Dars e Taraveeh - 02 Ramazan - Para 02

Book Name:Dars e Taraveeh - 02 Ramazan - Para 02

فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا۪-فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِؕ-وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗؕ- (پارہ: 2، البقرہ: 144)

آسمان کی طرف باربار اٹھنا دیکھ رہے ہیں تو ضرور ہم تمہیں اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس میں تمہاری خوشی ہے تو ابھی اپناچہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر دو اور اے مسلمانو! تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرلو۔

سُبْحٰنَ اللہ! یہ کیسی ایمان افروز بات ہے، پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم عین حالتِ نماز میں تمنّا فرماتے ہیں، رَبِّ کریم کو آپ کی تمنّا مبارَک پُوری فرمانے میں ذرا سی تاخیر بھی منظور نہ ہوئی، عین حالتِ نماز ہی میں خواہشِ مصطفےٰ کو پُورا فرما دیا۔([1])      اعلیٰ حضرت لکھتے ہیں نا؛

خُدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم                      خُدا    چاہتا    ہے    رضائے   محمد([2])

(2):اُمّتِ وَسَط کا اہم لقب

دوسرے سپارے کی ابتدا ہی میں ہمیں یعنی اُمّتِ مسلمہ کو ایک اہم لقب دیا گیا، ارشاد ہوا:

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا (پارہ: 2، البقرہ: 143)

تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: اور اسی طرح ہم نے تمہیں بہترین امت بنایا۔

وَسَط کا معنیٰ ہے: معتدل، عَدَل پسند، ([3])  افضل اور بہتر۔([4])   یعنی اِس اُمّت کو اللہ


 

 



[1]...سبل الہدیٰ، جماع ابواب بعض حوادث...الخ، الباب السادس فی قصہ تحویل القبلہ، جلد:3، صفحہ:370۔

[2]...حدائقِ بخشش، صفحہ:65۔

[3]...مفردات الفاظ القرآن، کتاب الواو، صفحہ: 556۔

[4]...تفسیر صراط الجنان، پارہ: 2، البقرہ، تحت الآیۃ: 143، جلد: 1، صفحہ: 224۔