Book Name:Istiqbal e Ramazan
ہے۔ ([1]) اے عاشقانِ رسول! ہر کام سے پہلے اچھی اچھی نیتیں کرنے کی عادت بنائیے کہ اچھی نیت بندے کو جنت میں داخِل کر دیتی ہے۔ بیان سننے سے پہلے بھی اچھی اچھی نیتیں کر لیجئے! مثلاً نیت کیجئے! *عِلْم حاصل کرنے کے لئے پورا بیان سُنوں گا * با اَدب بیٹھوں گا *دورانِ بیان سُستی سے بچوں گا *اپنی اِصْلاح کے لئے بیان سُنوں گا *جو سُنوں گا دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارےاسلامی بھائیو! ماہِ شعبان المعظم کے آخری آخری دن ہیںاللہ پاک نے چاہا تو بہت جلدہم رمضان کی بہاریں لوٹ رہیں ہوں گےآئیے!رمضان کےعظیمُ الشان فضائل سنتےہیں۔
امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی مایہ ناز تصنیف”فیضانِ رمضان(مُرَمَّمْ)“کے صفحہ نمبر35 پر تحریر فرماتے ہیں:حضرت عبدُاللہ اِبنِ عبّاس رَضِیَ اللہُ عَنْہُما سے مَروی ہے کہ رحمتِ عالَم ، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ مُعظَّم ہے: جب رَمَضَان شریف کی پہلی تاریخ آتی ہے تَو عرشِ عظیم کے نیچے سے مُـثِیْرہ ( مُ۔ثِی۔رَہ) نامی ہَوا چلتی ہے جو جَنّت کےدرختوں کے پتّوں کو ہِلاتی ہے۔اِس ہَوا کے چلنے سے ایسی دِلکش آواز بُلند ہوتی ہے کہ اِس سے بِہتر آواز آج تک کِسی نے نہیں سُنی۔اِس آواز کوسُن کربڑی بڑی آنکھوں والی حُوریں ظاہِر ہوتی ہیں یہاں تک کہ جنَّت کے بُلند مَحَلّوں پر کھڑی ہوجاتی ہیں اور کہتی ہیں:ہے کوئی جو ہم کو اللہ پاک سے مانگ لے کہ ہمارا نکاح اُس سے ہو؟ پھر وہ حُوریں داروغَۂ جنّت (حضرت)رضوان(عَلَیْہِ السَّلَام)سے پوچھتی ہیں:آج یہ کیسی رات ہے؟ (حضرت) رضوان(عَلَیْہِ السَّلَام)جواباً تَلْبِیَہ(یعنی لَبَّیـْک)کہتے ہیں، پھر کہتے ہیں:یہ ماہِ رَمَضَان کی پہلی رات ہے، جنَّت کے دروازے اُمّتِ مُحمّدِ یہ کے روزے داروں کیلئے کھول دئیے گئے ہیں۔(الترغیب والترہیب