Book Name:Muaaf Karne Ke Fazail
ساتھی) کے صاحبزادے!غلام نے جو کیا مجھے اِس کا اَفسوس ہے اور دُنیا کی میرے نزدیک کوئی قَدر و قیمت نہیں۔ میں اپنی زمین آپ کو دیتا ہوں،لہٰذا آپ اُسے اپنی زمین میں شامل کرلیجئے اور اُس میں موجود غلام اور اَموال بھی آپ کے ہوئے۔ وَالسَّلَام“یہ خط جب حضرت عبدُ اللہ بن زُبَیر رَضِیَ اللہُ عَنْہُما کے پاس پہنچا توآپ نے اِس کے جواب میں لکھا: ”میں نے امیرُالمؤمنین رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کا خط پڑھا ہے، اللہ پاک اُن کی عُمْر لمبی کرے!،اُن جیسی شَخْصِیَّت جب تک قُرَیْش میں موجود ہے،قُرَیْش کی رائے بیکار نہیں ہوسکتی۔“یہ خط جب حضرت امیرِ مُعاوِیہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کے پاس پہنچا تو آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے فرمایا:”جو مُعاف کرتاہے، وہ سَرداری کرتاہے،جو بُردْ باری کرتا ہے، وہ عظیم ہوتا ہے اور جو دَرْگُزر کرتا ہے، لوگوں کے دِل اُس کی طرف مائل ہوجاتے ہیں۔“(دین و دنیا کی انوکھی باتیں،ص446ملتقطاًوملخصاً)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! آپ نے سُنا!اللہ والے کس قدر عمدہ خوبیوں کے مالِک ہوتے ہیں! جن کی شَخْصِیَّت میں عاجِزی و اِنکساری،دنیا سے بے رَغبتی،سخاوت،اِیثار،بُردباری اورعفو و دَرگُزر کا جذبہ کُوٹ کُوٹ کر بَھرا ہُوا ہوتا ہے۔یہ حضرات صرف دعووں اور نعروں کی حد تک ہی محدود نہیں ہوتے بلکہ اسلام اِن کی رگ وپے میں رَچ بس چکا ہوتا ہے،یہ حضرات اپنی ذات کے لئے کبھی بھی کسی سے بدلہ نہیں لیا کرتے،بالفرض اگر کوئی اِن کے ساتھ سختی سے پیش آتا بھی ہے تو یہاللہ والے آپے سے باہر ہونے کے بجائے اپنے مَدِّ مقابِل کے ساتھ بھی شفقت و مہربانی والا سُلوک ہی فرماتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا میں اِن کی شان و عظمت کے چرچے ہورہے ہیں،جب اِن عظیم ہستیوں کا ذِکْرِ خَیْر ہوتا ہے تو زبانوں پررَضِیَ اللہُ عَنْہُ یا رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ جاری ہوجاتا ہے۔اے کاش!اِن عظیم ہستیوں کے صَدقے میں ربِّ کریم ہمیں بھی مسلمانوں کو مُعاف کرنے اور مُعاف کرکے اِس کا ثواب حاصل کرنے کی سعادت پانے کا جذبہ نصیب فرمائے۔یادرہے!غُصّے کو پی جانا اور لوگوں سے دَرگُزر کرنا ایسا بہترین عمل ہے کہ جو خوش نصیب