Book Name:Muaaf Karne Ke Fazail
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
قبرستان کی حاضری کی سنتیں اور آداب
پیارے اسلامی بھائیو!آئیے!شیخ طریقت،امیرِ اَہلسُنّت دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے رسالے 163مدنی پھول صفحہ نمبر36سے قبرستان کی حاضری کی سنتیں اور آداب سنتے ہیں۔پہلے ایک فرمان مُصْطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ سنیئے ،فرمایا:میں نے تم کو زیارتِ قُبُور سے منع کیا تھا، اب تم قبروں کی زیارت کرو کہ وہ دُنیا میں بے رغبتی کا سبب ہے اور آخِرت کی یاد دلاتی ہے۔( اِبن ماجہ،۲/۲۵۲، حدیث۱۵۷۱)*(وَلِیُّ اللہ کے مزار شریف یا)کسی بھی مسلمان کی قَبْر کی زیارت کو جانا چاہے تو مُستَحَب یہ ہے کہ پہلے اپنے مکان پر(غیر مکروہ وقت میں)دو(2)رَکْعَت نَفْل پڑھے،ہر رَکْعَت میں سُوْرَۃُ الْفاتِحَہ کے بعد ایک(1)بار اٰیۃُ الْکُرسِیْ،اور تین(3)بار سُوْرَۃُ الْاِخْلاص پڑھے اور اس نَماز کا ثواب صاحبِ قَبْرکو پہنچائے،اللہ پاک اُس فوت شدہ بندے کی قَبْر میں نور پیدا کریگا اور اِس(ثوا ب پہنچانے والے) شخص کو بَہُت زیادہ ثواب عطا فرمائے گا۔(فتاوی ہندیہ،۵/۳۵۰)*مزارشریف یا قَبْر کی زیارت کے لئے جاتے ہوئے راستے میں فُضُول باتوں میں مشغول نہ ہو۔(ایضاً)*قبرِستان میں اس عام راستے سے جائے، جہاں ماضی میں کبھی بھی مسلمانوں کی قبریں نہ تھیں، جوراستہ نیابناہواہو اُس پرنہ چلے۔ ’’رَدُّالْمُحتار “میں ہے:(قبرِستان میں قبریں پاٹ کر)جونیاراستہ نکالا گیاہو اُس پرچلنا حرام ہے۔(رَدُّ الْمُحتار ،۱/۶۱۲) بلکہ نئے راستے کا صِرف گمان ہو تب بھی اُس پر چلنا ناجائز وگناہ ہے۔(دُرِّ مُختار ،۳/۱۸۳)
(اعلان )
قبرستان کی حاضری کے بقیہ مدنی پھول تربیتی حلقوں میں بیان کیے جائیں گے لہٰذا ان کو جاننے کیلئے تربیتی حلقوں میں ضرور شرکت کیجئے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد