Book Name:Istiqbal e Ramazan
اور خُوش ہوجا۔اور اے شریر!شَر سے باز آجااور عِبْرت حاصِل کر!،ہے کوئی مغفِرت کا طالِب؟ کہ اُس کی طَلَب پُوری کی جائے!،ہے کوئی تَوبہ کرنے والا؟کہ اُس کی تَوبہ قَبول کی جائے!، ہے کوئی دُعا مانگنے والا؟کہ اُس کی دُعا قَبول کی جائے،ہے کوئی سائل؟کہ اُس کا سُوال پورا کیا جائے!۔اللہ پاک رَمَضَانُ الْمُبَارَک کی ہرشب میں اِفطار کے وَقت ساٹھ ہزار(60,000) گُناہگاروں کو دوزخ سے آزاد فرما دیتا ہےاور عید کے دِن سارے مہینے کے برابر گُناہگاروں کی بخشِش کی جاتی ہے۔ (اَلدُّرالمَنْثُورج۱ ص۱۴۶)
پیارے اسلامی بھائیو!ماہِ رَمَضَان کی گھڑیاں کتنی بابرکت ہیں کہ ہرلمحہ بندوں میں رحمت و مغفرتِ اِلٰہی تقسیم ہورہی ہے ۔ یہ وہ ماہِ مُقدّس ہے جس کے دن روزوں میں اور راتیں تلاوتِ کلامِ پاک میں صَرْف ہوتی ہیں اور یہ دونوں چیزیں یعنی روزہ اور قُرآن روزِ مَحْشَر مُسلمان کیلئے شَفاعَت کاسامان بھی فراہم کریں گے ،چُنانچِہ،
رحمتِ عالمیان،سرورِ ذیشان صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں:روزہ اور قرآن بندے کیلئے قِیامت کے دن شَفَاعَت کریں گے۔روزہ عَرض کریگا:اے ربّ ِکریم! میں نے کھانے اور خواہِشوں سے دن میں اِسے روک دیا، میری شَفاعَت اِس کے حَقّ میں قَبول فرما۔ قُرآن کہے گا : میں نے اِسے رات میں سونے سے باز رکھا،میری شَفَاعَت اِس کے لئے قَبول کر۔پس دونوں کی شَفاعَتیں قَبول ہوں گی۔ (مُسند امام احمد،۲/۵۸۶،حدیث:۶۶۳۷)
اَمِیْرُالْمُؤمنِین حضرت مولائے کائنات،عَلِیُّ المُرتَضٰی،شیْرِِخُدا کَرَّمَ اللہُ وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں: اگر اللہ پاک کواُمَّتِ مُحَمَّدِیہ پر عذاب کرنا مَقْصُود ہوتا تَو ان کو رَمَضَان اور سُورۂ ”قُل ْ ھُوَ اللہُ “ شریف ہرگِز عِنایت نہ فرماتا۔
(فیضان سنت، ص۸۷۴)