Faizan e Safar Ul Muzaffar

Book Name:Faizan e Safar Ul Muzaffar

نے طریقۂ کار میں  نقصان کی نشاندہی کردی یا اُس کام سے رُک جانے کا کہا تو اُس سے بَدشگونی لیتے ہیں  کہ اب تم نے ٹانگ اڑا دی ہےتو یہ کام نہیں  ہوسکے گا۔ * کبھی ایمبولینس(Ambulance)کی آواز سے تو کبھی فائربریگیڈ(Fire brigade)(آگ بجھانے والی گاڑی ) کی آواز سے بدشگونی میں مُبْتَلا ہوتے ہیں۔ * کبھی اخبارات میں  شائع ہونے والے ستاروں  کے کھیل سے اپنی زندگی کو غمگین کر لیتے ہیں۔ * کبھی مہمان کی رُخصتی کے بعد گھر میں  جھاڑو دینے کو منحوس خیال کرتے  ہیں۔ * کبھی جوتا اُتارتے وَقْت جوتے پر جوتا آنے سے بدشگونی لیتے ہیں۔ * سیدھی آنکھ پھڑکے تو یقین کرلیتے ہیں  کہ کوئی مصیبت آئے گی۔ * عید جمعہ کے دن ہوجائے تو اُسے حکومتِ وقْت پر بھاری سمجھتے ہیں۔ * کبھی بلّی(Cat) کے رونے کو  تو کبھی رات کے وقْت کُتّے کے رونے کو منحوس سمجھتے ہیں۔ * پہلا گاہگ سودا لئے بغیر چلا جائے تو دکاندار اُس سے بَد شگونی لیتا ہے۔ * نئی نویلی دلہن کے گھر آنے پر خاندان کا کوئی شخص فوت ہوجائے یا کسی عورت کی صِرْف بیٹیاں  ہی پیدا ہوں  تو اُس پر منحوس ہونے کا لیبل لگ جاتا ہے۔ * اگرکوئی عورت اُمید سے ہوتو مَیِّت کے قریب نہیں  آنے دیتے کہ بچے پر بُرا اثر پڑے گا۔ *  جوانی میں  بیوہہوجانے والی عورت کو منحوس جانتے ہیں ۔ * یہ کہتے ہیں کہ خالی قینچی چلانے سے گھر میں  لڑائی ہوتی ہے ، *  خالی برتن یا چمچ آپس میں  ٹکرانے سے گھر میں  لڑائی جھگڑا ہوجاتا ہے۔ * جب بادلوں  میں  بجلی کَڑک رہی ہو اور سب سے بڑا بچہ باہر نکلے تو بجلی اس پر گِر جائے گی۔ * بچے کے دانت اُلٹے نکلیں  توننھیال (یعنی ماموں  وغیرہ )پر بھاری ہوتے ہیں۔ * چھوٹا  بچہ کسی کی ٹانگ کے نیچے سے گزر جائے تو اُس کا قد چھوٹا رہ جاتا ہے۔ * بچہ سویا  ہوا ہواُس کے اُوپر سے کوئی پھلانگ کر گزر جائے تو بچے کا قد چھوٹا رہ جاتا ہے۔ *  مغرب کے بعد دروازے میں  نہیں  بیٹھنا چاہئے کیونکہ بَلائیں  گزر رہی ہوتی ہیں۔