Book Name:Seerate Imam Ahmad Bin Hamnbal
نہ پایا۔جب ان کاموں میں شدّت آجاتی تو ایک، دویا تین دن تک کچھ نہ کھاتے۔جب اپنے گھر والوں کو دیکھتے تو پانی پی لیتے جس سے وہ سمجھتے کہ آپ کا پیٹ بھرا ہوا ہے۔
آپ کے بیٹے حضرت عبدُاللہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں:میرے والد ِمحترم ہر رات ایک منزل قرآنِ حکیم پڑھتے اور سات دن میں قرآنِ مجید ختم فرماتے پھر صبح تک کھڑے ہو کر عبادت کرتے رہتے۔آپ ہر دن تین سو(300) رکعت نماز ادا کرتے تھے۔ جب آپ پر کوڑے برسائے گئے تو آ پ کمزور پڑ گئے۔ اور پھر ہر دن ایک سو پچاس(150)رکعت ادا فرماتے تھے۔ آپ تین(3) بار سکون میں آتے اور تین(3) بار آپ کی چیخ بلند ہوتی ۔(حلیۃ الاولیاء،الامام احمد بن حنبل،۹/۱۹۲، رقم:۱۳۶۵۸)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمّد
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!آپ نے سنا کہ مشہورِ زمانہ بزرگ حضرت امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ کس قدر عبادت کیا کرتے تھے۔اب ذرا ہم اپنا احتساب کریں کہ ہمیں نماز، روزوں اور تلاوتِ قرآن سے کتنی مَحَبَّت ہے۔نماز کی اَہَمِّیَّت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:قیامت کے دن بندے کے اعمال میں سے سب سے پہلے نماز دیکھی جائے گی اگر وہ کامل پائی گئی تو وہ بھی اور اس کے سارے اعمال بھی قبول ہوں گے اور اگر اس میں کمی ہوئی تو وہ بھی اور دیگر سب اعمال بھی مردود ہوجائیں گے۔(موطا امام مالک،کتاب قصر الصلاۃ فی السفر،باب جامع الصلاۃ،۱/۱۶۹،حدیث:۴۲۸بتغیر)۔نفل روزے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا: جس نے ایک دن کا نَفْل روزہ رکھا اللہ پاک اُسےدوزخ سے اتنا دُور کردے گا جتنا زمین وآسمان کا درمیانی فاصِلہ ہے۔(معجم کبیر،۱۷/۱۲۰،حدیث:۲۹۵)اور تلاوتِ قرآن کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد