Book Name:Muaaf Karne Ke Fazail
الٰہی میں سب سے پہلا دربارِعام مُنْعَقِد فرمایا،جس میں اَفْواجِ اِسلام کے علاوہ ہزاروں دُشمنانِ اسلام کا ایک زبردست ہُجوم تھا۔ اِس شہنشاہی خُطْبے میں آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صِرْف اَہلِ مکّہ ہی سے نہیں بلکہ تمام لوگوں سے خطابِ عام فرمایا۔خُطبے کے بعد شہنشاہِ کَونَیْن صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نےاِس ہزاروں کے مَجْمَع میں ایک گہری نگاہ ڈالی تو دیکھا کہ سردارانِ قُریش سَرجُھکائے،نگاہیں نیچی کئے ہوئے،لَرزاں و تَرساں کھڑے ہوئے ہیں۔ اُن ظالموں اور جَفاکاروں میں وہ لوگ بھی تھے،جنہوں نے آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے راستوں میں کانٹے بچھائے تھے۔ وہ لوگ بھی تھے جو بارہا آپ پر پتّھروں کی بارش کرچکے تھے۔ وہ خُونْخَوار بھی تھے جنہوں نے بار بار آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر قاتِلانہ حملے کئے تھے۔ وہ بے رحم و بے دَرْد بھی تھے، جنہوں نے آپ کے دَنْدانِ مُبارَک(کے کچھ حصّے )کو شہید اور آپ کے چہرهٔ اَنْور کو لہولہان کر ڈالا تھا۔ وہ اَوباش بھی تھے جو برسہابرس تک اپنی بُہتان تَراشِیوں اور شرمناک گالیوں سے آپ کے قَلْبِ مُبَارَک کو زَخْمی کرچکے تھے۔ وہ سَفّاک و دَرِنْدہ صِفَت بھی تھے ،جو آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَکے گلے میں چادر کا پھندا ڈال کر آپ کا گلا گھونٹ چکے تھے۔ وہ آپ کے خُون کے پیاسے بھی تھے، جن کی پیاس خُونِ نُـبُوَّت کے سِوا کسی چیز سے بُجھ نہیں سکتی تھی۔ وہ جَفاکار و خُونخوار بھی تھے جن کے جارِحانہ حملوں اور ظالمانہ یَلْغار سے بار بار مدینۂ مُنوَّرہ کے دَر و دِیوار دہل چکے تھے۔ وہ سِتم گار جنہوں نے شَمْعِ نُبُوَّت کے جاں نثار پروانوں حضرت بلال،حضرت صُہَیب،حضرت عَمّار،حضرت خَبَّاب،حضرت خُبَیْب،حضرت زید بن دَثِنَّہرَضِیَ اللہُ عَنْہُم اَجْمَعِین وغیرہ کو رَسّیوں سے باندھ کر کوڑے مار مار کر جلتی ہوئی ریتوں پر لِٹایا تھا،کسی کو آگ کے دہکتے ہوئے کوئلوں پر سُلایا تھا، کسی کو چَٹائیوں میں لپیٹ لپیٹ کر ناکوں میں دھوئیں دئیے تھے،سینکڑوں بار گلا گھُونٹا تھا۔آج یہ سب کے سب دس (10)،بارہ(12)ہزار مُہاجرین و اَنْصار کے لشکر کیحِراست میں مُجرِم بنے ہوئے کھڑے کانپ رہے تھے اور اپنے دلوں میں یہ سوچ رہے تھے کہ شاید آج ہماری لاشوں کو کُتّوں سے نُچوا کر ہماری بوٹیاں چِیل کَوّوں کو کِھلا دی جائیں گی اور