Book Name:Dars e Taraveeh - 02 Ramazan - Para 02
استعمال جب غیر منظم ہوتا ہے تو فتنے پھیلتے ہیں۔ قرآن نے ہمیں دَرْس دیا کہ اُمّتِ وَسَط کی ذِمَّہ داری ہے کہ اپنی طاقت کا استعمال اندھا دھند نہ کرے بلکہ طاقت بھی نظم و ضبط اور اُصُولوں کی پابند رہے۔ ارشاد ہوا:
وَ لَا تَعْتَدُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ(۱۹۰) (پارہ: 2، البقرہ: 190)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: اور حد سے نہ بڑھو ، بیشک اللہ حد سے بڑھنے والوں کوپسند نہیں کرتا۔
یعنی اگر کسی کو سزا بھی دینی ہے، کسی سے بدلہ بھی لینا ہے تو اس میں حَدْ سے نہیں بڑھنا۔ نظم و ضبط کے اندر ہی رہنا ہے۔
مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ حضرت مولیٰ علی رَضِیَ اللہ عنہ کا مشہور واقعہ ہے، ایک مرتبہ آپ حالتِ جنگ میں تھے، کسی غیر مسلم کے ساتھ لڑائی ہو رہی تھی، آپ نے اس غیر مسلم کو نیچے گرایا، قریب تھا کہ اس کا سَر تَن سے جُدا کر دیتے، اسی وقت اس غیر مسلم نے آپ پر تھوک پھینک دیا۔ بس یہ جسارت ہونے کی دَیْر تھی، آپ نے اسے چھوڑا اور ایک طرف کو ہو گئے۔ وہ بڑا حیران ہوا کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ پوچھا تو فرمایا: میں تم سے صِرْف و صِرْف اللہ پاک کی رضا کے لئے لڑ رہا تھا۔ جب تم نے مجھ پر تھوک پھینکا تو ذاتی غصّہ بھی اس میں شامِل ہو گیا، لہٰذا میں پیچھے ہٹ گیا تاکہ اس لڑائی میں نفسانی جذبہ شامِل نہ ہو جائے۔ اتنا سننا تھا کہ وہ غیر مسلم اسی وقت کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا۔ ([1])
سُبْحٰنَ اللہ! کتنی پیاری بات ہے۔ یہ ہے طاقت کا منظم استعمال۔ یونہی خوامخواہ آستینیں چڑھانا * تم جانتے نہیں ہو میں کون ہوں کہہ کر آنکھیں دکھانا۔ یہ رویّہ اُمّتِ وَسَط کے اسٹیٹس (Status)کے بالکل خِلاف ہے۔