Book Name:Dars e Taraveeh - 02 Ramazan - Para 02
اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَیْــٴًـا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ(۱۷۰) (پارہ: 2، البقرہ: 170)
تو کہتے ہیں : بلکہ ہم تواس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایاہے۔ کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ عقل رکھتے ہوں نہ وہ ہدایت یافتہ ہوں؟
یہاں ہمیں یہ سبق دیا گیا کہ اُمّتِ وَسَط کی فِکْر میں اندھی تقلید نہیں ہونی چاہئے، یعنی ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ چونکہ ہمارے باپ دادا یہ کام کرتے تھے، لہٰذا ہم بھی کرتے ہیں بلکہ ہم کوئی بھی کام کریں، ہمارے پاس اس کی پختہ بنیاد ہونی چاہئے۔ ہم سے پہلے جو اس دُنیا میں آئے اور گزر گئے، ان میں سے وہ جو خُود ہدایت پر تھے، اللہ و رسول کے فرمانبردار تھے، اَہْلِ تقویٰ تھے، نیک پرہیز گار تھے۔ اُن کی پیروی ہمیں کرنی چاہئے اور جو محض زمانے کے رَسْم و رواج کے پیچھے چلنے والے ہوں، ان کی پیروی ہم نہیں کریں گے۔
غرض؛ ہمارے ہر عَمَل کی بنیاد پختہ ہونی چاہئے۔ اندھی تقلید نہ ہو۔
افسوس کہ یہ بُرائی آج ہمارے اندر پھیلتی چلی جا رہی ہے * ہمارے پہناوے سے لے کر * لائف اِسٹائل تک * طور طریقوں سے لے کر * سوچ، فِکْر اور خیال تک ہم اندھی پیروی کرنے لگے ہیں۔ * فُلاں فلم سٹارکا ہئیر سٹائل چونکہ ایسا ہے، لہٰذا ہم بھی ایسا بنائیں گے * فُلاں کھلاڑی چونکہ ایسے کپڑے پہنتا ہے، لہٰذا ہم نے بھی ایسے پہننے ہیں *غیر مسلم ممالک میں چونکہ فُلاں ٹرینڈ چل رہا ہے، لہٰذا ہم بھی یہی کریں گے۔ ہم جس کی پیروی کر رہے ہیں، اس کا یہ عمل قرآن و سُنّت کے لحاظ سے دُرست ہے یا غلط؟ اَخْلاقی معیار پر پُورا اُترتا ہے یا نہیں؟ اس تعلق سے سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی جاتی، بَس دوسروں کو دیکھا دیکھی چل پڑتے ہیں۔ یہ ایک بڑا فِکْری بُحْران ہے جو ہمارے معاشرے میں آتا جا رہا