Book Name:Dars e Taraveeh - 02 Ramazan - Para 02
(2):عدل و اِنْصاف
دوسری اَہَم بنیاد جو ہمیں سکھائی گئی، وہ ہے: عَدْل و اِنْصاف۔ اس تعلق سے ایک تو یہاں قصاص کا مسئلہ بیان ہوا ۔ دوسرے نمبر پر طلاق کے اَحْکام و مسائِل جو ذِکْر ہوئے، یہ بھی عَدْل و اِنْصاف کا تقاضا کرتے ہیں۔
طلاق ہمارے معاشرے کا سلگتا ہوا موضوع ہے، اگر خدانخواستہ میاں بیوی کے درمیان جُدائی کا معاملہ ہو جائے تو * جو غیبتیں ہوتی ہیں *الزامات لگائے جاتے ہیں *ایک دوسرے کی عزّتیں اُچھالی جاتی ہیں۔ اَلْاَمَان وَالْحَفِیْظ...!! قرآنِ کریم نے طلاق کے موقع کے متعلق ہمیں جو نصیحتیں فرمائیں، دیکھئے کتنی خوبصُورت ہیں، فرمایا:
فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍؕ- (پارہ: 2، البقرہ: 229)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یااچھے طریقے سے چھوڑ دینا ہے۔
یہاں دیکھئے! طلاق دینے اور نہ دینے دونوں صورتوں میں بھلائی کا حکم دیا گیا، یعنی اگر تو طلاق دینی ہے، اس میں بھی بھلائی کی صُورت اختیار کرنی ہے۔ اگر زوجہ کو اپنے ساتھ رکھنا ہے، اس میں بھی بھلائی ہی کی راہ اختیار کرنی ہے۔ ظُلْم ، زیادتی، نااِنْصافی کسی طرح نہیں ہونی چاہئے۔
اسی طرح طلاق کے اور احکام بھی جو اس جگہ ذِکْر ہوئے، ان میں بھی بھلائی کی راہ اختیار کئے رکھنے کا حکم ہے۔
(3):ضبطِ نفس
تیسری بنیاد ضبطِ نفس ہے۔ اس ضمن میں روزے کے اَحْکام و مسائِل تفصیل کے