Istiqbal e Ramazan

Book Name:Istiqbal e Ramazan

حضرت ابوسعیدخُدْریرَضِیَ اللہُ  عَنْہُ  سے روایت ہے:ایک مرتبہ نبی رحمت شفیع امت صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ  وَسَلَّمَ نے یکُم رَمَضَان سے 20 رَمَضَان تک اِعتِکاف کرنے کے بعدارشادفرمایا: میں نے شبِ قدرکی تلاش کیلئے رَمَضَان کے پہلے عَشرہ کا اِعتِکاف کیا، پھردرمیانی عَشرہ کا اِعتِکاف کیا،پھرمجھے بتایاگیاکہ شبِ قَدرآخِری عَشرے میں ہے،لہٰذا تم میں سے جو شخص میرے ساتھ اِعتِکاف کرنا چاہے وہ کر لے ۔(  مسلم ص۵۹۴حدیث۱۱۶۷)

پیارے اسلامی بھائیو!ہمیں بھی اگر ہر سال نہ سہی کم ازکم زندَگی میں ایک بار اِس ادائے مصطَفٰے کو ادا کرتے ہوئے پورے ماہِ رَمَضَانُ الْمُبَارَک  کا اِعتِکاف کرلینا چاہئے۔

ویسے بھی مسجِد میں پڑارہنابَہُت بڑی سَعادَت ہے اور مُعتَکِف  کی توکیا ہی بات ہے کہ رضائے اِلٰہی پانے کیلئے اپنے آپ کوتمام مشاغِل سے فارِغ کرکے مسجِدمیں ڈیرے ڈال دیتا ہے۔فتاویٰ عالمگیری میں ہے:اِعتِکاف کی خوبیاں بالکل ہی ظاہِرہیں کیونکہ اس میں بندہ اللہپاک کی رِضا حاصل کرنے کیلئے کُلِّیَّۃً (یعنی  مُکَمَّل طور پر ) اپنے آپ کو اللہپاک کی عبادت میں مُنْہَمِک(مُنْ۔ہَ۔مِکْ) کر دیتا ہے اوراُن تمام مَشَاغِلِ دُنیا سے کَنارَہ کَش ہوجاتاہے جواللہپاک کے قُرب کی راہ میں حائل ہوتے ہیں اور  مُعتَکِف  کے تمام اوقات حَقِیْقَۃً یا حُکْمًا نَماز میں گزرتے ہیں۔(کیونکہ نَماز کا انتِظار کرنابھی نمازکی طرح ثواب رکھتا ہے) ، اِعتِکاف کا مقصودِ اصلی جماعت کے ساتھ نَماز کا انتِظار کرناہےاور مُعتَکِف  اُن(فِرِشتوں)  سے مُشابَہَت رکھتاہے جو اللہ پاک کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے،جوکچھ انہیں حُکم ملتاہے اسے بجا لاتے ہیں اوراُن کے ساتھ مُشابَہَت رکھتاہے جوشب و روز اللہ پاک کی تسبیح(پاکی)بیان کرتے رَہتے ہیں اور اس سے اُکتاتے نہیں ۔  (فتاوی عالمگیری ج۱ ص۲۱۲)

حضرت عَطاء خُراسانی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ  فرماتے ہیں:”  مُعتَکِف  کی مِثال اُس شخص کی سی ہے جو اللہ پاک کے درپر آپڑا ہواوریہ کہہ رہا ہو”اے رب کریم!جب تک تُو میر ی مغفرت نہیں فرما دےگامیں