف رواج ہی رہ جائے گا۲؎ان کی مسجدیں آباد ہوں گی مگر ہدایت سے خالی۳؎ان کے علماءآسمان کے نیچے بدترین خلق ہوں گے ان سے فتنہ نکلے گا اور انہیں میں لوٹ جائے گا ۴؎اسے بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۔

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَبْقَى مِنَ الإِسْلَامِ إِلَّا اسْمُهُ، وَلَا يَبْقَى مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا رَسْمُهُ، مَسَاجِدُهُم عَامِرَةٌ وَهِيَ خَرَابٌ مِنَ الْهُدَى، عُلَمَاؤُهُمْ شَرُّ مِنْ تَحْتَ أَدِيم السَّمَاءِ، مِنْ عِنْدِهِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَة وَفِيهِمْ تَعُودُ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 276 ، باب : علم کا بیان

روایت ہے زیاد ابن لبید سے ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کا تذکرہ فرمایا اور فرمایا کہ یہ علم جاتے رہنے کے وقت ہوگا ۲؎میں نے عرض کیا یارسول اللہ علم کیسے جاسکتا ہے؟ ہم قرآن پڑھتے ہیں اور اپنے بچوں کو پڑھاتے رہیں گے اور تاقیامت ہماری اولاد اپنی اولاد کو۳؎تو فرمایا اے زیاد تمہیں تمہاری ماں روئے ہم تو تمہیں مدینہ کے بڑے سمجھ داروں میں سے جانتے تھے ۴؎کیا یہ یہود اور نصاریٰ توریت و انجیل نہیں پڑھتے لیکن ان میں جو ہے اس پر بالکل عمل نہیں کرتے ۵؎روایت کیا احمد ابن ماجہ نے اور ترمذی نے انہیں سے اس طرح روایت کیا۔

وَعَنْ زِيَادِ بْنِ لَبِيدٍ قَالَ: ذَكَرَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا فَقَالَ: "ذَاكَ عِنْدَ أَوَانِ ذَهَابِ الْعِلْمِ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ يَذْهَبُ الْعِلْمُ، وَنَحْنُ نَقْرَأ الْقُرْآنَ وَنُقْرِئُهُ أَبْنَاءَنَا، وَيُقْرِئُهُ أَبْنَاؤُنَا أَبْنَاءَهُم إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؟ فَقَالَ: "ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ زِيَادُ إِنْ كُنْتُ لأُرَاكَ مِنْ أَفْقَهِ رَجُلٍ بِالْمَدِينَةِ، أَوَلَيْسَ هَذِهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى يَقْرَؤُونَ التَّوْرَاةَ وَالإِنْجِيلَ لَا يَعْمَلُونَ بِشَيْءٍ مِمَّا فِيهِمَا". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ، وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ عَنهُ نَحوه.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 277 ، باب : علم کا بیان