Book Name:Dars e Taraveeh - 02 Ramazan - Para 02
دوسرے پارے کے آخر میں حضرت طالُوت رحمۃُ اللہ علیہ کا واقعہ ذِکْر ہوا۔ بنی اسرائیل میں یہ دستور تھا کہ بادشاہ کا انتخاب اس وقت کے نبی علیہ السَّلام وحی کے ذریعے کیا کرتے تھے، چنانچہ حضرت طَالُوت جو بظاہِر غریب انسان تھے، اس وقت کے نبی علیہ السَّلام نے وحی کے ذریعے ان کو بادشاہ مقرر کیا۔
اَوَّلاً بنی اسرائیل نے اس پر اعتراض کیا کہ ایک غریب شخص کو بادشاہ کیسے بنایا جا سکتا ہے؟ اس کے جواب میں فرمایا گیا: حضرت طالُوت صاحِبِ عِلْم بھی ہیں اور جسمانی طاقت بھی رکھتے ہیں، لہٰذا آپ بادشاہ بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔([1]) اس پر کچھ نشانیاں بھی دکھائی گئیں۔جب بنی اسرائیل نے آپ کو بادشاہ تسلیم کر لیا تو آپ نے لشکر تیار کیا اور اس وقت کے غیر مسلم اور سرکش بادشاہ جالُوت کے خِلاف لڑائی کے لئے روانہ ہوئے۔ ہزاروں کا لشکر تھا۔
قُدْرت کو اس لشکر کی آزمائش مقصود ہوئی، چنانچہ ان پر سخت پیاس مسلّط کی گئی، جب یہ لوگ نہر پر پہنچے تو حکم ہوا: کوئی اس نہر سے پانی نہ پیئے، جو پانی پیئے گا، اسے لشکر سے باہَر کر دیا جائے گا۔ جب یہ لوگ نہر پر پہنچے تو ان میں سے اَکْثر صبر نہ کر سکے، صِرْف 313 افراد نے صبر کیا۔ چنانچہ حضرت طالُوت رحمۃُ اللہ علیہ انہی 313 کو لے کر میدانِ جنگ میں پہنچے، اب یہ لوگ آپس میں کہہ رہے تھے کہ ہم اتنی کم تعداد کے ساتھ دُشمن پر غالِب کیسے آئیں گے؟
جو پکّے ایمان والے تھے، وہ بولے: ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ پاک بہت مرتبہ کم تعداد کے لشکر کو زیادہ تعداد والوں پر غالِب فرما دیتا ہے۔ ([2])چنانچہ ان کے کہنے