Book Name:Muaaf Karne Ke Fazail
حسرت ہوگی۔ پساللہ پاک چاہے تو اُنہیں عذاب دے اور چاہے تو بخش دے۔([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
فرمانِ مصطفےٰ صَلّی اللہُ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم :اَفْضَلُ الْعَمَلِ اَلنِّيَّۃُ الصَّادِقَۃُ سچی نیت سب سے افضل عمل ہے۔ ([2]) اے عاشقانِ رسول! ہر کام سے پہلے اچھی اچھی نیتیں کرنے کی عادت بنائیے کہ اچھی نیت بندے کو جنت میں داخِل کر دیتی ہے۔ بیان سننے سے پہلے بھی اچھی اچھی نیتیں کر لیجئے! مثلاً نیت کیجئے! *عِلْم حاصل کرنے کے لئے پورا بیان سُنوں گا * با اَدب بیٹھوں گا *دورانِ بیان سُستی سے بچوں گا *اپنی اِصْلاح کے لئے بیان سُنوں گا *جو سُنوں گا دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
امیرِ مُعاوِیہ اور اِبنِ زُبَیر رَضِیَ اللہُ عَنْہُما
منقول ہے کہ حضرت عَبْدُاللہ بِن زُبَیر رَضِیَ اللہُ عَنْہُما کی ایک زمین تھی، جس میں آپ کےغلام کام کیا کرتے تھےاور آپ کی زمین سے مُتَّصِل(مُتْ۔تَ۔صِلْ۔ یعنی بالکل قریب)حضرت امیرِ مُعاوِیہرَضِیَ اللہُ عَنْہُ کی زمین تھی جہاں اُن کے غلام کام کرتے تھے۔ایک مرتبہ حضرت امیرِمُعاوِیہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کا ایک غلام،حضرت عبدُاللہ بِن زُبَیر رَضِیَ اللہُ عَنْہُما کی زمین میں زبردستی گُھس آیا تو آپ نے ایک خَط(Letter)حضرت امیرِ مُعاوِیہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کی طرف لکھا، جس میں یہ تحریر کیا:آپ کاغلام میری زمین میں گُھس آیا ہے،اُسےمنع کیجئے۔ وَالسَّلَام۔ حضرت امیرِمُعاوِیہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے خط پڑھ کر ایک صَفْحہ لیا اور خط کا جواب یوں لکھا:اے حواریِ رسول(رسولِ خدا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے وفادار