Book Name:Muaaf Karne Ke Fazail
ایک آدَمی کی بیوی نے کھانے میں نمک زیادہ ڈالدیا۔ اُسے غُصّہ تو بَہُت آیا مگر یہ سوچتے ہوئے وہ غُصّے کو پی گیا کہ میں بھی تو خطائیں کرتا رَہتا ہوں، اگر آج میں نے بیوی کی خطا پر سختی سے گرفت کی تو کہیں ایسا نہ ہوکہ کل بروزِقِیامت اللہ پاک بھی میری خطاؤں پر گرفت فرمالے ،چُنانچِہ اُس نے دل ہی دل میں اپنی زَوجہ کی خطا مُعاف کردی۔اِنتِقال کے بعد اُس کوکسی نے خواب میں دیکھ کر پوچھا:اللہ کریم نے آپ کے ساتھ کیا مُعامَلہ فرمایا؟اُس نے جواب دیا:گناہوں کی کثرت کے سبب عذاب ہونے ہی والاتھا کہ اللہ پاک نے فرمایا:میری بندی نے سالن میں نمک زیادہ ڈال دیا تھا اور تم نے اُس کی خطا مُعاف کردی تھی، جاؤ میں بھی اُس کے صِلے میں تم کوآج مُعاف کرتا ہوں۔(غصے کا علاج،ص۱۸)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
تیسری رکاوٹ:عِلْمِ دِین اور اچّھی صحبت سے دوری
پیارے اسلامی بھائیو!معاف کرنے میں ایک رُکاوٹ عِلْمِ دین اور اچھی صحبت سے دُوری بھی ہے۔جو بندہ عِلْمِ دین کی دَولت اور اچّھی صحبت کی بَرَکتوں سے محروم ہوتا ہے عموماًایسے شخص کو مُعاف کرنے کی سعادت سے محروم کردینا شیطان کے لئے آسان ہوجاتا ہے۔فی زمانہ عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کا دینی ماحول ہمارے سامنے کُھلی کتاب کی طرح ہے۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ! اِس ماحول سے وابستہ ہونے کی بَرَکت سے ہمیں یہ دونوں نعمتیں مُیَسَّر آسکتی ہیں۔لہٰذاہم سب بھی عِلمِ دین کی دَولت پانے اور اچّھی صُحبت کے فیضان سے مالا مال ہونے کے لئے دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول سے وابستہ رہیں، سُنّتوں بھرے اِجتماعات اورمَدَنی مذاکروں میں پابندی سے شرکت کیجئے،مکتبۃ المدینہ سے جاری ہونے والے کُتُب و رسائل کا مطالعہ کیجئے،مَدْرَسۃُ المدینہ بالِغان میں پڑھئے یا پڑھائیے، دَرْس دیجئے یا اِن میں شرکت