Book Name:Istiqbal e Ramazan
اعتکاف کی سُنتیں اور آداب
پیارے اسلامی بھائیو!آئیے!اعتکاف کی سُنتیں اور آداب کے بارے میں چند مدنی پھول سُننے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔پہلے 2فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ کیجئے۔ (1)فرمایا:جس شخص نے ایمان کےساتھ ثواب حاصل کرنے کی نیَّت سے اعتِکاف کیا اس کے تمام پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔(جامع صغیر، ص۵۱۶،حدیث۸۴۸۰)(2)فرمایا:جس نے رمضان المبارک میں دس دن کا اعتکاف کر لیا وہ ایسا ہے جیسے دو حج اور دو عمرے کئے۔ (شعب الایمان،الرابع والعشرین من شعب الایمان، ۳/۴۲۵،حدیث:۳۹۶۶)*رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف سنت مؤکدہ علی الکفایہ ہے،اگر سب ترک کر یں تو سب سے مطالبہ ہو گا اور شہر میں ایک نے کر لیا تو سب بَریُّ الذِّمہ ہو جائیں گے۔(فیضان رمضان،ص ۲۳۵)* نفلی اعتکاف کے لئے نہ روزہ شرط ہے نہ کوئی وقت کی قیدجب بھی مسجد میں داخل ہوں اعتکاف کی نیت کر لیجئے۔(فیضان رمضان،ص ۲۳۵ملخصاً) *رمضان المبارک میں اعتکاف کرنے کا سب سے بڑا مقصد شبِ قدر کی تلاش ہے۔( فیضان رمضان، ص ۲۳۲) *سب سے افضل مسجد حرم شریف میں اعتکاف ہےپھر مسجد نبوی عَلٰی صَاحِبِھَا الصَّلاۃُ وَ السَّلام میں پھر مسجد اقصی (یعنی بیتُ المقدس) میں پھر اس میں جہاں بڑی جماعت ہوتی ہو۔(فیضان رمضان، ص ۲۴۰) *اعتکاف کی وجہ سے جن نیکیوں سے محروم ہوگیا جیسے زیارت قبور، مسلمانوں سے ملاقات، بیمار کی مزاج پُرسی،نماز جنازہ میں حاضری اسے ان سب نیکیوں کا ثواب اسی طرح ملتا ہے جیسے یہ کام کرنے والوں کو ثواب ملتا ہے۔(مرآۃ المناجیح،۳/۲۱۷) *اسلامی بہنیں مسجدبیت میں اعتکاف کریں، مسجد بیت اس جگہ کو کہتے ہیں جو عورت گھر میں اپنی نماز کے لئے مخصوص کر لیتی ہے۔(فیضان رمضان،ص ۲۸۹) *اعتکاف کے دوران دو وجوہات کی بنا پرمسجد سے باہر نکلنے کی اجازت ہے (1)حاجتِ شرعی(2)حاجتِ طبعی۔ حاجتِ شرعی مثلا نماز جمعہ ادا کرنے کے لئے جانا۔
(فیضان رمضان،ص ۲۶۵)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد