Dars e Taraveeh - 02 Ramazan - Para 02

Book Name:Dars e Taraveeh - 02 Ramazan - Para 02

لوگ قبروں پر چاوَل، دال اور چینی وغیرہ ڈال کر آتے ہیں، یہ بھی اِسْراف ہی کی صُورت ہے۔ *اسی طرح ہمارے گھروں میں خواتین 10 بیبیوں کی کہانی پڑھتی ہیں اور بڑے اہتمام کے ساتھ پڑھتی ہیں، حالانکہ 10 بیبیوں کی کہانی کوئی چیز نہیں ہے، محض جھوٹ ہے۔ اس میں کوئی ثواب نہیں ہے ۔ ([1])

اور بھی اس طرح کے کئی کام ہیں جو معاشرے میں رائج ہیں، مشکل یہ ہے کہ اگر ایسے مسائِل بتائے جائیں تو لوگ کہتے ہیں: مولویوں نے نیا دِین نکال لیا ہے۔ اب ان بیچاروں کو کون بتائے کہ بھائی...!! دِین وہی ہے جو قرآن میں ہے، جو بخاری و مسلم وغیرہ احادِیث کی کتابوں میں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے کبھی قرآنِ کریم ترجمہ تفسیر کے ساتھ پڑھا نہیں، احادیثِ کریمہ پڑھی نہیں۔ اس لئے لگتا ہے کہ نیا دِین ہے حالانکہ یہ نیا نہیں، وہی پُرانا دِین ہے جو 1500 سال پہلے تھا۔

غرض؛ یہ اُمّتِ وَسَط ہونے کے ناطے ہماری ذِمَّہ داری ہے کہ ہم کچھ بھی کریں، ہمارے سب اعمال کی پختہ بنیاد ہونی چاہئے۔ محض رَسْم و رواج پر چلنا، اندھی تقلید کر لینا، خوامخواہ دوسری قوموں کی نقّالی شروع کر دینا اُمَّتِ مسلمہ کے اسٹیٹس (Status) کے خِلاف ہے۔ ڈاکٹر اقبال نے کہا تھا:

اپنی مِلّت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر

خاص    ہے      ترکیب      میں      قومِ      رسولِ     ہاشمی([2])


 

 



[1]...فتاوی اہلسنت غیر مطبوعہ، فتوی نمبر: Wat-1270۔

[2]...کلیات اقبال، بانگ درا، حصہ سوم، صفحہ: 277۔