- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- علم کی کتاب
- باب : علم کا بیان
باب : علم کا بیان
علم کی کتاب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1
روایت ہے حضرت عبداللہابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مجھ سے لوگوں کو پہنچاؤ اگرچہ ایک ہی آیت ہو ۱؎اور بنی اسرائیل سے حکایات لو کوئی حرج نہیں ۲؎جو عمدًا مجھ پر جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانا آگ میں بنالے ۳؎(بخاری)
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «بَلِّغُوْا عَنِّيْ وَلَوْ آيَةً وَحَدِّثُوْا عَنْ بَنِيْ إِسْرَائِيْلَ وَلَا حَرَجَ وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 198 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب اور مغیرہ ابن شعبہ سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے جو میری طرف سے ایسی بات نقل کرے جسےجھوٹ جانتا ہے تو وہ جھوٹوں میں سے ایک ہے۲؎(مسلم)
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ وَالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ حَدَّثَ عَنِّي بِحَدِيثٍ يَرٰى أَنَّهُ كَذِبٌ فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبِيْنَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 199 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے حضرت معاویہ سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نےاللہجس کا بھلا چاہتا ہے اسے دین کا فقیہ بنادیتا ہے۲؎میں بانٹنے والا ہوںاللہدیتا ہے۳؎(بخاری،مسلم)
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ يُرِدِ اللّٰهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللهُ يُعْطِيْ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 200 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے لوگ سونے چاندی کی کانوں کی طرح مختلف کانیں ہیں ۱؎جو کفر میں اعلٰی تھے وہ اسلام میں بھی اعلٰی ہیں جب کہ عالم بن جائیں ۲؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :«النَّاسُ مَعَادِنُ كَمَعَادِنِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوْا».رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 201 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے دو کے سوا کسی میں رشک جائز نہیں ۱؎ایک شخص جسےاللہمال دے تو اسے اچھی جگہ خرچ پر لگادے دوسرا وہ شخص جسےاللہعلم دے تو وہ اس سے فیصلے کرے اور لوگوں کو سکھائے ۲؎( مسلم، بخاری)
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :"لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٍ آتَاهُ اللّٰهُ مَالًا فَسَلَّطَهُ عَلٰی هَلَكَتِهٖ فِي الْحَقِّ وَرَجُلٍ آتَاهُ اللّٰهُ الْحِكْمَةَ فَهُوَ يقْضِي بهَا وَيُعَلِّمُهَا) (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 202 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب آدمی مرجاتا ہے تو اس کے عمل بھی ختم ہوجاتے ہیں ۱؎سواءتین اعمال کے ایک دائمی خیرات یا وہ علم جس سے نفع پہنچتا رہے یا وہ نیک بچہ جو اس کے لیئے دعا خیر کرتا رہے ۲∞؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ -رَضِيَ اللهُ عَنْهُ- قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا مَاتَ الإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أو عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهٖ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُوْا لَهٗ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 203 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے جوکسی مسلمان کو دنیاوی تکلیف سے رہائی دے تواللہاس سے روزقیامت کی مصیبت دورکرے گا ۱؎اور جوکسی تنگی والے پر آسانی کرےاللہدین و دنیا میں اس پر آسانی فرمائے گا۲؎اور مسلمانوں کی پردہ پوشی کرےاللہدین و دنیا میں اس کی پردہ پوشی کرے گا ۳؎اللہبندہ کی مدد پر رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد پر رہے۴؎جو تلاش علم میں کوئی راستہ طے کرے تو اس کی برکت سےاللہاس پر جنت کا راستہ آسان کردے گا۵؎اور کوئی قوماللہکے گھروں میں سےکسی گھر میں قرآن پڑھنے اور آپس میں قرآن سیکھنے سکھانے کے لیے نہیں جمع ہوئی ۶؎مگر ان پر دل کا چین اترتا ہے اور انہیں رحمت ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے گھیر لیتے ہیں ۷؎اوراللہاسے اس جماعت میں یاد کرتا ہے جو اس کے پاس ہے ۸؎جسےعمل پیچھے کردے اسے نسب نہیں بڑھاسکتا۹؎(مسلم)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللّٰهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِن كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللّٰهُ عَلَيهِ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، وَاللّٰهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيْهِ، وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيْهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللّٰهُ لَهٗ بِهٖ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ، وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللهِ يَتْلُوْنَ كِتَابَ اللهِ وَيَتَدَارَسُوْنَهٗ بَيْنَهُمْ إِلَّا نزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِيْنَةُ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ وَذَكَرَهُمُ اللّٰهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ وَمَنْ بَطَّأَ بِهٖ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهٖ نَسَبُهٗ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 204 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ پہلے جس کا فیصلہ قیامت میں ہوگا وہ شہیدہے ۱∞؎اسے لایا جائے گاتب رب اس سے اپنی نعمتوں کا اقرار کرائے گا فرمائے گا کہ اس شکریہ میں کیاعمل کیا ۲؎عرض کرے گا تیری راہ میں جہاد کیا تاآنکہ شہید ہوگیا فرمائے گا تو جھوٹا ہے تو نے تو اس لیے لڑائی کی تھی کہ تجھے بہادر کہا جاوے وہ کہہ لیا گیا۳؎پھرحکم ہوگا تو اسے منہ کہ بل کھینچاجائے گا یہاں تک کہ آگ میں پھینک دیا جائے گا ۴؎اور وہ جس نے علم سیکھا سکھایا اور قرآن پڑھا اسے لایا جائے گا اپنی نعمتوں کا اقرارکرایا جائے گا وہ اقرار کرلے گا فرمائے گا تو نے شکریہ میں عمل کیا کیا عرض کرے گا علم سیکھا سکھایا تیری راہ میں قرآن پڑھا فرمائے گا تو جھوٹا ہے تو نے اس لیے علم سیکھا کہ تجھے عالم کہا جاوے ۵؎اس لیے قرآن پڑھا تھا کہ قاری کہا جاوے وہ کہہ لیا گیا پھر حکم ہوگا اوندھے منہ کھینچا جاوے گا حتی کہ آگ میں پھینک دیا جاوے گا ۶؎اور وہ مرد جسےاللہنے وسعت دی اور ہر طرح کا مال بخشا اسے لایا جائے گا نعمتوں کا اقرارکرائے گا یہ کر لے گا فرمائے گا تو نے شکریہ میں کیا عرض کرے گا میں نے کوئی ایسا راہ نہ چھوڑا جہاں خرچ کرنا تجھے پیارا ہو مگر وہاں تیرے لیے خرچ کیا فرمائے گا تو جھوٹاہے تونے یہ سخاوت اس لیے کی تھی کہ تجھے سخی کہا جاوے وہ کہہ لیا گیا پھرحکم ہوگا تو اسے اوندھے منہ گھسیٹا جائے گا پھر آگ میں جھونک دیا جائے گا ۷؎(مسلم)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ يُقْضَى عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ اُسْتُشْهِدَ فَأُتِيَ بِهٖ فَعَرَّفَهؔٗ نِعَمَهٗ فَعَرَفَہَا فَقَالَ: فمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: قَاتَلْتُ فِيْكَ حَتَّى اسْتُشْهِدْتُ، قَالَ: كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ قَاتَلْتَ لَأَنْ يُقَالَ: جَرِيْءٌ، فَقَدْ قِيْلَ، ثُمَّ أُمِرَ بِهٖ فَسُحِبَ عَلٰى وَجهِهٖ حَتّٰى أُلْقِيَ فِي النَّارِ. وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَهُ وَقَرَأَ الْقُرْآنَ، فَأُتِيَ بِهٖ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا، قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيْهَا؟ قَالَ: تَعَلَّمْتُ الْعِلْمَ وَعَلَّمْتُهٗ وَقَرَأْتُ فِيْكَ الْقُرْآنَ، قَالَ: كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ تَعَلَّمْتَ الْعِلْمَ لِيُقَالَ: إِنَّكَ عَالِمٌ، وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ لِيُقَالَ: هُوَ قَارِئٌ، فَقَدْ قِيْلَ، ثُمَّ أُمِرَ بِهٖ فَسُحِبَ عَلٰى وَجْهِهِ حَتّٰى أُلْقِيَ فِي النَّارِ. وَرَجُلٌ وَسَّعَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَأَعْطَاهُ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ كُلِّهٖ، فَأُتِيَ بِهٖ فَعَرَّفَهٗ نِعَمَهٗ فَعَرَفَهَا، قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: مَا تَرَكْتُ مِنْ سَبِيلٍ تُحِبُّ أَنْ يُنْفَقَ فِيهَا إِلَّا أَنْفَقْتُ فِيهَا لَكَ، قَالَ: كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ فَعَلْتَ لِيُقَالَ: هُوَ جَوَادٌ، فَقَدْ قِيلَ، ثُمَّ أُمِرَ بِهٖ فَسُحِبَ بِهٖ عَلٰى وَجْهِهٖ ثُمَّ أُلْقِيَ فِي النَّارِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 205 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے حضرت عبداللہابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نےاللہعلم کھینچ کر نہ اٹھائے گا کہ بندوں سے کھینچ لے بلکہ علماء کی وفات سےعلم اٹھائے گا ۱∞؎حتی کہ جب کوئی عالم نہ رہے گا لوگ جاہلوں کو پیشوا بنالیں گے جن سے مسائل پوچھے جائیں گے وہ بغیر علم فتویٰ دیں گے گمراہ ہوں گے گمراہ کریں گے ۲؎( مسلم، بخاری)
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ الله لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهٗ مِنَ الْعِبَادِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِحَتّٰى إِذَا لَمْ يَبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُؤُوسًا جُهَّالًا، فَسُئِلُوْا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوْا وَأَضَلُّوْا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 206 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے حضرت شقیق سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ عبداللہابن مسعود ہرجمعرات کو وعظ فرماتے تھے۲؎ایک شخص نے عرض کیا کہ اے ابو عبدالرحمن میری تمنا یہ ہے کہ آپ روزانہ وعظ فرماتے فرمایا مجھے اس سے رکاوٹ یہ ہے کہ میں ناپسند کرتا ہوں کہ تمہیں ملال میں ڈال دوں۳؎میں تمہارا ویسے ہی لحاظ رکھتا ہوں جیسےحضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارا وعظ میں لحاظ رکھتے تھے ملال کے خوف سے۴؎(بخاری،مسلم)
وَعَنْ شَقِيقٍ قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ يُذَكِّرُ النَّاسَ فِي كُلِّ خَمِيسٍ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَوَدِدْتُ أَنَّكَ ذَكَّرْتَنَا فِي كُلِّ يَوْمٍ، قَالَ: أَمَا إِنَّهُ يَمْنَعُنِيْ مِنْ ذٰلِكَ أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُمِلَّكُمْ، وَإنِّي أَتَخَوَّلُكُمْ بِالْمَوْعِظَةِ كَمَا كَانَ رَسُولُ الله -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَخَوَّلُنَا بِهَا مَخَافَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 207 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی لفظ بولتے تو اسے تین بار دہراتے تاکہ سمجھ لیا جائے ۱∞؎اور جب کسی قوم پر تشریف لاتے اور انہیں سلام فرماتے تو تین بار سلام کرتے ۲؎(بخاری)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: "كَانَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍأَعَادَهَا ثَلَاثًا حَتّٰى تُفْهَمَ عَنْهُ، وَإِذَا أَتٰى عَلٰى قَوْمٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ ثَلَاثًا". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 208 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے حضرت ابومسعود انصاری سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا بولا کہ میرا اونٹ تھک رہا ہے مجھےسواری دیجئے فرمایا میرے پاس نہیں ۲؎ایک نے کہا یارسولاللہمیں اسے وہ آدمی بتاتا ہوں جو اسے سواری دے دے تب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو بھلائی پر رہبری کرے اسےکرنے والے کی طرح ثواب ہے۳؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِيْ مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنَّهُ أُبْدِعَ بِي فَاحْمِلْنِي، فَقَالَ: "مَا عِنْدِي فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ الله أَنَا أَدُلُّهٗ عَلٰی مَنْ يَحْمِلُهٗ، فَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ دَلَّ عَلٰى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهٖ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 209 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے حضرت جریر سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ ہم صبح سویرے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھے کہ آپ کی خدمت میں ایک قوم آئی جو ننگی اور کمبل پوش تھی تلواریں گلے میں ڈالے تھے۲؎ان میں عام بلکہ سارے ہی قبیلہ مضر سے تھے ان کا فاقہ دیکھ کر حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ کا رنگ اڑ گیا ۳؎لہذا اندرتشریف لے گئے پھر باہر تشریف لائے حضرت بلال کو حکم دیا انہوں نے اذان و تکبیر کہی پھر نماز پڑھی پھرخطبہ فرمایا ۴؎ارشاد فرمایا اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا فرمایا آخر آیترقیبًاتک ۵؎اور وہ آیت تلاوت فرمائی جو سورۂ حشر میں ہےاللہسے ڈرو ہر شخص غورکرے کہ اس نے کل کے لیے کیا بھیجا ۶؎انسان اپنے دینار درہم اپنے کپڑے گندم وجَو کے صاع میں سے خیرات کرے حتی کہ فرمایا کھجور کی کھانپ ہی سہی ۷؎فرماتے ہیں کہ ایک انصاری تھیلی لائےجس کے وزن سے ان کا ہاتھ تھکا جاتا تھا بلکہ تھک ہی گیا ۸؎پھر لوگوں کا تانتا بندھ گیا حتی کہ میں نے کھانے کپڑے کے ڈھیر دیکھے ۹؎تاآ نکہ میں نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا چہرۂ انور دیکھا کہ چمک رہا ہے گویا سونے کی ڈلی ہے ۱۰؎تب رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اسلام میں اچھا طریقہ ایجاد کرے اسے اپنے عمل اور ان کے عملوں کا ثواب ہے جو اس پر کار بند ہوں ۱۱∞؎ان کا ثواب کم ہوئے بغیر اور جو اسلام میں بُرا طریقہ ایجاد کرے اس پر اپنی بدعملی کا گناہ ہے اور ان کی بدعملیوں کا جو اس کے بعد ان پر کاربند ہوں اس کے بغیر ان کے گناہوں سے کچھ کم ہو۱۲؎(مسلم)
وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ: كُنَّا فِي صَدْرِ النَّهَارِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَهٗ قَوْمٌ عُرَاةٌ مُجْتَابِيْ النِّمَارِأَوِ الْعَبَاءِ مُتَقَلِّدِي السُّيُوْفِ عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ، فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِمَا رَأَى بِهِمْ مِنَ الْفَاقَةِ، فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ، فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ فَصَلَّى،ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ: يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ إِلٰی آخَرِ الآيَةِ إِنَّ اللهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا وَالآيَةُ الَّتِي فِي الْحَشْرِ اتَّقُوْا اللهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ، تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ دِينَارِهٖ، مِنْ دِرْهَمِهٖ، مِنْ ثَوْبِهٖ، مِنْ صَاعِ بُرِّهٖ، مِنْ صَاعِ تَمْرِهٖ، حَتّٰى قَالَ: وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ بِصُرَّةٍ كَادَتْ كَفُّهُ یَعْجِزُ عَنْهَا بَلْ قَدْ عَجِزَتْ، ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ حَتّٰى رَأَيْتُ كَوْمَينِ مِنْ طَعَامٍ وَثِيَابٍ،حَتَّى رَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَهَلَّلُ كَأَنَّهُ مُذْهَبَةٌ،فَقَالَ رَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَن سَنَّ فِي الإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهٖ مِنْ غَيرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ فِي الإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمَلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهٖ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 210 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ کوئی ظلمًا قتل نہیں کیا جاتا مگر اس کے خون ناحق میں حضرت آدم کے پہلے فرزند کا حصہ ضرور ہوتا ہے کہ اسی نے پہلے ظلمًا قتل ایجاد کیا ۱∞؎(بخاری،مسلم)
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا إلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْ دَمِهَالِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ" مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ مُعَاوِيَةَ: "لَا يَزَالُ مِنْ أُمَّتِي" فِي "بَابِ ثَوَابِ هَذهِ الأُمَّةِ" إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 211 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے کثیر ابن قیس سے فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابو درداء کے ساتھ دمشق کی مسجد میں بیٹھا تھا ۱∞؎آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور بولا کہ اے ابودردا ءمیں رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ سے آپ کے پاس صرف ایک حدیث کے لیئے آیا ہوں مجھے خبر لگی ہے کہ آپ حضور سے وہ روایت فرماتے ہیں ۲؎اس کے سواءاور کسی کام کے لیئے نہ آیا ۳؎آپ نے فرمایا کہ میں نے رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو تلاش علم کرتے ہوئے کوئی راہ طے کرے تواللہاسے بہشت کے راہوں سے کوئی راہ چلائے گا۴؎اور بے شک فرشتے طالب علم کی رضا کے لیئے پر بچھاتے ہیں ۵؎یقینًا عالم کے لیئے آسمانوں اور زمین کی چیزیں اور پانی میں مچھلیاں دعائے مغفرت کرتی ہیں ۶؎اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے چودھویں شب میں چاند کی فضیلت سارے تاروں پر ۷؎اور علماء نبیوں کے وارث ہیں ۸؎پیغمبروں نے کسی کو دینارو درہم کا وارث نہ بنایا انہوں نے صرف علم کا وارث بنایا تو جس نے علم اختیار کیا اس نے پورا حصہ لیا ۹؎اسے احمد،ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ اور دارمی نے روایت کیا ترمذی نے ان کا نام قیس ابن کثیر بتایا۔
عَنْ كَثِيرِ ابْنِ قَيْسٍ قَالَ: كنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي الدَّرْدَاءِ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ! إِنِّي جِئْتُكَ مِنْ مَدِينَةِ الرَّسُولِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَدِيثٍ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَا جِئْتُ لِحَاجَةٍ، قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ "مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَطْلُبُ فِيهِ عِلْمًا سَلَكَ اللّٰهُ بِهٖ طَرِيقًا مِنْ طُرُقِ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ، وَإِنَّ الْعَالِمَ يَسْتَغْفِرُ لَهٗ مَنْ فِي السَّمَوَات وَمَنْ فِي الأَرْضِ، وَالْحِيْتَانُ فِي جَوْفِ الْمَاءِ، وَإنَّ فَضْلَ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِكَفَضْلِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ، وَإِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرثَةُ الأَنْبِيَاءِ، وَإِنَّ الأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا، وَإِنَّمَا وَرَّثُوا الْعِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَهٗ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ" رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو داوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ، وَسَمَّاهُ التِّرْمِذِيُّ قَيْسَ بْنَ كَثِيرٍ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 212 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے ابو امامہ باہلی سے فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوشخصوں کا ذکر ہوا جن میں سے ایک عابد دوسرا عالم ہے۔۱∞؎تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عالم کی عابد پر فضیلت ایسی ہے جیسے میری فضیلت تمہارے ادنی پر ۲؎پھر فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہاللہاور اس کے فرشتے اور آسمان و زمین والے حتی کے چیونٹیاں اپنے سوارخوں میں اور مچھلیاں(پانی میں)صلوٰۃ بھیجتے ہیں لوگوں کو علم دینی سکھانے والے پر۳؎اسے ترمذی نے روایت کیا۔
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيّ قَالَ: ذُكِرَ لِرَسُولِ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلَانِ: أَحَدُهُمَا عَابِدٌ وَالآخَرُ عَالِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِي عَلٰی أَدْنَاكُمْ" ثُمَّ قَالَ رَسُولُ الله -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ وَأَهْلَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ حَتَّى الْنَّمْلَةَ فِي جُحْرِهَا، وَحَتَّى الْحُوتَ لَيُصَلُّونَ عَلٰی مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَيْرَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 213 ، باب : علم کا بیان
اور دارمی نے حضرتِ مکحول سےمرسلًانقل کیا اور دو شخصوں کا ذکر نہ کیا اور فرمایا کہ عالم کی عابد پر فضیلت ایسی ہے جیسے میری فضیلت تمہارے ادنی شخص پر پھر آیت تلاوت فرمائی کہاللہسے صرف علماءہی ڈرتے ہیں اورحدیث آخر کی بیان کی۔
وَرَوَاهُ الدَّارِمِيُّ عَنْ مَكْحُولٍ مُرْسَلًا وَلَمْ يَذْكُرْ: رَجُلَانِ، وَقَالَ: "فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِي عَلَى أَدْنَاكُمْ"، ثُمَّ تَلَا هٰذِهِ الآيَةَ: إِنَّمَا يَخْشَى اللهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ وَسَرَدَ الحَدِيْثَ إِلٰى آخِرِهٖ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 214 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ لوگ تمہارے تابع ہیں ۱∞؎اور بہت لوگ اطراف زمین سے تمہارے پاس دینی فقہ سیکھنے آئیں گے جب وہ آئیں تو انہیں بھلائی کی وصیت کرو۲؎(ترمذی)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ النَّاسَ لَكُمْ تَبَعٌ، وَإِنَّ رِجَالًا يَأْتُوْنَكُمْ مِنْ أَقْطَارِ الأَرْضِ يَتَفَقَّهُوْنَ فِي الدِّينِ، فَإِذَا أَتَوْكُمْ فَاسْتَوْصُوْا بِهِمْ خَيْرًا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 215 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ علمی بات عالم کی اپنی گم شدہ چیز ہے جہاں پائے وہ ہی اس کا حقدار ہے ۱∞؎اسے ترمذی وابن ماجہ نے روایت کیا اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور ابراہیم ابن فضل راوی حدیث میں ضعیف ماناجاتا ہے۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "الْكَلِمَةُ الْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْحَكِيمِ، فَحَيْثُ وَجَدَهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ،وَإِبْراهِيمُ بْنُ الْفَضْلِ الرَّاوِي يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 216 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہے ۱؎(ترمذی اورابن ماجہ)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 217 ، باب : علم کا بیان