Book Name:Nematon ka Shukar Ada Karnay ka Tariqa
(4)جب اللہ پاک اپنے بندے پر کوئی نعمت نازل فرماتا ہے اور وہ کہتا ہے : ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہ‘‘تویہ کلمہ اللہ پاک کے نزدیک اسےنعمت دینے سے بہتر ہوتاہے۔ (ابن ماجہ ، کتاب الادب ، باب فضل الحامدین ، ۴/۲۵۰ ، حدیث : ۳۸۰۵)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو ! آپ نے سنا کہ ہمارے پیارےآقا،امامُ الانبیاء صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہم غلاموں سے کس قدرمَحبت فرماتے ہیں اورکس حَسِین انداز میں ہمیں نعمتوں کاشکر ادا کرنے کاطریقہ ارشاد فرمارہے ہیں کہ ایک انسان کوچاہیے کہ وہ دنیوی مُعاملات میں اپنے سے کم مرتبے والوں کو دیکھ کراللہ پاک کا شکر بجالائے جبکہ دینی مُعاملات میں اپنے سے بڑے مرتبے والے کو دیکھ کراس جیسابننے کی کوشش کرےنیز اس کے ساتھ ساتھ نعمت کو محفوظ رکھنے کاوظیفہ بھی ارشاد فرمادیا کہ لَاحَول شریف کی کثرت کرے۔ لہٰذا انسان کوچاہیے کہ اپنے سے زیادہ مالداروں کو دیکھ کر افسوس نہ کرے کہ یہ نعمتیں میرےپاس کیوں نہیں بلکہ اللہ پاک نے جونعمتیں عطافرمائی ہیں ان کوبھی معمولی نہ سمجھے اوراپنے سےزیادہ مفلس وغریب افرادکودیکھ کررضائے الٰہی پر راضی رہتے ہوئے صبروشکر سے زندگی بسر کرے اوراس طرح ذِہْن بنائے کہ اگر اللہ پاک نے کسی کو ہم سے زیادہ نعمتیں عطا فرمائی ہیں تواس میں اس کی کوئی حکمت ضرورپوشیدہ ہوگی ، ہوسکتا ہے اگر یہ نعمتیں مجھے عطا کردی جاتیں تو شاید میرانفس سرکش ہوجاتا اور ان نعمتوں کی ناقدری کرتے ہوئے ان پر شکر اَدا کرنے کے بجائے ناشکری کی آفت میں مبُتلا ہوجاتا،اگر ہم اس طرح ذِہْن بنائیں گے تو اِنْ شَآءَ اللہ ناشکری سے بچنے میں کامیاب ہوں گے۔
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!عموماً انسا ن کی فطرت (Nature)میں یہ بات شَامل ہوتی ہے کہ وہ خوشیوں کے لمحات میں تو نعمتوں کوخوب یاد رکھتا ہے اور اللہ پاک کا شکر بجا لاتا ہے مگر جُونہی معمولی مصیبتوں ، پریشانیوں اور تکلیفوں کا دروازہ کُھلتا ہے تووہ اللہ پاک کی نعمتوں اوراس کی