Share this link via
Personality Websites!
اللہ کی عنایت مرحبا معراج کی عظمت مرحبا
براق کی قسمت مرحبا براق کی سُرعَت مرحبا
اقصیٰ کی شوکت مرحبا نبیوں کی امامت مرحبا
آقا کی رِفعت مرحبا آسماں کی سیاحت مرحبا
مکینِ لا مکاں کی عظمت مرحبا چشمانِ نبوت مرحبا
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
رِوایَت ہے کہ سَفَرِ مِعْراج سے واپسی کے بعد ، اگلے روز سرکارِ عالی وقار ، مکے مدینے کے تاجدار صَلّی اللہُ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم گھر سے باہَر تشریف لائے تو ایک کنیز کو دیکھا جو کندھے پر آٹے کا تھیلہ اُٹھائے ، روتی ہوئی جا رہی تھی ، غم خَوار نبی ، رسولِ ہاشِمی صَلّی اللہُ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم سے دیکھا نہ گیا ، قریب تشریف لائے ، رونے کا سبب پوچھا ، بےچاری غم کی ماری روتے ہوئے بولی : میں فلاں غیر مسلم کی کنیز ہوں ، میرے مالِک نے مجھے چکی پر آٹا پِسْوانے بھیجا ، میں بیمار ہوں ، چلنا دُشْوار ہے ، اس لئے مجھے دیر ہو گئی ، اب ڈرتی ہوں کہ میرا مالِک مجھے تکلیف پہنچائے گا۔
عرش پر جانے والے آقا ، رَبّ کا دیدار پانے والے آقا ، دوجہاں کے داتا صَلّی اللہُ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم سے بےچاری کا غم دیکھا نہ گیا ، فوراً ہی اس سے آٹے کا تھیلہ لیا ، اپنے مُبَارَک کندھوں پر رکھا اور فرمایا : میرے ساتھ آؤ! میں تمہاری سِفَارش کروں گا۔ سرکارِ نامدار ، مکی تاجدار صَلّی اللہُ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم اُس غیر مسلم کے گھر پہنچے ، دروازے پر دستک دی ، غیر مسلم باہَر
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami