Book Name:Istiqbal e Ramazan
حضرت عبدُ اللہ بن اَبِیْ اَوْفٰی رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے روایت ہے،مدینے کے تاجور،دلبروں کے دلبر،محبوبِ ربّ ِاکبرصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ مُنَوَّر ہے:روزہ دار کا سونا عبادت اور اس کی خاموشی تسبیح کرنا اور اس کی دعا قَبول اور اس کا عمل مقبول ہوتا ہے۔(شُعَبُ الْایمان،۳ /۴۱۵، حدیث: ۳۹۳۸)سُبْحٰنَ اللہ ! روزہ دار کس قَدَر خوش نصیب ہے کہ اُس کا سونا بند گی ،خاموشی تسبیحِ خُداوندی ، دعائیں اور اعمالِ حَسَنہ مقبولِ بارگاہِ اِلٰہی ہیں۔
اُمُّ الْمُؤمنِین حضرت عائِشہ صِدّیقہرَضِیَ اللہُ عَنْہا فرماتی ہیں:میرے سرتاج،صاحِبِ مِعراج صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان ہے:جو بندہ روزہ کی حالت میں صُبح کرتا ہے، اُس کے لئے آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں،اس کے اَعْضا ء تسبیح کرتے ہیں اور آسمانِ دُنیا پر رَہنے والے (فِرِشتے) اس کے لئے سورج ڈوبنے تک مغفِرت کی دُعا کرتے رہتے ہیں۔اگروہ ایک یادو(2) رکعتیں پڑھتا ہے تو یہ آسمانوں میں اس کے لئے نُوربن جاتی ہیں اور حُورِعِین(یعنی بڑی آنکھوں والی حوروں ) میں سے اُس کی بیویاں کہتی ہیں:اے اللہ پاک تُو اس کو ہمارے پاس بھیج دے، ہم اس کے دِیدار کی بَہُت زِیادہ مُشتاق (خواہش مند) ہیں اور اگر وہ لَآاِلٰہَ اِلَّااللہُ یا سُبْحٰنَ اللہیا اللہُ اَکْبَر پڑھتا ہے تو ستّر ہزار (70,000)فِرِشتے اُس کا ثواب سورج ڈوبنے تک لکھتے رہتے ہیں۔(شُعَبُ الایمان ج۳ ص۲۹۹حدیث۳۵۹۱ )
سُبْحٰنَ اللہ!روزہ دار کے تو وارے ہی نِیارے ہیں کہ اُس کے لئے آسمان کے دروازے کُھلیں، اس کے جسْم کے اَعضاء، اللہ پاک کی تسبیح کریں،آسمانِ دنیا پر رہنے والے فرشتے غُرُوبِ آفتاب تک اُس کے لئے دعائے مغفرت مانگیں ،نَماز پڑھے تو اس کے لئے آسمان میں روشنی ہواور بڑی بڑی آنکھوں والی حُوریں جو اُس کے لئے مُقَرَّر ہوئی ہیں،وہ جنّت میں اس کی آمَد کا انتِظار کریں، لَآاِلٰہَ اِلَّا اللہُیاسُبْحٰنَ اللہ