Book Name:Faizan e Safar Ul Muzaffar
حضرت عمْروْ بن عاص اور حضرت عثمان بن طلحہرَضِیَ اللہُ عَنْہُم نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکراسلام قبول کیا۔ (الکامل فی التاریخ ، ۲ / ۱۰۹)* مدائن(جس میں کسریٰ کا محل تھا )کی فتح ہوئی۔ (الکامل فی التاریخ ، ۲ / ۳۵۷)* امیرُ المؤ منین حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہُکے دورِ خلافت میں 16 ہجری میں حضرت سعد بن اَبی وقاص رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے ایوانِ کِسرٰی(کسریٰ کے محل) میں جمعہ کی نماز ادا کی اور یہ پہلا جمعہ تھا جو عراق میں پڑھا گیا۔ * صَفَرُالْمُظَفَّر کے مہینے میں سن 11ہجری میں ہی جھوٹی نبوت کے دعویدار اَسْوَد عَنْسی کَذَّابسے مسلمانوں نے نجات پائی۔ (فیضانِ صدیق اکبر ، ص۳۹۱)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! آپ نے سُناکہ صَفَرُالْمُظَفَّر کتنا پیارا مہینا ہے اور اِس مبارک مہینے میں کیسے کیسے عظیمُ الشّان واقعات ہوئے!ذرا سوچئے!جس مُقَدَّس مہینے میں ایسے اہم واقعات ہوئے ہوں وہ مہینا کس طرح منحوس ہوسکتا ہے؟افسوس صد کروڑ افسوس!عِلْمِ دین سے دُوری اور بُری صحبت کے سبب لوگوں کی ایک تعداد صَفَرُالْمُظَفَّر جیسے بارونق اور بابرکت مہینے کو بھی مصیبتوں اور آفتوں کے اُترنے کا مہینا سمجھتی ہے حالانکہ اس کی کوئی حقیقت نہیں اورحق یہی ہےکہ کوئی دن ، تاریخ ، ہفتہ یا مہینا منحوس نہیں ہوتا۔
اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِ سنت مولانا شاہ امام احمد رضا خانرَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہسے ماہِ صفر کے آخری بدھ کے بارے میں سُوال کیا گیا کہ اِس دن عورتیں بطورِسفرشہر سے باہر جائیں اور قبروں پر نیاز وغیرہ دلائیں جائز ہے یانہیں؟ تو آپ نے اِس کا جواب دیتے ہوئے اِرشاد فرمایا : (ایسا ) ہر گز نہ ہو( کہ اِس میں)سخت فتنہ ہےاور چہار شنبہ(بدھ کا دن منانا ) محض بے اصل۔ ( فتاوی رضویہ ، ۲۲ / ۲۴۰)
حکیمُ الْاُمّت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں : بعض لوگ صفر کے آخری