Book Name:Muaaf Karne Ke Fazail
مسلمان یہ عمل بجالاتا ہے اُس کا شُمار رَبِّ کریم کے پسندیدہ بندوں میں ہوتا ہے،چنانچہ
پارہ4سورۂ اٰلِ عِمران کی آیت نمبر134 میں خُدائے حنّان و منّان کا فرمانِ باقرینہ ہے:
وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِؕ-وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ(۱۳۴) (پ 4،آل عمران : 134)
تَرْجَمَۂ کنز العرفان :اور غُصَّہ پینے والے او ر لوگو ں سے دَرگُزرکرنے والے ہیں اور اللہ نیک لوگوں سے محبت فرماتا ہے۔
اِسی طرح پارہ18 سُورۂ نُور کی آیت نمبر22 میں اِرْشاد ہوتا ہے:
وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْاؕ-اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۲۲) (پ 18 ، النور:22)
تَرْجَمَۂ کنز العرفان :اورانہیں چاہئے کہ مُعاف کردیں اور دَرگُزر یں کیاتم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہاری بخشش فرمادے اور اللہ بخشنے والامہربان ہے۔
پیارے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا! لوگوں کی غلطیوں سے درگزر کرنا ربِّ کریم کو بہت پسند ہے۔یاد رہے!شیطان اِنسان کا اَزَلی دشمن ہے،اُسے ہرگز یہ گوارا نہیں کہ مسلمان آپس میں مُتَّحِد رہیں، ایک دوسرے کی خیر خواہی کریں،ایک دوسرے کی عزّت و ناموس کے مُحافِظ بنیں، ایک دوسرے کی غَلَطیوں کو نظر انداز کریں،اپنے اندر برداشت کا مادہ پیدا کریں،اپنے حُقوق مُعاف کردیا کریں، دوسرے کے حُقوق کا لحاظ رکھیں،ایک دوسرے کے ساتھ تعاوُن کریں وغیرہ،کیونکہ اگر ایسا ہوگیا تو مُعاشَرہ اَمْن کا گہوارہ بن جائے گا اور شیطان ناکام و نامراد ہوجائے گا۔اِس لئے وہ مسلمانوں کو مُعاف کرنے اور غُصّے پر قابو پانے نہیں دیتا،لہٰذا شیطان کی مُخالَفَت کرتے ہوئے اُس کے وار کو ناکام بنادیجئے اور دَرگُزر کرنا اِختیار کیجئے۔یاد رہے! کسی مسلمان سے غَلَطی ہوجانے پر اُسے معاف کرنااگرچہ نفس پر نہایت دشوار ہے،لیکن اگر ہم عَفْو و دَرگُزر کے فضائل کو پیشِ نظر رکھیں گے تواللہ پاک کی طرف سے اِنعام و اِکرام کے حقدار قرار پائیں گے۔اِنْ شَآءَ اللہ