Dars e Taraveeh - 02 Ramazan - Para 02

Book Name:Dars e Taraveeh - 02 Ramazan - Para 02

ہے۔ قرآنِ کریم نے اس مقام پر  ہمیں دَرْس ہی یہی دیا کہ وہ لوگ جو خُود اَہْلِ عقل نہیں ہیں، خُود ہدایت پر نہیں ہیں، ان کے پیچھے چلنا سراسر بےعقلی ہے، ہاں! جو اَہْلِ عقل ہیں، ہدایت پر ہیں، حق کی راہ پر چل رہے ہیں، ان کے پیچھے لازمی چلنا چاہئے۔

نیکی کا مفہوم

اِسی ضمن میں نیکی کا مفہوم بھی بیان ہوا؛ زمانۂ جاہلیت میں یہ دَسْتُور تھا کہ جب کوئی حج کا اِحْرام باندھ لیتا، اب اسے اگر گھر آنے کی ضرورت پیش آتی تو گھر کے دروازے سے نہیں آتا تھا بلکہ گھر کی پچھلی دِیوار میں سُوراخ کر کے ادھر سے گھر میں داخِل ہوتا اور اس عمل کو نیکی خیال کیا جاتا ہے۔ قرآنِ کریم نے صاف لفظوں میں فرمایا کہ یہ عَمَل ہر گز نیکی نہیں ہے:

وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰىۚ- (پارہ: 2، البقرہ: 189)

تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: ہاں اصل نیک توپرہیزگار ہوتا ہے۔

یعنی نیکی اللہ و رسول کی فرمانبرداری کا نام ہے، تقویٰ و پرہیزگاری کا نام ہے۔  ([1])

اس لحاظ سے بھی دیکھا جائے تو ہمارے معاشرے میں بہت سارے کام ہیں جو نیکی سمجھ کر کئے جاتے ہیں، حالانکہ ان کا نیکی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، مثال کے طور پر *ہمارے ہاں گوشت لے کر بچوں کے سَر سے گھما کر قبرستان میں پھینک دیا جاتا ہے، اسے صدقہ کہتےہیں۔ حالانکہ یہ صدقہ نہیں ہے۔ اگر تو قبرستان میں ایسے جانور ہوں جو اس گوشت کو کھا لیں، تب تو ٹھیک ہے، ورنہ وہ گوشت وہاں پڑا رہے گا، ضائع ہو جائے گا، یہ سراسر اِسْراف  (یعنی مال ضائع کرنا) ہے جو نیکی نہیں بلکہ گُنَاہ ہے ([2]) * بعض علاقوں میں


 

 



[1]...تفسیر مدارک، پارہ: 2، البقرہ، تحت الآیت: 189، جلد: 1، صفحہ: 164ملخصاً۔

[2]...فتاوی اہلسنت غیر مطبوعہ، فتوی نمبر: Sar-7078۔