- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- علم کی کتاب
- باب : علم کا بیان
باب : علم کا بیان
علم کی کتاب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایارسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ قرآن سات طریقوں پر اترا ۱؎ان میں سے ہر آیت کا ظاہر بھی ہے باطن بھی۲؎اور ہر ظاہر و باطن کی ایک حد ہے جہاں سے اطلاع ہے۳؎(شر ح سنّہ)
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ. لِكُلِّ آيَةٍ مِنْهَا ظَهْرٌ وَبَطْنٌ، وَلِكُلِّ حَدٍّ مُطَّلَعٌ". رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ"
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 238 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے حضرت عبداللہابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ علم تین ہیں ظاہر آیتیں ثابت و مضبوط سنت ان کے برابر فریضہ ۱؎جوان کے سواء ہیں وہ زیادتی ہے۲؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "الْعِلْمُ ثَلَاثَةٌ: آيَةٌ مُحْكَمَةٌ، أَوْ سُنَّةٌ قَائِمَةٌ، أَوْ فَرِيضَةٌ عَادِلَةٌ، وَمَا كَانَ سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ فَضْلٌ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 239 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے حضرت عوف ابن مالک اشجعی سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ قصہ گوئی نہیں کرتے مگر حاکم یا محکوم یا متکبر۲؎اسے ابوداؤدنے روایت کیا۔
وَعَن عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا يَقُصُّ إِلَّا أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَو مُخْتَالٌ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 240 ، باب : علم کا بیان
اور دارمی نے حضرت عمرو ابن شعیب سے انہوں نے اپنے والد اور انہوں نے اپنے دادا سے اور ان کی روایت میںمختالکی بجائے ریا کار ہے۔
وَرَوَاهُ الدَّارِمِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ، وَفِي رِوَايَتَه: "أَوْ مِرَاءٌ" بدل "أَو مُخْتَالٌ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 241 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو بے علم فتویٰ دے اس کا گناہ فتویٰ لینے والے پر ہے ۱؎اور جو اپنے بھائی کو کسی چیز کا مشورہ یہ جانتے ہوئے دے کہ درستی اس کے علاوہ میں ہے اس نے اس کی خیانت کی ۲؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ أُفْتِيَ بِغَيْرِ عِلْمٍ كَانَ إِثْمُهُ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ، وَمَن أَشَارَ عَلَى أَخِيهِ بِأَمْرٍ يَعْلَمُ أَنَّ الرُّشْدَ فِي غَيْرِهِ فَقَدْ خَانَهُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 242 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے حضرت معاویہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معمّوں سے منع فرمایا ۱؎(ابوداؤد)
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنِ الأُغْلُوطَاتِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 243 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ علم میراث اور قرآن سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ کہ میری وفات ہونے والی ہے۔۱؎(ترمذی)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَالْقُرْآنَ وَعَلِّمُوا النَّاسَ فَإِنِّي مَقْبُوضٌ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 244 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ سرکار نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی پھر فرمایا کہ یہ وہ وقت ہے جب علم لوگوں سے اٹھالیا جائے گا حتی کہ کسی چیز پر قادر نہ ہوں گے ۱؎(ترمذی)
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَخَصَ بِبَصَرِهِ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَالَ: "هَذَا أَوَانٌ يُخْتَلَسُ فِيهِ الْعِلْمُ مِنَ النَّاسِ حَتَّى لَا يَقْدِرُوا مِنْهُ عَلَى شَيْءٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 245 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے ۱؎کہ لوگ تلاش علم کرتے ہوئے اونٹوں کی سینہ کوبی کریں گےتو مدینہ کے ایک عالم سے بڑا کوئی عالم نہ پائیں گے۲؎اسے ترمذی نے روایت کیا اور جامع ترمذی میں ہے کہ ابن عیینہ نے فرمایا کہ وہ مالک ابن انس ہیں اور ایسے ہی عبدالرزاق سے روایت ہے۳؎اسحاق ابن موسیٰ نے فرمایا کہ میں نے ابن عیینہ کو سنا وہ فرماتے ہیں کہ وہ عمری زاہد ہیں ان کا نام عبدالعزیز ابن عبداللہہے۴؎۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رِوَايَةً: "يُوشِكُ أَنْ يَضْرِبَ النَّاسُ أَكْبَادَ الإبِلِ يَطْلُبُونَ الْعِلْمَ فَلَا يَجِدُونَ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنْ عَالِم الْمَدِينَةِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَ فِي جَامِعِهِ. قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: إِنَّهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَمِثْلُهُ عَنْ عَبْدِ الرَّزَاق، قَالَ إسْحَاقُ بْنُ مُوسَى: وَسَمِعْتُ ابْنَ عُيَيْنَةَ أَنَّهُ قَالَ: هُوَ الْعُمَرِيُّ الزَّاهِدُ وَاسْمُهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 246 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے انہی سے میری دانست میں وہ رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم سے راوی ۱؎کہ فرمایا یقینًااللہتعالٰی اس امت کے لیے ہرسو برس پر ایک مجدد بھیجتا رہے گا جو ان کا دین تازہ کرے گا۲؎(ابوداؤد)
وَعَنْهُ فِيمَا أَعْلَمُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِئَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِينَهَا". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 247 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے حضرت ابراہیم ابن عبدالرحمان عذری سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اس علم کو ہر پچھلی جماعت میں سے پرہیز گار لوگ اٹھاتے رہیں گے ۲؎جو غلو والوں کی تبدیلیاں اور جھوٹوں کی دروغ بیانیاں اور جاہلوں کی ہیر پھیر اس سے دور کرتے رہیں گے ۳؎اسے بیہقی نے مدخل میں مرسلا ً روایت کیا ۴؎ہم حضرت جابر کی حدیث "فَاِنَّما شِفَاءُ الْعَیِّ"الخان شاء اللّٰه تعالٰی"باب التیمم"میں ذکرکریں گے۔
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعُذْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "يَحْمِلُ هَذَا الْعِلْمَ مِنْ كُلِّ خَلَفٍ عُدُولُهُ، يَنْفُونَ عَنْهُ تَحْرِيفَ الْغَالِينَ، وَانْتِحَالَ الْمُبْطِلِينَ، وَتَأْوِيلَ الْجَاهِلين". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "كِتَابِ الْمَدْخَلِ" مُرْسَلًا وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ جَابِرٍ: "فَإِنَّمَا شِفَاءُ العيِّ السُّؤالُ" فِي "بَاب التَّيَمُّمِ" إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالى.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 248 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے حضرت حسن سے ۱؎مرسلًا فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جسے موت اس حال میں آئے کہ وہ اسلام زندہ کرنے کے لیے علم سیکھ رہا ہو ۲؎تو جنت میں اس کے اور نبیوں کے درمیان ایک درجہ ہوگا ۳؎(دارمی)
عَنِ الْحَسَنِ مُرْسَلًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ جَاءَهُ الْمَوْتُ وَهُوَ يَطْلُبُ الْعِلْمَ لِيُحْيِيَ بِهِ الإِسْلَامَ فَبَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّبِيِّينَ دَرَجَةٌ وَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ". رَوَاهُ الدَّارمِيّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 249 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے انہی سے مرسلًا ۱؎فرماتے ہیں کہ رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم سے ان دو شخصوں کے بارے میں پوچھا گیا جو بنی اسرائیل میں تھے ایک تو عالم تھا۲؎جو صرف فرائض پڑھتا تھا پھر بیٹھ جاتا تھا۔لوگوں کو علم سکھاتا۳؎اور دوسرا دن کو روزہ رکھتا رات بھر عبادت میں کھڑا رہتا ۴؎ان دونوں میں بہتر کون ہے ؟حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ عالم جو صرف فرض نماز پڑھ کر بیٹھ جاتا پھر لوگوں کو علم دین سکھاتا اس کی بزرگی اس عابد پر جو دن کو روزہ اور رات کو قیام کرتا ۵؎ایسی ہے جیسے میری فضیلت تمہارے ادنی پر ۶؎(دارمی)
وَعَنْهُ مُرْسَلًا قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ رَجُلَيْنِ كَانَا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ: أَحَدُهُمَا كَانَ عَالِمًا يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ ثُمَّ يَجْلِسُ فَيُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيرَ، وَالآخِرُ يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ أَيُّهُمَا أَفْضَلُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "فَضْلُ هَذَا الْعَالِمِ الَّذِي يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ ثُمَّ يَجْلِسُ فَيُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ عَلَى الْعَابِدِ الَّذِي يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ كَفَضْلِي عَلَى أَدْنَاكُمْ". رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 250 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے وہ عالم دین بہت اچھا ہے اگر اس کی ضرورت پڑے تو نفع پہنچادے اگر اس سے بے پرواہی ہو تو اپنے کو بے نیازرکھے ۱؎(رزین)
وَعَنْ عَلِيٍّ -رضي اللَّه عنه- قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "نِعْمَ الرَّجُلُ الْفَقِيهُ فِي الدِّينِ إِنِ احْتِيجَ إِلَيْهِ نَفَعَ، وَإِنِ اسْتُغْنِيَ عَنْهُ أَغْنَى نَفْسَهُ". رَوَاهُ رَزِينُ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 251 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے حضرت عکرمہ سے ۱؎کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ لوگوں کو ہفتہ میں ایک دفعہ وعظ سناؤ اگر نہ مانو دو دفعہ اگر بہت ہی کرو تو تین بار اس قرآن سے لوگوں کو اکتا نہ دو۲؎میں تمہیں ایسا ہرگز نہ پاؤں کہ تم کسی قوم پر پہنچو جو اپنی کسی بات میں مشغول ہوں تو وعظ شرع کرکے ان کی بات کاٹ دو کیونکہ تم انہیں اکتا دو گے بلکہ خاموش رہو جب وہ خود عرض کریں تو انہیں حدیث سناؤ کہ وہ شوق رکھتے ہوں۳؎اورخیال رکھنا کہ دعا میں قافیہ دار عبارت سے بچنا میں نے رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کو ایسا نہ کرتے ہوئے پایا۴؎(بخاری)
وَعَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: حَدِّثِ النَّاسَ كُلَّ جُمُعَةٍ مَرَّةً، فَإِنْ أَبَيْتَ فَمَرَّتَيْنِ، فَإِنْ أَكْثَرْتَ فَثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَلَا تُمِلَّ النَّاسَ هَذَا الْقُرْآنَ، وَلَا أُلْفِيَنَّكَ تَأْتِي الْقَوْمَ وَهُمْ فِي حَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِهِمْ فَتَقُصُّ عَلَيْهِمْ فَتَقْطَعُ عَلَيْهِمْ حَدِيثَهُمْ فَتُمِلَّهُمْ، وَلَكِنْ أَنْصِتْ، فَإِذَا أَمَرُوكَ فَحَدِّثْهُمْ وَهُمْ يَشْتَهُونَهُ، وَانْظُرِ السَّجْعَ مِنَ الدُّعَاءِ فَاجْتَنِبْهُ، فَإِنِّي عَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ لَا يَفْعَلُونَ ذَلِك. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 252 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے حضرت واثلہ ابن اسقع سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو علم طلب کرے پھر پا بھی لے تو اسے ثواب کا دوہرا حصہ ہے ۲؎لیکن اگر نہ پاسکے تو اسے ثواب کا اکیہرا حصہ ہے۳؎(دارمی)
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ فَأَدْركَهُ كَانَ لَهُ كِفْلَانِ مِنَ الأَجْرِ، فَإِنْ لَمْ يُدْرِكْهُ كَانَ لَهُ كِفْلٌ مِنَ الأَجْرِ". رَوَاهُ الدِّارِمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 253 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو اعمال و نیکیاں مؤمن کو بعدموت بھی پہنچتی رہتی ہیں ان میں سے وہ علم ہے جسے سیکھا گیا اور پھیلایا گیا ۱؎اور نیک اولاد جو چھوڑ گیا ۲؎یا قرآن شریف جس کا وارث بنا گیا۳؎یا مسجد یا مسافر خانہ جو بنا گیا ۴؎یا نہر جو جاری کرگیا یا خیرات جسے اپنے مال سے اپنی تندرستی و زندگی میں نکال گیا۵؎کہ یہ چیزیں اسے مرے بعد بھی پہنچتی رہتی ہیں ۶؎(ابن ماجہ،بیہقی فی شعب الایمان)
وعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ مِمَّا يَلْحَقُ الْمُؤْمِنَ مِنْ عَمَلِهِ وَحَسَنَاتِهِ بَعْدَ مَوْتهِ عِلْمًا عَلِمَهُ ونَشَرَهُ، وَوَلَدًا صَالِحًا تَرَكَهُ،أو مُصْحَفًا وَرَّثَهُ، أَوْ مَسْجدًا بَنَاهُ، أَوْ بَيْتًا لابْنِ السَّبِيلِ بَنَاهُ، أَوْ نَهْرًا أَجْرَاهُ، أَوْ صَدَقَةً أَخْرَجَهَا مِنْ مَالِهِ فِي صِحَّتِهِ وَحَيٰوتِهِ تَلْحَقُهُ مِنْ بَعْدِ مَوْتِهِ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعُبِ الإيمَانِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 254 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ فرماتی ہیں میں نے رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہاللہعزوجل نے مجھے وحی فرمائی ۱؎کہ جو تلاش علم میں ایک راہ چلا تو میں اس پر جنت کا ایک راہ آسان کردوں گا۲؎اور جس کی دو پیاری چیزیں میں لے لوں تو اس کو جنت دوں گا۳؎اور علم کی زیادتی عبادت کی زیادتی سے بہتر ہے۴؎کارخانہ دین کا نظام پرہیزگاری ہے ۵؎اسے بیہقی نےشعب الایمانمیں روایت کیا۔
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَوْحَى إِلَيَّ أَنَّهُ مَنْ سَلَكَ مَسْلَكًا فِي طَلَبِ الْعِلْمِ سَهَّلْتُ لَهُ طَرِيقَ الْجَنَّةِ، وَمَنْ سَلَبْتُ كَرِيمَتَيْهِ أَثَبْتُهُ عَلَيْهِمَا الْجَنَّةَ،وَفَضْلٌ فِي عِلْمٍ خَيْرٌ مِنْ فَضْلٍ فِي عِبَادَةٍ، وَمِلَاكُ الدِّينِ الْوَرَعُ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 255 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رات میں ایک گھڑی علم کا درس تمام رات بیداری سے افضل ہے ۱؎(دارمی)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: تَدَارُسُ الْعِلْمِ سَاعَةً مِنَ اللَّيْلِ خَيْرٌ من إحْيَائِهَا. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 256 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے عبداللہابن عمرو سے کہ رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم اپنی مسجد میں دو مجلسوں پر گزرے ۱؎تو فرمایا کہ یہ دونوں بھلائی پر ہیں مگر ایک مجلس دوسری سے بہتر ہے۲؎لیکن یہ لوگ اللہ سے دعا کررہے ہیں اس کی طرف راغب ہیں اگر چاہے انہیں دے چاہے نہ دے ۳؎لیکن وہ لوگ فقہ و علم خود سیکھ رہے ہیں ناواقفوں کو سکھا رہے ہیں وہ ہی افضل ہیں ۴؎میں معلم ہی بنا کر بھیجا گیا ہوں پھر آپ انہیں میں تشریف فرماہوئے ۵؎(دارمی)
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِمَجْلِسَيْنِ فِي مَسْجدِهِ فَقَالَ: "كِلَاهُمَا عَلَى خَيْرٍ وَأَحَدُهُمَا أَفْضَلُ مِنْ صَاحِبِهِ، أَمَّا هَؤُلَاءِ فَيَدْعُونَ اللَّهَ وَيَرْغَبُونَ إِليْهِ، فَإِنْ شَاءَ أَعْطَاهُمْ وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُمْ. وَأَمَّا هَؤُلَاءِ فَيَتَعَلَّمُونَ الْفِقهَ أَوِ الْعِلْمَ وَيُعَلِّمُونَ الْجَاهِلَ فَهُمْ أَفْضَلُ، وَإِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا"، ثمَّ جَلَسَ فِيهِمْ. رَوَاهُ الدَّارمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 257 ، باب : علم کا بیان