- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- علم کی کتاب
- باب : علم کا بیان
باب : علم کا بیان
علم کی کتاب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے علم کی تلاش ہر مسلمان پر فرض ہے ۱؎اور نااہل پر علم پیش کرنے والا ایسا ہے جیسے سُوروں کو موتی جواہرات اور سونے کے ہار پہنانے والا ۲؎اسے ابن ماجہ نے روایت کیا اور بیہقی نےشعب الایمانمیںمسلمتک نقل فرمایا اور فرمایا کہ اس حدیث کا متن تو مشہور ہے اس کی اسناد میں ضعف ہے اور بہت طریقہ سے روایت کیا گیا جو سب ضعیف ہیں ۳؎
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، وَوَاضِعُ الْعِلْمِ عِنْدَ غَيْرِ أَهْلِهٖ كَمُقَلِّدِ الْخَنَازِيرِ الْجَوْهَرَ واللُّؤلُؤَ وَالذَّهَبَ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ، وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ" إِلَى قَوْلِهٖ: "مُسْلِمٍ". وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ مَتْنُهُ مَشْهُورٌ،وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ أَوْجُهٍ كُلُّهَا ضَعِيفٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 218 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے دوخصلتیں منافق میں جمع نہیں ہوتیں اچھے اخلاق اور نہ دینی فقہ ۱؎(ترمذی)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "خَصْلَتَانِ لَا یَجْتَمِعَانِ فِي مُنَافِقٍ حُسْنُ سَمْتٍ وَلَا فِقْهٌ فِي الدِّينِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 219 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو تلاش علم میں نکلا وہ واپسی تکاللہکی راہ میں ہے ۱؎
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ خَرَجَ فِي طَلَبِ الْعِلْم فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتّٰی يَرْجِعَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ والدَّارِمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 220 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے حضرت سخبرہ ازدی سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے جس نے تلاش علم کی تو یہ تلاش اس کےگزشتہ گناہوں کا کفارہ ہوگی ۲؎اسے ترمذی ودارمی نے روایت کیا اورترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث ضعیف الاسناد ہے ابوداؤد راوی کو ضعیف کہا گیا۳؎
وَعَن سَخْبَرَةَ الأَزْدِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ كَانَ كَفَّارَةً لِمَا مَضٰى". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ ضَعِيفُ الإسْنَادِ، وَأَبُو دَاوُدَ الرَّاوِي يُضَعَّفُ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 221 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے حضرت ابوسعید خدر ی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے مؤمن خیر کے سننے سے کبھی سیر نہ ہوگا تاآنکہ اس کی انتہا جنت ہوجائے ۱؎(ترمذی)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَنْ يَشْبَعَ الْمُؤْمِنُ مِنْ خَيْرٍ يَسْمَعُهٗ حَتّٰی يَكُونَ مُنْتَهَاهُ الْجنَّة رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 222 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس سے علمی بات پوچھی گئی جسے وہ جانتا ہے پھر اسے چھپائے تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام دی جائے گی ۱؎(احمد،ابوداؤد،ترمذی)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "من سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ عَلِمَهٗ ثُمَّ كَتَمَهٗ أُلْجِمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 223 ، باب : علم کا بیان
ابن ماجہ عن انس
وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْ أَنَسٍ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 224 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے حضرت کعب ابن مالک سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو اس لیئے علم طلب کرے تاکہ علماء کا مقابلہ کرے یا جہلاء سے جھگڑے یا لوگوں کی توجہ اپنی طرف کرے تو اسےاللہآگ میں داخل کرے گا۲؎(ترمذی)
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِيُجَارِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ أَوْ لِيُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ أَوْ يصرف بِهِ وُجُوه النَّاس إِلَيْهِ أَدخل الله النَّار» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 225 ، باب : علم کا بیان
ابن ماجہ عن ابن عمر
وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنِ ابْنِ عُمَرَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 226 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے جو کوئی وہ علم سیکھے جس سےاللہکی رضا ڈھونڈی جاتی ہے صرف اس لیے کہ اس سے دنیاوی سامان حاصل کرے ۱؎وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو نہ پائے گا۲؎(احمد،ابوداؤد،ابن ماجہ)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا يُبْتَغَى بِهِ وَجْهُ اللَّهِ لَا يَتَعَلَّمُهُ إِلَّا لِيُصِيبَ بِهِ عَرَضًا مِنَ الدُّنْيَا لَمْ يَجِدْ عَرْفَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" يَعْنِي رِيحَهَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 227 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہاللهاس بندے کو ہرا بھرا رکھے جو میرا کلام سنے اسے یاد رکھے خیال رکھے اور پہنچادے ۱؎کیونکہ بہت سے فقہ اٹھانے والے خود غیر فقیہ ہیں اور بہت لوگ اپنے سے بڑے فقیہ تک فقہ اٹھاتے ہیں ۲؎مسلمانوں کا دل تین چیزوں پر خیانت نہیں کرتا ۳؎اللہکے لیے عمل خالص کرنا۴؎مسلمانوں کی خیرخواہی اور ان کی جماعت کو لازم پکڑنا ۵؎کیونکہ ان کی دعا ماسوا کو شامل ہے ۶؎اسے شافعی اور بیہقی نےمدخلمیں روایت کیا
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "نَضَّرَ اللَّهُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَالَتِي فَحَفِظَهَا وَوَعَاهَا وَأَدَّاهَا، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ غَيْرِ فَقِيهٍ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ. ثَلَاثٌ لَا يَغِلُّ عَلَيهِنَّ قَلْبُ مُسْلِمٍ: إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ، وَالنَّصِيحَةُ لِلْمُسْلِمِينَ، وَلُزُومُ جَمَاعَتِهِمْ، فَإِنَّ دَعْوتَهُمْ تُحِيطُ مَنْ وَرَاءَهُمْ". رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي "الْمدْخَلِ"
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 228 ، باب : علم کا بیان
احمد،ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ اور دارمی نے زید ابن ثابت سے روایت کیا مگر ترمذی اور ابوداؤد نے "ثَلٰثُ لَا یَغُلُّ"الخ کا ذکر نہ کیا۔
وَرَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، إِلَّا أَنَّ التِّرْمِذِيَّ وَأَبا دَاوُدَ لَمْ يَذْكرَا: "ثَلَاثٌ لَا يَغِلُّ عَلَيْهِنَّ" إِلَى آخِرِهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 229 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہاللہاسے ہرا بھرا رکھے جو ہم سے کچھ سنے ۱؎پھر جیسا سنے ویسا ہی پہنچادے۲؎کیونکہ بہت سے پہنچائے ہوئے سننے والے سے زیادہ سمجھدار ہوتے ہیں اسے ترمذی ابن ماجہ نے روایت کیا ہے
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا شَيْئًا فَبَلَّغَهُ كَمَا سَمِعَهُ، فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعَى لَهُ مِنْ سَامِعٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 230 ، باب : علم کا بیان
اور دارمی نے ابودرداء سے۔
وَرَوَاهُ الدَّارمِيُّ عَنْ أَبِى الدَّرْدَاءِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 231 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے میری حدیث روایت کرنے سے بچو سوا ان کے جن کو تم جانتے ہو ۱؎کیونکہ جوعمدًا مجھ پرجھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانہ آگ کا بنالے۲؎اسے ترمذی نے روایت کیا۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "اتَّقُوا الْحَدِيثَ عَنِّي إِلَّا مَا عَلِمْتُمْ، فَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 232 ، باب : علم کا بیان
اور ابن ماجہ نے حضرت ابن مسعود اور جابر سے نقل فرمایا اور "اتقوا الحدیث"الخ کا ذکر نہ کیا۔
وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَجَابِرٍ وَلَمْ يَذْكُرِ: "اتَّقُوا الْحَدِيثَ عَنِّي. إِلَّا مَا عَلِمْتُمْ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 233 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو قرآن میں اپنی رائے سے کچھ کہے وہ اپنا ٹھکانہ آگ سے بنائے ۱؎اور ایک روایت میں ہے کہ جو قرآن میں بغیر علم کچھ کہے وہ اپنا ٹھکانہ آگ سے بنائے ۲؎(ترمذی)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِرَأْيِهِ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ". وَفِي رِوَايَةٍ: "مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَليَتَبَوَّأ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ" رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 234 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے حضرت جندب سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو قرآن میں اپنی رائے سے کہے پھرٹھیک بھی کہہ دے تب بھی خطا کر گیا۲؎(ترمذی وابوداؤد)
وَعَنْ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِرَأْيِهِ فَأَصَابَ فقد أَخْطَأَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 235 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ قرآن میں جھگڑنا کفر ہے ۱؎(احمدوابوداؤد)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "الْمِرَاءُ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 236 ، باب : علم کا بیان
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جماعت کو قرآن میں جھگڑا کرتے سنا۲؎تو فرمایا کہ اس حرکت سے تم سے پہلے لوگ ہلاک ہوگئے کہ انہوں نے بعض کتاب کو بعض سے ٹکرایا ۳؎کتاباللہتو اس لیے اتری کہ بعض بعض کی تصدیق کرے لہذا تم بعض کو بعض سے جھٹلاؤ نہیں ۴؎جس قدر کتاب جانو کہو جو نہ جانو اسے عالم کے سپردکرو ۵؎(احمد،ابن ماجہ)
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَوْمًا يَتَدَارَؤُونَ فِي الْقُرْآنِ فَقَالَ: "إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِهَذَا: ضَرَبُوا كِتَابَ اللَّهِ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ، وَإِنَّمَا نَزَلَ كِتَابُ اللَّهِ يُصَدِّقُ بَعْضُهُ بَعْضًا،فَلَا تُكَذِّبُوا بَعْضَهُ بِبَعْضٍ، فَمَا عَلِمْتُمْ مِنْهُ فَقُولُوا، وَمَا جَهِلْتُمْ فَكِلُوهُ إِلَى عَالِمِهِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 237 ، باب : علم کا بیان