Muaaf Karne Ke Fazail

Book Name:Muaaf Karne Ke Fazail

اَنْصارو مُہاجرین کی غَضَب ناک فوجیں ہمارے بچّے بچّے کو خاک و خُون میں مِلاکر ہماری نَسْلوں کو نِیْسْتْ و نابُود کر ڈالیں گی اور ہماری بستیوں کو تاخْتْ و تاراج(تباہ وبرباد)کرکے تہس نہس کر ڈالیں گی،اُن مُجرموں کے سِینوں میں خوف و دہشت کا طُوفان اُٹھ رہا تھا۔ دَہْشَتْ اور ڈر سے اُن کے بدنوں کی بوٹی بوٹی پَھڑک رہی تھی،دل دَھڑک رہے تھے، کلیجے مُنہ میں آگئے تھے ۔ اِسی مایوسی اور نااُمّیدی کی خطرناک فَضا میں ایک دَم شَہَنْشاہِ رِسالت صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نگاہِ رحمت اُن کی طرف مُتوَجّہ ہوئی اور اُن مُجرِموں سے آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے پوچھا کہ بولو! تم کو کچھ معلوم ہے کہ آج میں تم سے کیا مُعامَلہ کرنے والا ہوں؟ اس دَہْشَتْ اَنگیز اور خوفناک سوال سے مُجرِم حواس باخْتہ ہو کر کانپ اُٹھے،لیکن جَبینِ رحمت کو دیکھ کر سب یَک زبان ہوکر بولے کہ آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ بڑے کرم والے ہیں ۔ 

سب کی للچائی ہوئی نظریں جَمال ِنُبُوَّت کا منہ تَک رہی تھیں اور سب کے کان شہنشاہِ نُبُوَّت کا فیصلہ کُن جواب سُنْنے کے مُنْتَظِر تھے کہ اک دَم فاتحِ مکّہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے کریمانہ لہجے میں ارشاد فرمایا :لَاتَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ فَاذْھَبُوْا اَنْتُمُ الطُّلَقَآءُآج تم پر کوئی اِلزام نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔

بالکل غیرمُتوقع طورپر اچانک یہ فرمانِ رِسالت سُن کر سب مُجرِموں کی آنکھیں فرطِ نَدامت سے اَشکبار ہوگئیں اور اُن کی زبانوں پر جاری ہونے والے لَاۤاِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ  اللہ کے نعروں سے حرمِ کعبہ کے درودِیوار پر ہر طرف اَنْوار کی بارش ہونے لگی۔ ([1])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                                 صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

پیارے اسلامی بھائیو!اگر ہم انبیا و مُرسلین عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام،صحابہ و تابعینرَضِیَ اللہُ عَنْہُم اَجْمَعِیْن کے ساتھ ساتھ بُزرْگانِ دِینرَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہمْ اَجْمَعِیْن کی سیرت کا مُطالَعہ کریں تو ان کی سیرت سے بھی ہمیں دَرگُزر کے حوالے سے بہت سے مَدَنی پھول ملیں گے،اللہ  پاک اپنے اِن مُقَرَّب بندوں کو جہاں


 

 



[1] سیرتِ مصطفی،۴۳۷تا۴۴۱ملخصاً