Book Name:Dars e Taraveeh - 02 Ramazan - Para 02
پاک نے عدل پسند، افضل اور بہترین اُمّت بنایا ہے۔
آپ سمجھ سکتے ہیں کہ منصب اپنے ساتھ ذِمَّہ داریاں لاتا ہے۔ اُمّتِ مسلمہ کو جو یہ اَہَم ترین منصب عطا کیا گیا، اس منصب کی ذِمَّہ داریاں کیا ہیں؟ ہم نے اپنے اس منصب کو نبھانا کیسے ہے؟ اُمّتِ وَسَط ہونے کے ناطے ہماری فکری، عملی، اخلاقی بنیادیں کیا ہوں گی؟ دوسرے سپارے میں بلکہ سُورۂ بقرہ کے آخر تک انہیں بنیادوں کا تفصیلی بیان ہے:
(3):اُمّتِ مسلمہ کو نصیحتیں
اس ضمن میں اَوَّلا؛ آیت: 152 تا 168 تک ہمیں چند اَہم نصیحتیں فرمائی گئی ہیں: (1):اللہ پاک کا ذِکْر کرو! (2):اس کا شکر بجا لاؤ! (3):نماز اور صبر سے مدد چاہو ؛ اِسی ضمن میں فرمایا کہ تم پر مختلف قسم کی آزمائشیں آئیں گی، ان پر ہمیشہ ثابت قدم رہو...!! (4):اللہ پاک کی کامِل اطاعت اپناؤ! یعنی تمہیں بظاہِر حکمت سمجھ آئے یا نہ آئے، جبکہ اللہ پاک نے حکم دے دیا ہے، بس اس پر عَمَل کرنا شروع کر دو! (5):عِلْم اور ہدایت جو اللہ پاک نے اُتاری ہے، اُسے مت چھپاؤ! بلکہ لوگوں تک پہنچاتے رہو! (6):توحید پر ہمیشہ ثابت قدم رہو۔ اِسی ضمن میں ارشاد ہوا: مسلمان اللہ پاک سے شدید تَرِین محبّت رکھنے والا ہوتا ہے۔ اتنی محبّت کہ کوئی کسی سے ہرگز نہیں کر سکتا۔
گویا یہ ہمیں سبق دیا گیا ہے کہ ہر چیز سے بڑھ کر اللہ پاک سے محبّت کرو! بلکہ سب دُنیاوی، فانی، عارضی محبتیں چھوڑ کر اللہ و رسول کو اپنا محبوب بنا لو...!! اور اپنے عمل سے اس شدید ترین محبّت کا ثبوت پیش کرو...!! تاکہ افضل ترین اُمّت ہونے کا حق ادا کر پاؤ...!!