Share this link via
Personality Websites!
مسلمان ہو گیا۔ ( [1] )
مُبَدَّل ہوئے انبیا کے صحائف مُحَرَّف نہ ہو گا صحیفہ تمہارا ( [2] )
وضاحت : دیگر انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلام پر جو صحیفے اور کتابیں نازِل ہوئیں ، اُن کی اُمّتوں نے ان کی قدر نہ کی اور ان میں تبدیلیاں کر ڈالیں مگر اے محبوبِ ذیشان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ! یہ آپ کی شان ہے کہ اللہ کریم نے آپ پر نازِل ہونے والی کتاب یعنی قرآن کریم کی حفاظت خُود اپنے ذِمَّۂ کرم پر لی ہے ، لہٰذا آپ پر اُترنے والی کتاب قرآنِ کریم میں کبھی بھی تبدیلی نہ ہو گی۔
سُبْحٰنَ اللہ ! یہ پاکیزہ کلام قرآنِ مجید... ! ! الحمد للہ ! یہ مبارک کِتَاب آج صدیوں بعد بھی رسولِ اکرم ، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے سچّا نبی اور اسلام کے سچّا دِین ہونے کی واضِح دلیل ہے۔
پیارے اسلامی بھائیو ! جس دَور میں قرآنِ کریم نازِل ہوا ، یہ اَہْلِ عرب کی فصاحت و بلاغت کے عُرُوج کا زمانہ تھا ، عرب والوں کو اپنی زبان دانی پر بڑا ناز تھا ، یہاں تک کہ یہ اپنے عِلاوہ سب قوموں کو عجمی کہا کرتے تھے ، یعنی ان کا یہ ماننا تھا کہ اَصْل میں کلام کرنا تو ہمیں ہی آتا ہے ، باقی تو سب ہی گونگے ہیں ، جیسی شاعِری ہم کر لیتے ہیں ، ایسی شاعِری کوئی نہیں کر سکتا ، جس انداز اور جس ڈھنگ سے ہم بات کرنا جانتے ہیں ، اس ڈھنگ سے دُنیا کی کوئی ذات کلام نہیں کر سکتی۔
اَہْلِ عرب کا بچہ بچہ بڑا کمال کا شاعِر اور زبان دان ہوتا تھا۔ تاریخ میں ان کی زبان
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami