Book Name:Muaaf Karne Ke Fazail
ہمیں کوئی معمولی سی تکلیف بھی پہنچادے،یا ذرا سی بداَخْلاقی کا مظاہرہ کرے تو ہم عَفْو و دَرْگُزر کا دامن ہاتھوں سے چھوڑدیتے ہیں،اُس کے دُشمن بن جاتے اور مختلف طریقوں سے اُس سے بدلہ لینے کی کوشش کرتے ہیں،حالانکہ اگر ہم رحمتِ کونین، نانائے حَسَنَیْن صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی پاکیزہ سیرت کا مطالَعہ کریں تو ہم پر روزِ روشن کی طرح واضح ہوجائے گا کہ حضور عَلَیْہِ السَّلَام بُرائی کا بدلہ بُرائی سے نہیں دیتے تھے بلکہ مُعاف فرمادیا کرتے تھے،چنانچہ
اُمُّ الْمؤمنین حضرت عائشہ صِدّیقہرَضِیَ اللہُ عَنْہا فرماتی ہیں،رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نہ تو عادَۃً بُری باتیں کرتے تھے اورنہ تَکَلُّفاً،نہ بازاروں میں شورکرنے والے تھے اورنہ ہی بُرائی کا بدلہ بُرائی سے دیتے تھے بلکہ حضور مُعاف کرتے اور دَرگُزر فرمایا کرتے تھے۔( تِرمِذی، ۳/۴۰۹، حدیث:۲۰۳۳)
جس کی شاندار مثال فتحِ مکّہ کا واقعہ ہے کہ مکّہ فتح ہونے سے پہلے جن کُفّارِ بَدْ اَطوار کی طرف سے رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور صحابَۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان پر زمین تنگ کردی گئی تھی،طرح طرح کی دَرْدناک تکلیفیں دی گئی تھیں،مکّہ فتح ہونے اور مسلمانوں کو غَلَبہ حاصِل ہونے کے بعد دیگر قیدیوں کے ساتھ ساتھ تکلیفیں دینے والے اُن خونخوار درندوں کو بھی گرفتار کرکے بارگاہِ مُصْطَفٰے میں حاضِر کِیا گیا تھا، اگر اُس موقع پر کوئی اور دُنْیوی حاکم ہوتا تو شاید اُن کے لئے سخت سے سخت سزائیں تجویز کرتا، مگر قربان جائیے!نبیِّ پاک صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اُنہیں بھی مُعافی سے سرفرازفرمایا،چنانچہ
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
فتحِ مکّہ کے دن عام مُعافی کا اِعلان
۸ ھ میں جب مکّہ فتح ہوا تو تاجدارِ دوعالَم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے شہنشاہِ اِسلام کی حَیْثیت سے حرمِ