Book Name:Muaaf Karne Ke Fazail
کی وَعید ہے۔چنانچہ
حضرت امام بَیْہَقِی شافِعی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ”فَضائِلُ الْاَوقات“میں نقل کرتے ہیں: رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عبرت نشان ہے:6آدمیوں کی اس رات بھی بخشش نہیں ہوگی: (1) شراب کا عادی،(2)ماں باپ کا نافرمان،(3)بدکاری کا عادی،(4)(رشتے داروں سے)تَعَلُّق توڑنے والا، (5) تصویر بنانے والا}یادرہے!یہ حکم ڈیجیٹل تصاویر(Digital Pictures)کا نہیں ہے ۔ان کاپرنٹ آؤٹ نہیں کیاجاتا بلکہ اس سے مراد جاندارکی وہ تصاویرہیں جوپرنٹڈ(Printed)ہوں{اور(6)چغل خور۔(فضائل الاوقات ،۱/۱۳۰،حدیث: ۲۷)
لہٰذا شبِ بَرَاءَت کے آنے سے پہلے بلکہ آج اور ابھی سے ان تمام گناہوں سے سچی توبہ کرلینی چاہئے،اگربندوں کے حقوق دبائے ہیں تو توبہ کے ساتھ ساتھ ان کی مُعافی تلافی بھی کرنی ہوگی۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو!معاف کرنے میں ایک رکاوٹ غُصّہ بھی ہے۔غُصّہ ایک ایسا مُوذِی مَرَض ہےجو انسان کو مُعاف کرنے پر آمادہ ہی نہیں ہونے دیتا،غُصیلا شخص اپنی ضِد پر اَڑا رہتا ہے کہ فُلاں نے میرا بہت دل دکھایا ہے لہٰذا اُسے مُعاف کرنے کا سُوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ایسوں کی خدمت میں عَرْض ہے کہ غَلَطیاں انسان سے ہی ہوتی ہیں،لہٰذا چھوٹی چھوٹی باتوں پرغُصَّہ کرنا اچھی بات نہیں،مانا کہ فُلاں شخص نے ہمارا بہت دل دکھایا ہوگا لیکن یاد رہے! اگر ہم بدلہ لینے پر قُدرت ہوتے ہوئے بھی اُسے مُعاف کردیں گے تو اللہ پاک بھی ہمیں مُعاف فرمادے گا۔
آئیے!تَرغِیْب کے لئے ایک اِیمان افروز حکایت سنئے اور اپنے اندر سے ناجائز غُصّے کی عادت نکال کراللہ پاک کی رضا حاصِل کیجئے، چنانچہ