Book Name:Dars e Taraveeh - 02 Ramazan - Para 02
اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیّٖن
اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللہ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللہ وَعَلٰی آلِکَ وَاَصْحٰبِکَ یَاحَبِیْبَ اللہ
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَانَبِیَّ اللہ وَعَلٰی آلِکَ وَاَصْحٰبِکَ یَانُوْرَ اللہ
نَوَیْتُ سُنَّتَ الْاِعْتِکَاف
پیارے اسلامی بھائیو! قرآنِ کریم کا دوسرا پارہ سُورۂ بقرہ کی آیت 142 سے لے کر 252 تک یعنی 110 آیات پر مشتمل ہے۔ آئیے! اس پارے میں بیان ہونے والے مضامین کا خُلاصہ سنتے ہیں:
(1):تبدیلئ قبلہ کا بیان
دوسرے پارے میں سب سے پہلا مضمون تبدیلئ قبلہ کا ہے۔ ہجرت کے بعد ہمارے پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے16يا 17 مہینے تک مسجدِ اقصیٰ کی طرف رُخ کر کے نماز ادا فرمائی۔([1]) دِل پاک میں یہ تمنّا تھی کہ کعبہ شریف کو قبلہ بنا دیا جائے، ایک روز جب آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نماز پڑھا رہے تھے، اسی تمنّا کے تحت آسمان کی طرف نگاہ اُٹھائی، رَبِّ کریم کو اپنے محبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی اَدا پسند آئی ، دورانِ نماز ہی وحی بھیجی، فرمایا:
قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِۚ-
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان:ہم تمہارے چہرے کا