Book Name:Faizan-e-Safar-ul-Muzaffar

حدیث:۱۹۵۱)(2)فرمايا:جس نے اپنے پڑوسی کو اِیذا دی اُس نے مجھے اِیذا دی اور جس نے مجھے اِیذا دی اُس نے اللہ پاک کو اِیذا دی۔(الترغِیب والترہِیب،کتاب البر والصلۃ،باب الترھیب من اذی الجار۔۔۔الخ،۳ /۲۸۶، حدیث:۳۹۰۷ )٭’’نُزہۃُ القاری‘‘ میں ہے: پڑوسی کون ہے اس کو ہر شخص اپنے عُرف اور معاملے سے سمجھتا ہے۔(نزہۃ القاری،۵/۵۶۸)٭امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: پڑوسی کے حُقُوق میں سے یہ بھی ہے کہ اُسے سلام کرنے میں پَہَل کرے۔٭ اُس سے طویل گفتگو نہ کرے ،٭اُس کے حالات کے بارے میں زیادہ پُوچھ گچھ نہ کرے۔٭ وہ بیمار ہو تو اُس کی مزاج پُرسی کرے، ٭مصیبت کے وَقت اُس کی غم خواری کرے اور اُس کا ساتھ دے۔٭ خوشی کے موقع پر اُسے مبارَک باد دے اور اُس کے ساتھ خوشی میں شرکت ظاہِر کرے ۔٭اُس کی لغزِشوں سے در گزر کرے ٭ چھت سے اس کے گھر میں نہ جھانکے ،٭ اُس کے گھر کا راستہ تنگ نہ کرے۔٭ وہ اپنے گھر میں جو کچھ لے جارہا ہے اُسے دیکھنے کی کوشش نہ کرے۔٭اُس کے عیبوں پر پردہ ڈالے، ٭اگر وہ کسی حادِثے یا تکلیف کا شکار ہو تو فوری طور پر اُس کی مدد کرے۔٭جب و ہ گھر میں موجود نہ ہو تو اُس کے گھر کی حفاظت سے غفلت نہ بَرتے۔٭ اُس کے خلاف کوئی بات نہ سُنے اور اُس کے اَہلِ خانہ سے نگاہوں کو نیچی  رکھے۔٭ اُس کے بچّوں سے نَرم گفتگو کرے ،٭ اُسے جن دِینی یا دُنیوی اُمور کا علم نہ ہو، اِن کے بارے میں اُس کی رَہنمائی کرے۔(اِحیاءالعلوم،کتاب آداب الالفۃ ۔۔۔الخ ،باب  فی حق المسلم والرحم ۔۔۔الخ، ۲/۲۶۷،ملخصاً)

طرح طرح کی ہزاروں سُنّتیں سیکھنے کے لئےمکتبۃُ المدینہ کی دو کُتُب،بہارِشریعت حصّہ16 (312صفحات)120 صَفحات کی کتاب”سُنّتیں اور آداب“امیرِ اہلسنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کےدو رسالے ”101 مدنی پھول“اور ”163 مدنی پھول “ھدِيَّةً طلب کیجئے اور پڑھئے۔ سُنّتوں کی تربیّت کا ایک بہترین ذَرِیعہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافِلوں میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ چلنا بھی ہے۔