Book Name:Istiqbal e Ramazan
مَرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَؕ-یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ٘-وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(۱۸۵) (پ۲، البقرۃ: ۱۸۵)
یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوں میں رکھے۔اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دُشواری نہیں چاہتا اور ( یہ آسانیاں اس لئے ہیں ) تاکہ تم (روزوں کی) تعداد پوری کرلو اور تاکہ تم اس بات پر اللہ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت دی اورتاکہ تم شکر گزار بن جاؤ۔
پیارے اسلامی بھائیو!اس آیتِ مُقَدَّسَہ کے اندر اللہ پاک نے ماہِ رَمَضَان میں روزے رکھنے کا حُکم بھی فرمایا ہے۔یاد رہے!تَوحِیدو رِسَالت کا اِقْرارکرنے اور تمام ضَروریاتِ دِین پر ایمان لانے کے بعدجس طرح ہر مُسلمان پر نَماز فَرْض قراردی گئی ہے، اسی طرح رَمَضَان شریف کے روزے بھی ہر مُسلمان(مَرد وعورت)عاقِل وبالِغ پر فَرض ہیں۔دُرِّمُخْتارمیں ہے:روزے دس(10) شَعْبَانُ الْمُعَظَّم۲ھ کو فرض ہوئے۔(دُرِّمُخْتار مع رَدُّالْمُحْتار ج۳ص۳۳۰)
پیارے اسلامی بھائیو!اِسلام میں اکثر اَعمال کسی نہ کسی رُوح پَروَر واقِعے کی یاد تازہ کرنے کے لئے مُقَرَّر کئے گئے ہیں،مَثَلاً صَفا اور مَروَہ کے درمیان حاجیوں کی سَعْی حضرت ہاجِرَہ رَضِیَ اللہُ عَنْہا کی یاد گار ہے۔ آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہا اپنے لَخْتِ جِگر حضرت اِسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام کیلئے پانی تلاش کرنے کیلئے اِ ن دونوں پہاڑوں کے درمیان سات بار چلی اور دَوڑی تھیں۔ اللہ پاک کو حضرت ہَاجِرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہا کی یہ اَدَا پسند آگئی ، لہٰذا اِسی سُنّتِ ہاجِرہ کواللہپاک نے باقی رکھتے ہوئے حاجیوں اور عمرہ کرنے والوں کے لئے صَفَا ومَر وَہ کی سَعْی کو واجِب کردیا۔اِسی طرح ماہِ رَمَضَانُ الْمُبَارَک میں سے کچھ دن ہمارے پیارے سرکار، مکّے مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے غارِ حِرا میں گُزار ے تھے۔اِس دَوران آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ دن کو کھانے سے پرہیز کرتے اور رات کوذِکْرُ اللہ میں مشغُول رہتے تھے۔تو اللہ پاک نے اُن دِنوں کی یا د تازہ کرنے کیلئے روزے فَرض کئے تاکہ اُس کے مَحبوب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ