Dars e Taraveeh - 02 Ramazan - Para 02

Book Name:Dars e Taraveeh - 02 Ramazan - Para 02

ساتھ ذِکْر ہوئے، روزے کی اَصْل ضَبْطِ نفس ہے۔ یعنی اپنے آپ پر کنٹرول کرنا۔ ہم روزہ رکھتے ہیں، صبح سے شام تک اپنی بھوک، پیاس کو کنٹرول میں رکھتے ہیں۔ یہ ایک مشق ہے، جس سے سبق ملتا ہے کہ اُمّتِ وَسَط نے زندگی  کے ہر میدان میں اسی طرح خُود پر کنٹرول رکھنا ہے۔ غصے میں بِپھرنا، آپے سے باہَر ہونا، ذرا  سی بات پر آستینیں چڑھانا، ناک بھنویں چڑھا کر لڑائی جھگڑوں پر آمادہ ہو جانا اُمّتِ وَسَط کے ہر گز لائق نہیں ہے۔

(4):اجتماعیت کا شعور

چوتھی بنیاد ہے: اجتماعیت کا شعور۔ اس ضمن میں حج کے مسائِل تفصیل سے بیان ہوئے، اس سے ہمیں مِل جُل کر رہنےکا ایک عالمی معاشرتی اُصُول سکھایا گیا کہ حج کے موقع پر عجمی، عربی، حبشی، سوڈانی، بنگالی، پاکستانی سب کے سب ایک ہی لباس میں، ایک ہی حُلیے میں اللہ پاک کے حُضُور حاضِر رہتے ہیں، اجتماعیت، مساوات اور یک رنگی کا مکمل عملی نظارہ ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں نا؛

ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و اَیَاز

نہ      کوئی      بندہ      رہا ،       نہ      کوئی      بندہ     نواز([1])

یہ جو یک رنگی ہے، مساوات ہے، اجتماعیت ہے، یہی چیزیں اُمّتِ وَسَط کی عملی زندگی میں ہونی چاہئیں۔

(5):طاقت کا منظم استعمال

پانچویں اور اَہَم ترین بنیاد ہے: طاقت کا منظم استعمال۔ یہ بڑی اہم بات ہے، طاقت کا


 

 



[1]...کلیات اقبال، بانگ درا، حصہ سوم، صفحہ: 193۔